ColumnTajamul Hussain Hashmi

ماں جئی ریاست

ماں جئی ریاست
تحریر : تجمیل حسین ہاشمی
ہمارے استاد اور دوست بھی ہیں ، جناب سجاد اظہر صاحب کمال کے لکھاری ہیں ، کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور انڈیپنڈنٹ اردو کے بہترین کالم نگار ہیں، ایک دن میں نے ان کو فون کیا تو مجھے کہنے لگے یار ہم کئی، کئی کتابوں کے مصنف ہیں، ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ریاست نے ہمیں کبھی یاد نہیں کیا، میں جناب کی خفگی کو سمجھ گیا۔ ان دنوں ملکی ایوارڈز کا سیزن تھا، میں ایک طلب علم کی حیثیت میں کہنا چاہتا ہوں کہ جناب سجاد اظہر اور جناب رئوف کلاسرا جیسے کئی لکھاری ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، ایسے لکھاری جو کبھی ویوز اور لائکس کے چکر میں نظر نہیں آتے، جن کا مقصد حقائق سے پردہ اٹھانا اور نئی نسل کیلئے مثالی ورک اور تحقیقی مواد پیش کرنا ہے، تاکہ معاشرے میں توازن قائم رہے، ایسے لکھاریوں کی محنت سے حقیقت اور جھوٹ میں تمیز باقی ہے، ورنہ اس فتنہ دور میں کچھ سلامت نہیں۔ سیاست دانوں کے جھوٹ نے ملکی ساکھ کو نیچی سطح تک متاثر کیا ہے۔ ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ہمارے دوست کا عزیز جرمنی چلا گیا، ہمارے ہاں زیادہ تر لوگ بیرون ملک پیسے کمانے جاتے ہیں، ان کا ایک ہی مشن ہوتا ہے کہ گھر کی حالت کو بدلنا ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایک فرد کماتا ہے اور پورا خاندان کھاتا ہے، لیکن اب اس سوچ میں کافی تبدیلی آچکی ہے، دوست کا عزیز بھی اسی چکر میں گیا تھا، اس نے بڑی محنت کی، وہاں ایک آسٹریلوی شہری کی آئس کریم شاپ پر 20سال نوکری کرتا رہا، لیکن قسمت میں بڑی تبدیلی نہیں آئی، بس اچھا گزر بسر چلتا رہا، ایک دن اس کیلئے بری خبر کا دن بن گیا، اس کے آسٹریلوی مالک کا انتقال ہو گا اور دکان کا نظام اس کے بچوں نے سنبھال لیا، لیکن قسمت کا بھی اپنا ہی اصول ہے، اس کیلئے بڑی مشکل ہو گئی کہ وہ بچوں کو کیسے مینیج کرے، مالک کے ساتھ اس کا اچھا تعلق تھا، وہ اس پر بھروسہ کرتا تھا، لیکن مرحوم مالک کے بچے اس کے بالکل برعکس تھے، ایک دن تو انتہا ہو گئی، وہ ان کے رویے سے ذہنی طور پر بہت زیادہ متاثر ہوا۔ اس کے دوست نے اسے اپنی دکان کھولنے کا مشورہ دیا، جو اس کی سمجھ آ گیا ، اس کے پاس 20سال کا تجربہ تھا، وہ کام بھی کر سکتا تھا۔ اس نے دکان کے لیے مناسب جگہ دیکھنا شروع کر دی، اس کو بازار میں شاپ کرائے کے لیے مل گئی لیکن اس کا مالک دکان کرائے کے لیے دینے کو تیار نہیں تھا، اس کی شرط تھی کہ پہلے وہ سرکاری Gewerbeamt( تجارتی دفتر) سے اجازت نامہ لے کر آئے کہ اس کو یہ کام کرنا آتا ہے ۔ فرضی نام دریا خان سرکاری دفتر چلا گیا اور ان سے اجازت نامے کی درخواست کی، انہوں نے فوری طور پر جگہ کا وزٹ کیا اور اس کو اجازت نامہ جاری کیا، اس اجازت نامے کے پرفارمہ میں کاروبار سے متعلق ساری معلومات تھیں، یہاں تک کہ دکان کھولنے اور بند کرنے کی ٹائمنگ بھی درج کی گئی۔ دریا خان نے 19ماہ دکان داری کی، لیکن کامیاب نا ہو سکا۔ وہ تھک چکا تھا۔ ایک دن اس نے دکان خالی کرنے کا علان کر دیا لیکن مالک دکان نے اسے کہا کہ دوبارہ سرکار کے پاس جائو اور انہیں بتائو کہ آپ دکان خالی کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ کاروبار نہیں چل رہا۔ وہ دوبارہ سرکاری ادارے کے پاس گیا اور دکان خالی کرنے کا بتایا تو انہوں نے دکان خالی کرنے کی ساری وجوہات کو نوٹ کرنے کے بعد جگہ کا وزٹ کیا اور خالی کرنے کا اجازت نامہ جاری کر دیا۔ میں یہ بتاتا چلوں اس سارے پراسیس میں کوئی دن نہیں لگے بلکہ ایک ہی دن میں ساری کارروائی مکمل کی گئی، کوئی رشوت نہیں مانگی گئی، کوئی مہینے نہیں لگے، کسی افسر کی فوتگی نہیں ہوئی یا کسی کے پیٹ میں درد نہیں ہوا، کسی نے کام کرنے یا کرانے کا اپنا حصہ نہیں مانگا۔ بات ابھی ختم نہیں ہوئی ، دریا خان نے دکان خالی کر دی اور اب وہ پہلے سے زیادہ مشکل میں آگیا تھا، کیونکہ اس نے اپنی جمع شدہ رقم کا زیادہ حصہ کاروبار میں خرچ کر دیا تھا، لیکن کامیاب نہ ہو سکا ۔ ذرا سوچیں کہ اگر یہ کام پاکستان میں ہوتا تو کیا ہوتا، سرکاری ادارے ایسے ایسے سوال کرتے کہ آپ حیرانی سے بیمار ہو جاتے، ویسے پاکستانیوں کو اب رشوت دینے اور لینے کی عادت ہو چکی ہے، جو صاف اچھے چند لاکھ افراد ابھی باقی ہیں وہ بھی ڈنڈے کھا کر جلد خاموش ہو جائیں گے۔ پھر ہر طرف جنگل کا قانون ہو گا، شیر ہوں گے جن کی اجارہ داری ہو گی، جس کو چاہیں کھا جائیں، کوئی سوال، کوئی احتساب نہیں ہو گا۔ دریا خان سوچ میں مبتلا تھا کہ اب وہ کیا کرے ، چند دن بعد اسی سرکاری افسر کا فون آیا اور کہنے لگا کہ جرمنی سرکار نے آپ کو 19ماہ کی تنخواہ جاری کر دی ہے اور آپ کے بینک میں ٹرانسفر کر دی ہے، دریا خان کی خوشی کی انتہا نہیں رہی، اس افسر نے کہا کہ ہم نے محسوس کیا کہ آپ نے کاروبار کو چلانے کیلئے بڑی محنت کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے، سرکار آپ کی محنت کی قدر کرتی ہے اور اس محنت کے بدلے سرکار نے آپ کو 19ماہ تنخواہ ادا کی ہے۔
اب آئیں اپنے پیارے پاکستان میں، آپ پاکستان میں کاروبار کھولنے کی کوشش کریں۔ اداروں میں بیٹھے چند افراد آپ کی کوشش کو غلطی ثابت کر دیں گے، کھل کر بدمعاشی کریں گے ، رشوت خوری کریں گے، اگر آپ ان کی شکایت کی بات کریں گے تو کبھی خوفزدہ نہیں ہوں گے، کیوں وہ خود کو سسٹم کہتے ہیں، کئی کئی ماہ چکر لگائیں افسر وقت پر سیٹ پر نہیں ملے گا۔ سٹاف آپ کو ایسی ایسی ٹوپی دے گا، آپ حیران رہ جائیں گے۔ آپ کاروبار نہیں کر سکیں گے آپ تھک جائیں گے، آپ اجازت حاصل نہیں کر سکیں گے جب تک ان کی فرمائش پوری نہیں کریں گے ۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس حوالے سے کئی بیان دے چکے ہیں ۔ اگر کسی کو ان حقیقتوں پر کوئی شک ہے تو کسی سرکاری ادارے کا چکر لگا کر دیکھ لے۔ اداروں کی ساری اوقات، قومی خدمات نظر آ جائیں گی۔ یہ کیسے ممکن ہے ملک عدل کے بغیر ترقی کرے، اس کا جواب کسی دور کی حکومت کے پاس نہیں، ہمارے ہاں عدل نہیں ڈنڈے کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ہے، جو ریاستوں کے لیے مضبوطی نہیں کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ خود کو جمہوری کہنے والے اپنی ہی حکومت کو نہیں بچا پاتے، یہی ان کی یہ کمزوری ہے ۔ کیوں کہ انہھوں نے خود کو دو رنگوں میں رنگا ہوا ہے، وقت کی تیز رفتاری اور نوجوان بے روزگاری حکومتوں کیلئے بڑا امتحان بن چکی ہے اور ہر چوتھا بندہ غذائی عدم استحکام کا شکار ہے۔

جواب دیں

Back to top button