ColumnImtiaz Aasi

بانی سے ملاقات، ڈیڈ لاک برقرار،4فروری امتحان

بانی سے ملاقات، ڈیڈ لاک برقرار،4فروری امتحان
تحریر : امتیاز عاصی
بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنمائوں کی ملاقات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ جمعرات کے روز بھی کسی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی۔ ہمارے ذرائع کے مطابق جب تک پی ٹی آئی کی طرف سے اداروں کے خلاف بیانات کی مہم کا خاتمہ نہیں ہوتا بانی سے ملاقات عبث ہے۔ یوں بھی جیل مینوئل کی رو سے قیدی سے دوران ملاقات سیاسی گفتگو اور اس کے بعد میڈیا میں اس تشہیر پر قدغن ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلاموقع ہے کسی سیاسی جماعت پر جلسے جلوسوں اور اظہار رائے کی پابندی ہے۔ اس ناچیز کے خیال میں سیاسی جماعتیں جب بعض اداروں کی آشیر باد سے اقتدار میں آتی ہیں انہیں اداروں خواہشات کے برعکس فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے قیام پاکستان سے ملک میں سیاسی جماعتوں کو آزادانہ طور پر سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے برعکس حالات کا جائزہ لیا جائے تو ہماری سیاسی جماعتوں کے بہت سے رہنمائوں نے ملک و قوم کی خدمت کی بجائے اپنے اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا ہے۔ آج ہمارا ملک اس قدر مقروض کیوں ہے وہ ملک جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئے وہ ترقی میں ہم سے کئی گنا آگے جا چکے ہیں۔ اس ملک و قوم کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے یہاں کرپشن کے خلاف احتساب کا کوئی مربوط نظام نہیں ہے۔ جس ملک میں کمزوروں کو سزائیں دی جائے اور طاقت ور لوگوں کو چھوڑ دیا جائے ایسی قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں اور یہی تاریخ کا فیصلہ ہے۔ہ مارے ہاں کچھ اس طرح کا رواج فروغ پا چکا ہے برسراقتدار کسی کی کرپشن پر ہاتھ ڈالتے ہیں اسے سیاسی انتقام کا نام دے دیا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں منی لانڈرنگ کے مقدمات کے باوجود سیاسی رہنمائوں کو چھوڑنے کے لئے قوانین میں ترامیم کی اجازت دے دی گئی جس کے بعد عوام کا احتساب پر اعتماد اٹھ گیا ہے۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی مقدمات کی سماعت کی بجائے قوانین میں ترامیم کرکے کرپشن میں ملوث لوگوں کو چھوڑ دیا جائے؟ قرون اولیٰ کے دور میں یہی کچھ ہوتا رہا بڑوں کو جرم کی پاداش میں چھوڑ دیا جاتا تھا اور کمزور لوگوں کو سزائیں دی جاتی تھیں انہی وجوہات کی بنا وہ قومیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ ملک میں جب تک راست باز قیادت برسر اقتدار نہیں آتی احتساب خواب رہے گا۔ آج ملک کے عوام جن مشکلات کا شکار ہیں ماضی میں اس قدر مشکلات کا سامنا نہیں تھا۔ سیاست دان اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کو خوب لولی پا پ دیتے ہیں اقتدار میں آنے کے بعد سب کچھ بھلا دیتے ہیں۔ ہمیں حیرانی ہوئی ایک وفاقی مشیر کے بیان سے جس میں ان کا کہنا تھا آئی ایم ایف مہنگائی کرنے پر زور دیتا ہے۔ سوال ہے عوام سے جھوٹ بول کر اقتدار میں کب تک رہیں گے کچھ اللہ کا خوف بھی ذہن میں رکھیں آئی ایم ایف کبھی مہنگائی پرزور نہیں دیتا وہ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے پر زور دیتا ہے لہذا عوام سے جھوٹ بول کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہو۔ ملک میں عجیب تماشا بنا ہوا ہے ایک طرف تحریک تحفظ آئین دوسری طرف پی ٹی آئی اور تیسری طرف نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی اپنی سفارشات دے رہی ہے ۔گو حکومت نے مذاکرات کی ذمہ دار اسپیکر قومی اسمبلی کو دے دی ہے مذاکرات تو اسی وقت ہوں گے جب بانی پی ٹی آئی کی طرف سے پارٹی رہنمائوں کو گرین سگنل ملے گا لہذا فل الوقت حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ممکن نہیں ہو ں گے۔ سوال ہے حکومت کو کیا پڑی ہے مذاکرات کی وہ اقتدار کے مزے لے رہی ہے اور اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد حسب روایت گزشتہ انتخابات کی طرح اقتدار میں آسکتی ہیں۔ ہمارے خیال ہے مستقبل قریب میں طاقت ور حلقوں کا انتخاب بعض نئی سیاسی جماعتوں سے بھی ہو سکتا ہے اسی لئے تو انہیں میدان میں اتارا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے چار فروری کو ملک گیر پہیہ جام کی کال دے رکھی ہے اس مقصد کے لئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبوں کے دورے کر رہے ہیں جب کہ تحریک تحفظ آئین کے رہنمائوں نے مختلف شہروں کے دورے کرنے کا پروگرام بنایا ہے تاکہ رائے عامہ کو ملک گیر ہڑتال کے لئے متحرک کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی نے ملک گیر پہیہ جام کی کال دے کر اپنے آپ کو امتحان میں ڈال دیا ہے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا آیا وہ کس حد تک کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔ بلاشبہ مہنگائی کے ہاتھوں اور عوام کے مینڈیٹ کے برعکس سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں لانے کے خلاف ملک کے عوام اندرونی طور پر سیخ پا ضرور ہیں لیکن پی ٹی آئی رہنمائوں اور ورکرز کے خلاف مقدمات اور فوجی عدالتوں سے سزائوں کے خوف نے عوام کو سڑکوں پر آنے روک رکھا ہے۔ اس ناچیز کے نزدیک پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت کے مذاکرات سے بات بہت دور نکل چکی ہے جس کی بڑی وجہ حکومت کے پاس سیاسی قیدیوں کے خلاف مقدمات کا خاتمہ اور جیلوں سے ان کی رہائی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے جس حکومت کے پاس قیدی سے کسی کی ملاقات کرانے کا اختیار نہیں ہے وہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کیا کرے گی۔ پھر حکومت اس بات کا کئی بار اظہار کر چکی ہے نئے انتخابات اور قیدیوں کی رہائی پر بات چیت نہیں ہوگی تو پھر مذاکرات کس بات پر ہوں گے؟ دراصل اقتدار کی ہوس میں سیاست دان اپنے ہاٹھ کٹوا لیتے ہیں انہیں ماسوائے اپنے ذاتی مفادات کے ملک و قوم کے مسائل کی فکر نہیں ہوتی لہذا ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کیا ہوں گے؟ جس ملک میں سیاسی سرگرمیوں، اظہار رائے، عدلیہ کی آزادی اور عوام کو اپنے حقوق کے لئے احتجاج کی اجازت نہیں ہے ایسے ملک کو جمہوری کہنا جمہوریت کی نفی ہے۔ سیاسی جماعتیں جب تک عوام کے ووٹ سے اقتدار میں نہیں آئیں گی ہمارا ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ سیاسی جماعتیں اداروں کی آشیر باد سے اقتدار میں آتی رہیں گی نہ عوام خوشحال ہوں گے نہ کرپشن کا خاتمہ ہو سکے گا۔ آخر میں جب تک یہاں بے لاگ احتساب کا آغاز نہیں ہوگا کرپشن ختم نہیں ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button