Column

عالمی کشیدگی اور داخلی سلامتی: برطانیہ کا سخت موقف

عالمی کشیدگی اور داخلی سلامتی: برطانیہ کا سخت موقف
تحریر : انجینئر بخت سید یوسفزئی

برطانیہ میں حالیہ مہینوں کے دوران حکومت کی جانب سے غیر ملکی مذہبی اور سماجی شخصیات کے خلاف کیے جانے والے اقدامات نے ایک وسیع قومی بحث کو جنم دیا ہے، جس کا مرکز آزادیِ اظہار، مذہبی سرگرمیوں اور قومی سلامتی کے درمیان نازک توازن بن چکا ہے۔ تازہ ترین معاملہ اسلامی مبلغ ڈاکٹر شدی المصری کے ملک میں داخلے پر پابندی سے جڑا ہوا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے بعد عالمی سطح پر جذبات شدید ہیں اور یورپی ممالک میں اس تنازع سے جڑے بیانیوں پر غیر معمولی حساسیت پائی جاتی ہے۔ برطانیہ بھی ان حالات کے تناظر میں اپنی داخلی سلامتی پالیسیوں پر سختی سے عمل پیرا نظر آ رہا ہے۔
ڈاکٹر شدی المصری امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں واقع نیو برنسوک اسلامک سینٹر میں ڈائریکٹر برائے تعلیم و کمیونٹی افیئرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے مغربی ممالک میں اسلامی تعلیم، کمیونٹی رہنمائی اور نوجوانوں کی فکری تربیت کے شعبے سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔ وہ صفینہ سوسائٹی کے بانی اور سربراہ بھی ہیں، جو مغربی دنیا میں روایتی اسلامی علوم کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ایک معروف تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے لیکچرز، تعلیمی نشستوں اور فکری پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر شدی المصری برطانیہ کے شہروں برمنگھم، بولٹن اور ایلفورڈ میں لیکچرز دینے والے تھے، جہاں مساجد اور کمیونٹی مراکز میں ان کے استقبال کی تیاریاں مکمل تھیں۔ ان تقریبات کا مقصد مذہبی اور سماجی موضوعات پر گفتگو بتایا گیا تھا۔ تاہم حکومتی مداخلت کے بعد ان تمام پروگراموں کو منسوخ کر دیا گیا، جس کے بعد نہ صرف منتظمین بلکہ مختلف کمیونٹی حلقوں میں بھی تشویش اور سوالات نے جنم لیا۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ڈاکٹر شدی المصری کے سابقہ بیانات، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور عوامی مقف کا بغور جائزہ لیا، جس کے بعد انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق سات اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بعد حماس کے حوالے سے دئیے گئے بعض بیانات تشدد سے جڑے بیانیے کے قریب سمجھے گئے، جو برطانوی پالیسی اور سلامتی کے تقاضوں سے متصادم تھے۔ خاص طور پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ حکومتی تشویش کا باعث بنی، جس میں ڈاکٹر شدی المصری نے کہا تھا کہ اگر حماس کے بارے میں تعلیم دی جا رہی ہے تو خونریزی کے اصل ماخذ پر بھی بات ہونی چاہیے اور یہ کہ تاریخ سات اکتوبر سے شروع نہیں ہوتی۔ اسی بیان میں انہوں نے ہاگاناہ اور ارگن جیسی ابتدائی صیہونی تنظیموں کا حوالہ دیا تھا۔ حکام کے مطابق اس قسم کے تاریخی تقابل موجودہ حالات میں جذبات کو بھڑکانے اور معاشرتی کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ علمی اور تاریخی مباحث اپنی جگہ جائز ہیں، مگر ایسے حساس عالمی ماحول میں غیر محتاط بیانات عوامی نظم و نسق اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ شبانہ محمود نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ کسی مذہب یا مسلم کمیونٹی کے خلاف نہیں بلکہ ایک فرد کے مخصوص بیانات کے تناظر میں کیا گیا ہے، جنہیں ممکنہ سلامتی خطرات سے جوڑا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈاکٹر شدی المصری کا معاملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ایک ماہ قبل بھی وزیر داخلہ نے ایک پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر کا ویزا منسوخ کیا تھا، جب یہ بات سامنے آئی کہ اس نے انتہا پسندانہ تبصرے کیے تھے ۔ یہ پاکستانی انفلوئنسر، توحہٰ ابن جلیل، پاکستان میں ایک مسلم یوتھ کلب کے انتظام میں شامل ہے اور انسٹا گرام پر اس کے تقریباً بیس لاکھ فالوورز ہیں، جس کے باعث اس کے بیانات کو وسیع اثر و رسوخ حاصل ہے۔ توحہٰ ابن جلیل نے برطانیہ میں مساجد، کمیونٹی سینٹرز، ایک یونیورسٹی اور ایک اسکول میں خطاب کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم حکام نے ان کے ماضی کے بیانات کی بنیاد پر ان کا ویزا منسوخ کر دیا۔ حکام کے مطابق توحہٰ ابن جلیل نے ماضی میں تمام مسلمانوں سے فلسطین جا کر ’’ جہاد‘‘ کرنے کی اپیل کی تھی اور اس بات پر شکایت بھی کی تھی کہ پاکستانی شہری ہونے کے باعث وہ اسرائیل میں داخل نہیں ہو سکتے تاکہ مقدس جنگ لڑ سکیں۔
برطانوی حکومت کے نزدیک ایسے بیانات نہ صرف اشتعال انگیز تھے بلکہ براہِ راست تشدد کی ترغیب کے زمرے میں آتے تھے، جس کی بنیاد پر ان کے داخلے کو قومی سلامتی کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ ان فیصلوں کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ برطانوی حکومت سوشل میڈیا پر دئیے گئے بیانات اور آن لائن سرگرمیوں کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے لیتی ہے جتنی کسی عوامی خطاب یا تحریر کو۔ اس تناظر میں گلوبل ریلیف ٹرسٹ نے وضاحت جاری کی کہ ماضی میں کیے گئے کسی بھی متنازعہ تبصرے کا تعلق فردِ واحد سے تھا اور ان کا ادارے یا فلاحی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ تنظیم نے زور دیا کہ ڈاکٹر شدی المصری کی شرکت محض ایک انسانی ہمدردی پر مبنی تقریب کے لیے تھی۔
گلوبل ریلیف ٹرسٹ کے مطابق مذکورہ تقریب کا مقصد مذہبی مکالمہ اور کمزور طبقات کی مدد تھا، نہ کہ کسی سیاسی یا عسکری موقف کی ترویج، اور تنظیم ہر قسم کی انتہاپسندی سے خود کو الگ رکھتی ہے۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی تقریب کی نوعیت سے قطع نظر، مقرر کے ماضی کے بیانات اور عوامی اثر و رسوخ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر ایسے حالات میں جب عالمی سطح پر کشیدگی عروج پر ہو۔
ماہرین کے مطابق حالیہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ برطانیہ اب مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کے حوالے سے زیادہ محتاط اور سخت پالیسی اختیار کر رہا ہے، جہاں آزادیِ اظہار کو سلامتی کے تناظر میں پرکھا جا رہا ہے۔یہ سلسلہ اس وسیع تر سوال کو جنم دیتا ہے کہ مستقبل میں مغربی معاشروں میں مذہبی مقررین، سوشل میڈیا شخصیات اور فکری رہنمائوں کے لیے اظہارِ رائے کی حدود کس حد تک محدود ہو سکتی ہیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی ایسے تمام افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی جن کے بیانات یا سرگرمیاں اس کے نزدیک نفرت، تشدد یا سماجی عدم استحکام کو فروغ دینے کا سبب بن سکتی ہوں، چاہے وہ مذہبی، سیاسی یا سماجی پس منظر رکھتے ہوں۔
یہ فیصلے بلاشبہ متنازعہ ہیں، مگر انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ موجودہ عالمی حالات میں داخلی امن اور سماجی ہم آہنگی کو ہر صورت ترجیح دینے کے عزم پر قائم ہے۔

انجینئر بخت سید یوسفزئی

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

Back to top button