
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ملک کو ’انتہائی مشکل اور خطرناک حالات‘ کا سامنا ہے، اس لیے دفاعی اخراجات کو سال 2027 تک ایک اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر تک کیا جائے۔ یہ بجٹ موجودہ 901 ارب ڈالر سے 50 فیصد زیادہ ہوگا، جسے کانگریس نے دسمبر میں منظور کیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ ’یہ اضافہ امریکہ کو ’ڈریم ملٹری‘ بنانے کا موقع دے گا جو ہر دشمن کے مقابلے میں ملک کو محفوظ رکھے گی۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ دفاعی کمپنیوں کے سربراہان اور شیئر ہولڈرز کو کی جانے والی بڑی ادائیگیوں کی کڑی نگرانی بھی کی جائے گی کہ آیا یہ کمپنیاں ہتھیاروں کی ترسیل تیز کرنے کے لیے اپنے وعدے پر پورا اُتر رہی ہیں اور کیا یہ اس کام کے لیے نئے کارخانے قائم کر رہیں ہیں کہ نہیں۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی دفاعی سازوسامان بنانے والی بڑی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن، نارتھروپ گرومن اور ریتھیون کے شیئرز نیویارک میں 5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے اخراجات اور آمدنی کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ’آسانی سے‘ ایک اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر کا بجٹ پورا کر سکتا ہے کیونکہ محصولات یعنی ٹیرِفز سے اضافی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔
صدر نے کہا کہ فوجی سازوسامان تیزی سے تیار نہیں ہو رہا، اس لیے کمپنیوں کو جدید اور نئے کارخانے بنانے چاہئیں۔ انھوں نے دفاعی کمپنیوں پر الزام لگایا کہ وہ ’بڑے پیمانے پر‘ شیئر ہولڈرز کو ادائیگیاں درست انداز میں نہیں کر رہیں جبکہ ساتھ ہی پیداوار میں سرمایہ کاری نظرانداز کی جا رہی ہے۔







