ColumnRoshan Lal

بھارتی ڈیم ، چناب، پنجاب کا پانی اور پنجابی دادا

بھارتی ڈیم ، چناب، پنجاب کا پانی اور پنجابی دادا
تحریر : روشن لعل
بھارتی حکومت نے 27دسمبر2025ء کو جموں کشمیر میں ڈل حستی II، ہائیڈرو پاور ہائوس تعمیر کرنے کی منظوری دے کر اپنے مخصوص انداز میں پاکستان کو نئے سال 2026ء کا تحفہ دیا۔ یہ پاور ہائوس ہمارے دریائے چناب کے سب سے بڑے معاون دریا ماریوسودر پر بھارتی جمو ں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں اس مقام پر تعمیر کیا جائے گا جہاں پہلے سے 390میگا واٹ پن بجلی پیدا کرنے والا ڈل حستی I، پاور ہائوس اور اسی نام کاڈیم موجود ہے۔ بھارت کے منظور کردہ ڈل حستی II،پاور ہائوس کی پن بجلی پیدا کرنی کی صلاحیت 260میگا واٹ ہوگی جسے پہلے سے موجود ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ کر کے ایک الگ سرنگ کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے گا۔ ہمارے دریائے چناب کے سب سے بڑے معاون دریا ماریوسودر پر اگر پہلے سے موجود ڈیم ڈل حستی ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ کیا جائے گا تو صاف ظاہر ہے کہ اس ڈیم میں پانی ذخیرہ کیے جانے کے دوران دریائے چناب میں پانی کے بہائو میں کمی آئے گی ۔ واضح رہے کہ پاکستان کے جس دریائے چناب میں ڈل حستی ڈیم کی وجہ سے پانی کے بہائو میں کمی واقع ہو گی یہ دریا اس وجہ سے پنجاب کی زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے کیونکہ اس کا اضافی پانی سیلاب کے دوران تو صوبہ سندھ میں کسی استعمال کے بغیر سمندر میں چلا جاتا ہے مگر معمول کے بہائو کی صورت میں زرعی مقاصد کے لیے صرف پنجاب کی نہروں میں چھوڑاجاتا ہے۔ دریائے چناب کے پانی کو حقیقت میں صرف پاکستانی پنجاب کا پانی کہا جاسکتا ہے مگر حیرت اس بات پر ہے کہ نفرتیں پھیلانے والے وہ پنجابی جو چولستان میں نہروں کی تعمیر کے معاملہ پر’’ پنجاب کا پانی ‘‘ جیسے نعرے لگاتے ہوئے بلاوجہ اس صوبے کا ’’ دادا‘‘ بننے کی کوشش کرتے رہے، انہوں نے پنجاب کے پانی کی حقیقی چوری پر نہ کچھ بولنا اور نہ ہی کچھ لکھنا پسند کیا۔ پنجاب کابلاوجہ ’’ دادا ‘‘ بننے کی کوشش کرنے والوں کو شاید علم ہی نہیں کہ اس صوبہ کی زراعت کا دریائے چناب کے پانی پر کس قدر انحصار ہے۔ آئیے! اس تحریر کے توسط سے جانیں کہ دریائے چناب اور اس کا پانی پنجاب کے لیے کس قدر اہمیت کا حامل ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد جب سندھ طاس کے تین بڑ ے دریائوں اور ان سے نکلنے والی نہروں کا پانی بھارتی پنجاب سے پاکستانی علاقوں میں آنے سے روک دیا گیا تو دریائے چناب کو پاکستان اور خصوصاًپنجاب کی زرعی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان پیدا ہونے والے آبی تنازع کو1960ء میں جس سندھ طاس معاہدے (Indus water treaty )کے ذریعے حل کیا گیا اس کے تحت پاکستان تین مشرقی دریائوں راوی ، ستلج اور بیاس کے سو فیصد پانی سے دستبردار گیا جبکہ اسے تین مغربی دریائوں سندھ ، جہلم اور چناب کے 93فیصد پانی کو استعمال کرنے کا حق دیا گیا ۔اس معاہدے کے بعد لنک نہروں کے ذریعے دریائے سندھ اور جہلم کا پانی دریائے چناب کے ہیڈ ورکس اور بیراجوں تک لایا گیا اور پھر مزید لنک نہروں کے ذریعے چناب کے اپنے پانی سمیت یہ دریائی پانی خشک ہونے والی دریائوں راوی اور ستلج تک لایا گیا جہاں سے اسے زرعی زمینوں کو سیراب کرنے والی نہروں کے ذریعے کھیتوں تک پہنچایا گیا ۔ دریائے چناب کے اس کردار کی وجہ سے راوی اور ستلج کے علاقوں کی زیر کاشت زمینیں بنجر ہونے سے بچ گئیں۔
پنجاب سے گزرنے والے تمام دریائوں میں چناب پر سب سے زیادہ بیراج یا ہیڈ ورکس تعمیر کیے گئے ہیں جن کی تعداد پانچ اور ترتیب وار ان کے نام مرالہ، خانکی ، قادر آباد ، تریموں اور پنجند ہیں۔ چناب پر موجود ان بیراجوں سے پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرنے والی سب سے زیادہ نہریں نکالی گئی ہیں۔ ہیڈ مرالہ سے دو نہریں مرالہ راوی لنک کینال اور اپر چناب کینال نکلتی ہیں جن میں سے مرالہ راوی لنک دریائے راوی میں راوی سائفن کے بالائی حصہ میں آکر گرتی ہے اور اپر چناب کینال کا پانی ضلع گوجرانوالہ ، شیخوپورہ اور لاہور و سیالکوٹ کے کچھ حصوں کو سیراب کرتا ہے۔ جبکہ اسی نہر سے سیالکوٹ کے نزدیک بمبانوالہ کے مقام پر مشہور نہر بی آر بی نکالی گئی ہے جس کا پانی ضلع لاہور اور قصور کی زمینوں کو سیراب کرنے کے علاوہ دیپال پور تک پہنچتا ہے۔خانکی دریائے چناب پر دوسرا بیراج ہے جہاں سے نکلنے والی لوئر چناب کینال کا پانی ضلع حافظ آباد ، شیخو پورہ ، فیصل آباد ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ کی زرعی زمینوں تک پہنچتا ہے۔ چناب کا تیسرا بیراج قادر آباد ہے جس میں دریائے جہلم سے نکالی گئی رسول قادر آباد لنک کینال آکر گرتی ہے۔ اسی بیراج سے قادر آباد بلوکی نہر نکالی گئی ہے جو بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں شامل ہوتی ہے اور پھر یہاں سے اس کا پانی بلوکی سلیمانکی لنک کینال کے ذریعے دریائے ستلج کے سلیمانکی ہیڈ ورکس تک جاتا ہے۔ تریموں دریائے چناب کا چوتھا ہیڈ ورکس ہے ۔ اس ہیڈ ورکس سے پہلے مدوکی کے مقام پر دریائے جہلم اپنا وجود ختم کر کے دریائے چناب میں ضم ہو جاتا ہے۔ تریموں ہیڈ ورکس سے تین نہریں نکالی گئی ہیں ۔ دریا کے دائیں کنارے سے نکالی گئی رنگ پور کینال ضلع جھنگ اور تحصیل شور کوٹ کے علاقوں سلطان باہو ، گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال وغیرہ کی زرعی زمینوں کو سیراب کرتی ہے۔ حویلی کینال کا پانی ضلع جھنگ میں دریا کے بائیں کنارے کے زرعی رقبوں کی آبیاری کرتا ہے جبکہ بائیں کنارے سے نکالی گئی تریموں سدھنائی لنک کینال کا پانی دریائے راوی کے ہیڈ سدھنائی پر راوی میں گرتا ہے۔ ہیڈ تریموں کے بعد دریائے چناب پر آخری ہیڈ ورکس پنجند ہے۔ اس مقام پر دریائے سندھ کے تونسہ بیراج سے نکالی گئی تونسہ پنجند لنک کینال چناب میں گرتی ہے جبکہ اس ہیڈ ورکس سے نکالی گئی دو نہریں عباسیہ کینال اور پنجند کینال کا پانی ضلع بہاولپور اور رحیم یار خان کی زرعی زمینوں کی آبیاری کرتا ہے۔ پنجند کے مقام پر ہی دریائے ستلج دریائے چناب میں سما جاتا ہے۔ پنجند ہیڈ ورکس کے بعد دریائے چناب کوٹ مٹھن کے مقام پر عظیم دریائے سندھ کے پانیوں کا حصہ بن جاتا ہے۔ چناب کے پانی کا وسیع رقبے پر پھیلی صوبہ پنجاب کی فصلو ں کو سیراب کرنے کا عمل اسے در یائے سندھ کے بعد پاکستا ن کا دوسرا اور پنجاب کا سب اہم دریا بنا دیتاہی۔
بھارت دریائے چناب اور اس کے معاون دریائوں پر اپنی مرضی کے ڈیزائنوں کے تحت ’’ ڈل حستی ‘‘ جیسے کئی مزید ڈیم بنانا چاہتا ہے ۔ ان ڈیموں میں ذخیرہ کیا گیا پانی آخر کار آئے گا تو پاکستان میں ہی لیکن بھارت اسے اپنی مرضی کے مطابق اس وقت چھوڑے گاجب اس کے ہمارے ہاں بروقت نہ پہنچنے سے پنجاب کی زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہوگا۔دریائے چناب پر بھارت کے مجوزہ ڈیموں کی تعمیر سے ہونے والے ممکنہ نقصان کو مد نظر رکھتے ہوئے ان ڈیموں کی تعمیر کے خلاف ہر بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

Back to top button