برآمدات کا فروغ ناگزیر

برآمدات کا فروغ ناگزیر
معیشت کی بہتری کے لیے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے برآمدات کے فروغ پر زور دینا اور برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈز کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کی ہدایت دینا ایک خوش آئند اور ناگزیر قدم ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ برآمدات ہی وہ واحد پائیدار ذریعہ ہیں جو کسی بھی ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرسکتی ہیں۔ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا جائزہ اجلاس اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت برآمدات کو محض ایک شعبہ نہیں بلکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھ رہی ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ٹیکس ری فنڈز کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں، دراصل برآمد کنندگان کے دیرینہ مطالبے کی توثیق ہے۔ ماضی میں بروقت ری فنڈز کی عدم ادائیگی نے برآمدی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث کئی صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت کم کرنے یا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوئیں۔ یہ بات بھی قابلِ ستائش ہے کہ وزیراعظم نے برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کو قومی ترجیح قرار دیا ہے۔ پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے درآمدات پر انحصار کرتی رہی ہے، جس کا نتیجہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو کی صورت میں نکلا۔ اگر برآمدات کو مضبوط بنیادوں پر استوار نہ کیا گیا تو معیشت کا پہیہ چلانا آسان نہ ہوگا۔ اجلاس میں زرعی برآمدات کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی، جو بالکل درست سمت کی نشان دہی کرتی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، مگر بدقسمتی سے ہم اپنی زرعی پیداوار کو عالمی منڈی میں مناسب قدر کے ساتھ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ چاول، کپاس، پھل اور سبزیاں ایسے شعبے ہیں جن میں پاکستان کو قدرتی برتری حاصل ہے، مگر پالیسی کی کمی، جدید ٹیکنالوجی کا فقدان اور لاجسٹکس کے مسائل نے ان شعبوں کی برآمدی صلاحیت کو محدود کر رکھا ہے۔ خصوصاً دھان ( چاول) کی برآمدات کے حوالے سے وزیراعظم کی ہدایات نہایت اہم ہیں۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دینا اور نئے ممالک کے ساتھ معاہدوں پر بات چیت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ عالمی منڈی میں پاکستانی چاول کی مانگ موجود ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ معیار، پیکیجنگ اور سپلائی چَین کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے۔ اجلاس میں ہائی ویلیو سیکٹرز جیسے انجینئرنگ، ادویہ، میڈیکل ڈیوائسز اور پراسیسڈ فوڈ کی برآمدات بڑھانے پر بھی زور دیا گیا، جو ایک دور اندیش فیصلہ ہے۔ دنیا بھر میں وہی ممالک کامیاب ہیں جو خام مال کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرتے ہیں۔ اگر پاکستان واقعی اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ چاہتا ہے تو اسے کم قدر والی اشیاء کے بجائے اعلیٰ قدر والی مصنوعات کی طرف جانا ہوگا۔ گلوبل ویلیو چَین کا حصہ بننے کی کوششیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔ عالمی معیشت میں انضمام کے بغیر کسی بھی ملک کے لیے ترقی ممکن نہیں۔ اگر پاکستانی صنعتیں عالمی سپلائی چَین میں شامل ہوجائیں تو نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ پورٹس اور لاجسٹکس کے نظام میں بہتری لانے کا حکومتی عزم بھی برآمدی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ بندرگاہوں پر تاخیر، غیر ضروری بیوروکریسی اور ناقص انفرا اسٹرکچر نے ہمیشہ برآمد کنندگان کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ اگر ان رکاوٹوں کو دور کر لیا جائے تو پاکستانی مصنوعات کم لاگت اور کم وقت میں عالمی منڈی تک پہنچ سکتی ہیں۔ تاہم، محض اعلانات اور اجلاس کافی نہیں ہوں گے۔ اصل امتحان ان فیصلوں پر عملی درآمد کا ہے۔ ماضی میں کئی اچھی پالیسیاں ناقص عملدرآمد کی نذر ہو چکی ہیں۔ برآمد کنندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس ری فنڈز واقعی وقت پر ادا ہوں، پالیسیوں میں تسلسل ہو اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو ختم کیا جائے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں برآمدات کے فروغ کی یہ کوششیں اگر خلوصِ نیت اور مضبوط عملدرآمد کے ساتھ جاری رہیں تو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت موڑ ثابت ہو سکتی ہیں۔ برآمدات میں اضافہ نہ صرف تجارتی خسارے کو کم کرے گا بلکہ معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر بھی ڈالے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور ادارے مل کر اس قومی مقصد کے لیے یکسو ہو جائیں، کیونکہ پاکستان کی معاشی بقا اور خوشحالی اسی میں مضمر ہے۔
بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتا تشدد
بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک سیکولر ریاست قرار دیتا ہے، مگر حالیہ واقعات اس دعوے پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ مختلف معتبر میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، تشدد اور امتیازی سلوک میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق بلکہ آئینی اقدار کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دی ہندوستان گزٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست بہار میں مسلمان مزدور نرشید عالم کو آر ایس ایس سے وابستہ شرپسند عناصر نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کے دوران متاثرہ شخص سے زبردستی مذہبی نعرے لگوائے گئے، جو مذہبی جبر اور عدم برداشت کی واضح مثال ہے۔ سماجی کارکن ضیاء الحق کے مطابق نرشید عالم کی حالت نازک ہے اور وہ اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک فرد پر تشدد نہیں بلکہ پورے مسلم طبقے کے لیے خوف اور عدم تحفظ کی علامت ہے۔ اسی طرح برطانوی میڈیائی ادارے 5 Pillarsنے انکشاف کیا کہ بھارتی ریاست راجستھان میں ایک بزرگ مسلمان کو ہندوتوا نظریے سے متاثر شدت پسندوں نے جھوٹے الزامات کے تحت وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھارتی صحافی وقار حسن کے مطابق متاثرہ شخص پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام عائد کرکے اسے بنگلادیشی قرار دیا گیا اور سڑک پر گھسیٹا گیا۔ مقامی افراد کے مطابق یہ واقعہ کسی ذاتی تنازع یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا حصہ تھا، جس کے پیچھے سیاسی سرپرستی کارفرما ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے ایسے واقعات اب معمول بنتے جارہے ہیں۔ ہندوتوا نظریے کے تحت نفرت انگیز سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے جبکہ گودی میڈیا یا تو ان واقعات کو نظرانداز کرتا ہے یا انہیں مذہبی رنگ دے کر حقائق چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس رویے نی نہ صرف اقلیتوں کو عدم تحفظ کا شکار کیا ہے بلکہ بھارتی معاشرے میں تقسیم اور نفرت کو بھی گہرا کر دیا ہے۔ ایک حقیقی سیکولر اور جمہوری ریاست میں شہریوں کے حقوق کا تعین مذہب، نسل یا عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ بھارت اگر واقعی اپنے آئینی وعدوں پر قائم ہے تو اسے اقلیتوں کے خلاف تشدد کے ان واقعات کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرنی ہوں گی، ذمے دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا اور نفرت پر مبنی سیاست کا راستہ روکنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، بھارت کا سیکولرازم محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا، جس کی قلعی آئے دن ایسی واقعات خود بخود کھولتے رہیں گے اور عالمی برادری میں بھارت کا جمہوری تشخص مزید متاثر ہوتا چلا جائے گا۔





