Column

بین الاقوامی اداروں کا اعتراف اور معیشت کی مضبوطی

بین الاقوامی اداروں کا اعتراف اور معیشت کی مضبوطی
تحریر : حیدر علی
وطن عزیز پاکستان میں اِس وقت معیشت کی صورتحال انتہائی مثبت جارہی ہے، عالمی اداروں کی جانب سے پاکستانی معیشت کے حوالے سے اعدادوشمار انتہائی مثبت اور حوصلہ افزاء ہیں۔ ڈالر کی اُڑان رُک چُکی ہے، پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں، بجلی کے حوالے سے بھی وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شہباز شریف کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ سب سے بڑھ کر اور انتہائی اہم پیشرفت بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے جس کا سہرا وزیر اعظم اور ان کی پوری ٹیم کو جاتا ہے۔ سال2025ء پاکستان کی تاریخ کا کامیاب ترین سال رہا جس میں پاکستان نے انتہائی برق رفتاری سے ترقی کی منازل کو طے کیا جن کا اعتراف آج بین الاقوامی معاشی ادارے بھی کر رہے ہیں۔ خصوصاًبیرونی سرمایہ کاری نے جہاں ملکی معیشت کو بھرپور سہارا دیا وہیں بین الاقوامی تاجروں نے بھی گزشتہ سال کی نسبت پاکستان میں تجارت کے حوالے سے بھرپور دلچسپی لی اور بیرون ملک کی چیمبرز پاکستان کو کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے بہترین ملک قرار دے رہے ہیں۔ خصوصاًعالمی سطح کی نئی کمپنیاں بھی توانائی کے شعبے میں پاکستان آئیں اور اُمید واثق ہے کہ حکومتی اقدامات کی بدولت نئے سال بھی بین الاقوامی کمپنیوں کی پاکستان میں تجارت کے حوالے سے مزید اضافہ ہوگا۔ گزشتہ روز ورلڈ بینک اور بلوم برگ نے بھی اپنی رپورٹس میں پاکستان میں معاشی استحکام کے آثار نمایاں ہونے کی تصدیق کی۔ عالمی مالیاتی اعدادوشمار اور مارکیٹ پر نظر رکھنے والے مستند ادارے بلومبرگ نے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں بہتری اور پالیسی استحکام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتوں کا استحکام اور معاشی نظم و نسق بہتر ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قیمتوں کا استحکام اور معاشی نظم و نسق بہتر ہو رہا ہے، دسمبر میں افراطِ زر 5.6فیصد رہا جو توقعات اور نومبر کے 6.1فیصد سے کم ہے۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں دبا کم ہوا اور غذائی افراط زر 3.24فیصد تک محدود رہا، خوراک کی بہتر دستیابی سے مارکیٹ میں استحکام آیا اور عوامی ریلیف کے آثار نمایاں ہوئے، مارکیٹ اندازوں سے کم مہنگائی نے اعتماد بڑھایا اور پالیسی سمت کی تصدیق کی۔ بلومبرگ نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر لایا، شرحِ سود میں 50بیسس پوائنٹس کمی سے قیمتوں کے دبا کے قابل کنٹرول ہونے کا واضح اشارہ ملا۔ اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے متعلق بتایا گیا ہے کہ کم شرح سود سے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ نسبتاً سازگار ہونے کی امید بڑھی، اسی طرح قیمتوں کے استحکام نے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے مثبت سگنل دیا اور غیر یقینی صورت حال میں کمی آئی ہے جبکہ کم مہنگائی سے قوت خرید میں بہتری اور صارفین کے لیے ریلیف کے امکانات بڑھے ہیں، دسمبر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ حکومتی پالیسی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
آج نہ صرف بین الاقوامی ادارے پاکستان کی مضبوط ہوتی معیشت کا اعتراف کر رہے ہیں بلکہ اقوام عالم بھی بہترین کاروباری ماحول اور حکومت پاکستان کی بہترین گورننس، معاشی پالیسیوں کی بدولت نہ صرف تجارتی تعلقات بڑھا رہے ہیں بلکہ بڑے بڑے معاہدے بھی ہورہے ہیں۔ گزشتہ روز نئے سال کے پہلے روز ہی وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شریف نے قوم کو مادر عزیز میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت کی ایک اور بڑی خوشخبری سنائی ہے جس کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی ( او جی ڈی سی ایل) نے ضلع کوہاٹ میں ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت کر لئے ہیں جوکہ پاکستانی قوم کیلءے نئے سال 2026ء کا بہت بڑا تحفہ ہیں اور ان ذخائر سے یومیہ 4100بیرل تیل نکالا جا سکے گا۔
قارئین کرام! نئے سال 2026ء میں حکومت کو گزشتہ سال کی کامیابیوں کے سلسلے کو مزید تیز تر کرنا ہوگا تاکہ نئے سال میں مزید ترقی کی منازل طے ہو سکیں۔ خصوصی طور پر بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حوالے سے ادارہ جاتی اور انتظامی سہولیات کی مزید بہتری بہت ضروری ہے۔ اِس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی کابینہ کو مزید ہدایات جاری کردی ہیں اور بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات دینے کیلئے سفارشات بھی طلب کرلی ہیں جوکہ بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے انتہائی خوش آئند ثابت ہوں گی۔ آج وقت کی ضرورت ہے کہ بحیثیت پاکستانی پوری قوم حکومت پاکستان، افواج پاکستان اور ملکی اداروں کے شانہ بشانہ مل کر پاکستان کیلئے کام کریں اور ہر ملک دُشمن ایجنڈے، انارکی پھیلانے والے عناصر کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ اُمید واثق ہے کہ بہت جلد حکومتی اقدامات کی بدولت تمام تر بحرانوں پر قابو پانے کے بعد پاکستانی قوم ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button