اوہام

اوہام
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
کہا جاتا ہے کہ ایک شخص نے رومی فلسفی سے ملاقات کی۔ فلسفی نے اُسے اپنے دسترخوان پر مدعو کیا۔ جب وہ شخص شوربہ پینے لگا۔ تو اس نے پیالے میں سانپ جیسی کوئی چیز دیکھی۔ لیکن شرمندگی کے مارے وہ پیتا رہا۔ گھر جا کر وہ اس بات سے پریشان رہا کہ آخر اس نے کیا پی لیا ہے۔ واقعی، رات کو اس کے پیٹ میں شدید درد شروع ہو گیا، جس نے اُس کی نیند اڑا دی۔ صبح ہوتے ہی وہ فلسفی کے پاس دوا کی تلاش میں پہنچا۔ مگر جب فلسفی نے اسے بتایا کہ شوربے میں کوئی سانپ نہیں تھا، بلکہ وہ تو چھت پر بنی ہوئی تصویر کا عکس تھا، اور یہ بات ثابت کرنے کے لیے اس نے دوبارہ شوربہ نکالا تو اُس میں بھی فوراً سانپ کا عکس نظر آیا، تو وہ حیران رہ گیا۔ یہ حقیقت جان کر اس کے پیٹ کا درد فوراً غائب ہوگیا۔ یعنی سانپ صرف اُس کے ذہن میں موجود تھا۔
رومی فلسفی کے دسترخوان پر بیٹھا وہ شخص دراصل شوربہ نہیں، اپنا وہم پی رہا تھا۔ پیالے میں سانپ نہیں تھا، سانپ اس کے ذہن میں تھا۔ اور جب ذہن سے سانپ نکلا تو پیٹ سے درد بھی نکل گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک حکایت نہیں، یہ انسانی نفسیات کی پوری کتاب ہے۔
وہم میں ایک عجیب طاقت ہوتی ہے، جو انسان کے اندر ایک محسوس ہونے والی غلط فہمی کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔ اسی لیے ابنِ سینا نے کہا تھا ’’ وہم آدھا مرض ہے، اطمینان آدھی دوا ہے، اور صبر شفا کی پہلی سیڑھی ہے‘‘۔
وہم کی جمع اوہام ہے، اور اس سے متعلقہ لفظ توہمات بھی استعمال ہوتا ہے ، جس کی جمع توہم ہے۔ جو عموماً مذہبی یا غیر حقیقی عقائد superstitionsکے لیے استعمال ہوتی ہے، جیسے فال نکالنا، جادو، اور بھوت پریت پر یقین۔ جبکہ اوہام، غلط تصورات، خیالات یا شک کو ظاہر کرتی ہے۔ مثال ’’ لوگوں میں اوہام اور بے بنیاد خوف پھیلے ہوئے ہیں‘‘ ۔ ’’ جادو ٹونے اور فال نکالنے کے توہمات سے بچنا چاہیے‘‘۔
آج ہسپتالوں میں آدھے مریض وہ ہیں جن کی بیماری رپورٹ میں نہیں، سوچ میں ہوتی ہے۔ ٹیسٹ نارمل ہوتے ہیں، مگر خوف غیر معمولی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر دوا دیتا ہے، مگر اصل دوا تسلی ہوتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ نقصان تلواروں نے نہیں، خدشات نے دیا۔ جنگِ اُحد میں مسلمانوں کو تیر نہیں، افواہ زیادہ زخمی کر گئی تھی کہ رسولؐ شہید ہو گئے ہیں۔ جب دل ٹوٹتا ہے تو جسم خود بخود ہار مان لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمؐ مصیبت میں سب سے پہلے یہ دعا سکھاتے تھے: اللّٰہ، آسانی تو نہیں مگر وہی جسے تُو آسان بنا دے۔ یعنی مشکل کو مشکل نہ سمجھو، ورنہ وہ واقعی مشکل بن جائے گی۔
فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ حقیقت دو حصوں میں بٹی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو سامنے ہے، اور دوسری وہ جو ہم نے اس کے بارے میں سوچ لی ہے۔ ارسطو کہتا ہے، ’’ انسان کو واقعات نہیں توڑتے، ان کی تعبیر توڑتی ہے‘‘۔ یہی بات مولانا روم نے شاعری میں کہی۔ باہر مت دیکھو، اپنے اندر جھانکو، جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ تمہارے اندر ہی موجود ہے۔ اور ہم اپنی زندگی میں اصل مسائل کم اور فرضی کہانیاں زیادہ پال لیتے ہیں۔ ہم نے کل کی فکر میں آج کو مار دیا ہے۔ نہ ہونے والے سانپوں سے ڈر ڈر کر ہم نے اپنے وجود کو زہر آلود کر لیا ہے۔
نفسیات کہتی ہے کہ خوف اگر طویل ہو جائے تو بیماری بن جاتا ہے، اور ایمان کہتا ہے کہ خوف اگر اللّٰہ کے سوا کسی کا ہو تو ذلت بن جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے ’’ جس چیز سے ڈر لگے، اس کا سامنا کرو، کیونکہ ڈر خود سب سے بڑی قید ہے‘‘۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے۔ شوربہ وہی تھا، پیالہ وہی تھا، فرق صرف ذہن کا تھا۔ اگر آپ کا ذہن مطمئن ہے تو زہر بھی دوا بن جاتا ہے، اور اگر ذہن بے چین ہے ، غلط فہمی کا شکار ہے تو امرت بھی زہر بن جاتا ہے۔
لہٰذا اپنے دل کی دیواروں پر خوف کے سانپ مت بنائیں۔ یاد رکھیں، بہت سی بیماریاں دوا سے نہیں، دعا، یقین اور اطمینان سے ٹھیک ہوتی ہیں۔ کیونکہ اصل شفا پیٹ میں نہیں، یقین میں ہوتی ہے۔
وہم ایک ایسی نظر نہ آنے والی زنجیر ہے جو انسان کے دماغ کو قید کر لیتی ہے۔ انسان اگر وہم کے جال سے نکلنا چاہے تو اسے اپنے یقین کو مضبوط کرنا ہوگا، مثبت سوچ کو اپنانا ہوگا اور سچائی کو پہچان کر اس کے مطابق زندگی گزارنی ہو گی۔
وہم ایک ایسا گمان ہے۔ جس میں انسان خود سے ایک خیال بنا لیتا ہے۔ عقل کا تعلق معقولات اور وہم کا تعلق محسوسات سے ہے۔
کہتے ہیں کہ جب انسان نے پہلی بار پرندوں کو ڈرانے کے لیے اپنا ہی پتلا بناکر کھیتوں میں لگایا تو وہ جان گیا تھا کہ وہم حقیقت سے زیادہ خوف پیدا کرتا ہے۔
حتی کہ وہ چیزیں بھی ہمیں ڈرانے لگتی ہیں جو حقیقت میں ہمارے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوتیں۔ بلکہ وہ ہم نے خود ہی تخلیق کی ہوتی ہیں۔
یہ وہم اکثر اندیشوں، شکوک اور خوف کی اینٹوں سے بڑھتے بڑھتے ایک دیوار کی طرح رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اکثر یہ خوف کی دیوار حقیقت سے نہیں ہمارے خیالات سے تعمیر ہوتی ہے۔
حقیقت میں زمین پر جو چیز اکثر چھوٹی اور معمولی ہوتی ہے۔ وہم اسے ذہن میں بہت بڑا مسئلہ بنا دیتی ہے۔
وہم دراصل ذہن کا وہ عکس ہوتا ہے جو بیرونی دنیا سے زیادہ ہمارے اندر کے ڈر، خوف، ناامیدی اور پریشانی سے جنم لیتا ہے۔ بلکہ یہ حقیقت سے پہلے پیدا ہونے والا ایک اندازہ اور خدشہ ہوتا ہے۔ گویا ایک ایسا خیال جو ثبوت کے بغیر دل پر قبضہ کر لیتا ہے۔ وہم میں عموما جذبات فیصلہ کرتے ہیں عقل نہیں کرتی۔ وہم مایوسی پیدا کرتا ہے اور مایوسی ناکامیوں کو جنم دیتی ہے۔
وہم ایک خیالی فعل کا نام ہے۔ جس کی بنیاد محض تخیل، تصور، موہوم و فرضی باتوں پر ہوتا ہے۔ اور حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔





