ColumnQadir Khan

یک نئی ’’ ڈون۔ رو ڈاکٹرائن

ایک نئی ’’ ڈون۔ رو ڈاکٹرائن‘‘
تحریر : قادرخان یوسف زئی
تاریخ کے اوراق جب پلٹے جائیں گے تو 3جنوری 2026ء کی تاریخ کو سیاہ ترین الفاظ میں لکھا جائے گا، نہ صرف اس لیے کہ اس روز ایک خود مختار ریاست کی فضائوں کو ڈیڑھ سو سے زائد غیر ملکی جنگی طیاروں نے اپنے پروں تلے روند ڈالا، بلکہ اس لیے کہ اس روز اکیسویں صدی کے مہذب دنیا کے اس بھرم کا بھی جنازہ نکل گیا جسے ہم بین الاقوامی قانون کہتے ہیں۔ بلکہ یہ عالمی بساط پر ایک ایسی نئی اور خوفناک مثال کا قیام تھا جس نے کمزور ممالک کی خود مختاری کو ہمیشہ کے لیے سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا اب واپس اس عہدِ جاہلیت کی طرف لوٹ رہی ہے جہاں دلیل، قانون اور انصاف کی جگہ صرف اور صرف تلوار کی دھار اور بارود کی بو فیصلے کیا کرتی تھی؟ واشنگٹن کا یہ اقدام محض منشیات کی روک تھام یا نام نہاد ”نارکو ٹیررازم” کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ اس کے تانے بانے تیل کی سیاست، جغرافیائی بالادستی اور ایک نئی ”ڈون-رو ڈاکٹرائن” (Don-roe Doctrine) سے جا ملتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے جس آرٹیکل 51کا سہارا لے کر اس جارحیت کو ”سیلف ڈیفنس” کا نام دینے کی کوشش کی، وہ قانونی ماہرین کی نظر میں ایک بھونڈا مذاق ہے کیونکہ وینزویلا نے امریکہ پر کوئی مسلح حملہ نہیں کیا تھا۔ معاملہ صرف وینزویلا تک محدود رہتا تو شاید اسے ایک انفرادی واقعہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا، مگر صدر ٹرمپ نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد لاطینی امریکہ کو دوبارہ امریکہ کے (Backyard) میں تبدیل کرنا ہے۔ کولمبیا، جو روایتی طور پر امریکہ کا حلیف رہا ہے، کے صدر گسٹاو پیٹرو کو ”بیمار آدمی” قرار دینا اور ان پر کوکین فروخت کرنے کا الزام لگانا سفارتی آداب کی ایسی خلاف ورزی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا سربراہ کسی ملک میں فوجی مداخلت کے سوال پر یہ کہے کہ ”مجھے یہ آئیڈیا اچھا لگتا ہے”، تو اس کا مطلب صاف ہے کہ اب کسی بھی ملک کی سا لمیت محفوظ نہیں۔ کولمبیا کے وزیر داخلہ پر پابندیاں اور میکسیکو کو منشیات کے کارٹلز کے بہانے فوج بھیجنے کی دھمکیاں اس امر کا واضح اشارہ ہیں کہ امریکہ اب شراکت داری کے بجائے تابعداری کا قائل ہے۔ میکسیکو کی خودمختاری کو چیلنج کرنا اور یہ کہنا کہ اگر تم نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ہم خود آ کر کریں گے، دراصل اس خطے میں ایک نئی جنگ کی آگ بھڑکانے کے مترادف ہے۔
اس پورے منظرنامے میں تیل کی سیاست کو نظر انداز کرنا حقائق سے چشم پوشی ہوگی۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، جو 303بلین بیرل سے زائد ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ وینزویلا نے دہائیوں قبل نیشنلائزیشن کے ذریعے امریکہ کے ”تیل کے حقوق” چھین لیے تھے۔ آپریشن کے فوراً بعد امریکی تیل کمپنیوں، شیوران، کونوکو فلپس اور ایکسن موبل،کی وینزویلا میں واپسی کے لیے بے تابی اس امر کا ثبوت ہے۔ یہ وہی پرانی کہانی ہے جو ہم نے عراق میں دیکھی، جہاں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMDs)کا جھوٹ بول کر تیل کے کنوئوں پر قبضہ کیا گیا، اور آج وینزویلا میں ”نارکو ٹیررازم” کا ڈھونگ رچا کر وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔کیوبا کے حوالے سے امریکی عزائم تو اور بھی زیادہ تشویشناک ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ وینزویلا کے تیل کی سپلائی رکنے سے کیوبا کی معیشت کا سانس اکھڑ جائے گا اور وہاں حکومت گر جائے گی۔ گرین لینڈ جیسے پرامن خطے پر نظریں جمانا اور وہاں روسی اور چینی بحری جہازوں کی موجودگی کا جواز تراش کر ڈنمارک کے اس علاقے پر کنٹرول کی خواہش کرنا امریکی توسیع پسندی کا ایک نیا باب ہے۔ حتیٰ کہ ایران کو بھی داخلی مظاہروں کے تناظر میں ”لاکڈ اینڈ لوڈڈ” کی دھمکی دے دی گئی ہے۔ یہ سلسلہ وار دھمکیاں بتاتی ہیں کہ واشنگٹن اب کثیر الجہتی نظام سے مکمل طور پر مایوس ہو کر یکطرفہ طاقت کے استعمال کو ہی اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنا چکا ہے۔ اس صورتحال کے تزویراتی اثرات انتہائی خطرناک ہوں گے۔ برازیل، چلی اور میکسیکو جیسے ممالک کا امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کرنا اور اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دینا اس امر کا غماز ہے کہ لاطینی امریکہ میں امریکہ مخالف جذبات کی ایک نئی لہر جنم لے رہی ہے۔ آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس جیسے اداروں کی بے وقعتی نے خطے کے ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے متبادل اتحاد تلاش کریں۔
وینزویلا کے اندرونی حالات پر نظر ڈالیں تو وہاں ایک گہرا سیاسی خلا پیدا ہو چکا ہے۔ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری ذمہ داریاں تو سونپ دی گئی ہیں، مگر سر پر منڈلاتے امریکی طیارے اور ٹرمپ کی یہ دھمکی کہ ”اگر رویہ درست نہ رہا تو دوسرا حملہ ہوگا”، کسی بھی حکومت کو چلنے نہیں دے گی۔ انسانی المیہ یہ ہے کہ جو وینزویلا پہلے ہی بدترین معاشی بحران اور مہاجرین کے مسئلے سے دوچار تھا، اب مزید تباہی کے دہانے پر ہے۔ ستر لاکھ لوگ پہلے ہی ہجرت کر چکے ہیں، اور اب بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور خوراک کی قلت مزید لاکھوں لوگوں کو سرحدیں عبور کرنے پر مجبور کرے گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ مہاجرین اسی امریکہ کا رخ کریں گے جس نے ان کے گھروں کو میدانِ جنگ بنایا، اور پھر یہی مہاجرین امریکی سیاست میں ”بارڈر کرائسز” کے نام پر ووٹ بینک بڑھانے کا ذریعہ بنیں گے۔
ماہرینِ قانون اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اس جارحیت کو نہ روکا گیا تو ”رولز بیسڈ آرڈر” کا تصور قصہ پارینہ بن جائے گا۔ امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ کا آغاز خود امریکی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہ ”شاہی صدارت” کا عروج ہے جہاں ایک فردِ واحد کے فیصلے دنیا کے امن کو تہ و بالا کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ افغانستان میں ”رجیم چینج” کے تجربے نے بیس سال تک دنیا کو دہشت گردی اور عدم استحکام کے جہنم میں دھکیلے رکھا۔ وینزویلا میں بھی باہر سے مسلط کردہ تبدیلی کبھی پائیدار امن نہیں لا سکتی۔ جب تک وینزویلا کے عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق نہیں دیا جاتا، یہ خطہ بارود کے ڈھیر پر بیٹھا رہے گا۔

جواب دیں

Back to top button