Column

سال نیا مگر امیدیں ۔۔۔ پھٹی پرانی

سال نیا مگر امیدیں ۔۔۔ پھٹی پرانی
شہرِ خواب
صفدر علی حیدری
سال بدل گیا اور ایسا ہر سال ہوتا ہے۔ یعنی سال میں ایک بار۔
ہر سال ایک ہندسہ بدل جاتا ہے۔ پچھلے سال انہی دنوں چوبیس کا ہندسہ پچیس میں بدل گیا اور اس بار پچیس کا ہندسہ چھبیس میں۔ ہمارے ہاں بس ہندسے ہی بدلتے ہیں، باقی سب کچھ ویسے کا ویسا رہتا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے؟ ہمیں یہی لگتا ہے، اور جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی کچھ دیکھتے آئے ہیں، اور نہ جانے کب تک دیکھتے رہیں گے۔موسم بدلے یا مہینہ اور سال، کچھ نہ کچھ تبدیل ہوتا ہے۔ کم از کم ہمارا موڈ اور لباس تو بدلتا ہی ہے، لیکن یہ کافی نہیں۔ تبدیلی نظر آنی چاہیے، محسوس ہونے کے قابل ہونی چاہیے، اس طرح کہ خود بخود زبانوں پر اس کا ذکر آ جائے۔ جیسے گرمی کچھ زیادہ محسوس ہو تو بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے: آج بہت گرمی ہے یار، سورج مسلسل آگ برسا رہا ہے۔
اور جب چند دن شدت سے گرمی پڑے تو کہہ دیا جاتا ہے: اس سال تو ایسی گرمی پڑ رہی ہے جو ہم نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی۔
مگر ہمارے یہاں سال بدلتا ہے، حال نہیں۔
یہ جملہ محض شکوہ نہیں، ایک اجتماعی تشخیص ہے، ایک ایسا جملہ جو ہماری تاریخ کا خلاصہ بھی ہے اور ہمارے حال کا آئینہ بھی۔
ہندسوں کی تبدیلی اور ذہنی فریب
ہم نے وقت کو کیلنڈر کے خانوں میں قید کر رکھا ہے۔ یکم جنوری آتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی بھی کسی نئی فائل میں منتقل ہو گئی ہو۔ موبائل کی اسکرین پر تاریخ بدلتی ہے، مبارکبادیں آتی ہیں، اسٹیٹس لگتے ہیں، مگر زندگی کے اندر نہ کوئی نئی روشنی داخل ہوتی ہے اور نہ کوئی نیا راستہ کھلتا ہے۔
یہ تبدیلی دراصل ایک نفسیاتی تسلی ہے۔ ہم وقت کو بدل کر خود کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ شاید حالات بھی بدل گئے ہوں گے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نئے سال میں داخل ضرور ہوتے ہیں، مگر پرانے مسائل ہمیں اندر سے جکڑے رکھتے ہیں۔
پاکستان: ایک تاریخ جو خود کو دہراتی ہے
پاکستان کی تاریخ کسی سیدھی لکیر کی مانند نہیں، بلکہ ایک دائرہ ہے، جو بار بار وہیں آ کر رک جاتا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔ یہاں وعدے بارہا کیے گئے، آئین لکھا گیا، توڑا گیا، بحال ہوا، مگر عوام کی زندگی میں وہ تبدیلی کبھی مستقل صورت اختیار نہ کر سکی جس کا خواب دکھایا گیا تھا۔
ہر دور میں ایک نئی امید نے جنم لیا، کبھی جمہوریت کے نام پر، کبھی احتساب کے نعرے کے ساتھ، کبھی استحکام اور سلامتی کے وعدے پر، مگر ہر امید کچھ عرصے بعد اسی سوال کے نیچے دب گئی: طاقت جواب دہ کیوں نہیں؟
جبر و استبداد: ایک مستقل مزاج رویّہ
ہم نے جبر کو ہمیشہ عارضی مسئلہ سمجھا، حالانکہ وہ ہماری اجتماعی نفسیات کا حصہ بن چکا ہے۔ کبھی وردی میں، کبھی قانون کے پردے میں، کبھی حب الوطنی کے نعروں میں لپٹا ہوا، جبر ہر دور میں موجود رہا۔
یہاں مسئلہ صرف آزادیِ اظہار کا نہیں، مسئلہ برداشت کا ہے۔ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھ لیتے ہیں، سوال کو سازش، اور تنقید کو غداری۔ اسی لیے یہاں اصل متن سے زیادہ ردِعمل خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
نظامانی کے بیٹے کا کالم: بات معمولی، ردِعمل غیر معمولی
نظامانی کے بیٹے کا کالم اس لیے موضوعِ بحث نہیں بنا کہ اس میں کوئی بغاوت یا اشتعال تھا۔ وہ ایک سادہ، عمومی اور متوازن تحریر تھی، ایسی باتیں جن پر برسوں سے لکھا اور بولا جا رہا ہے۔ نہ کسی ادارے پر حملہ، نہ کسی نام کو نشانہ، نہ کوئی انقلابی انکشاف۔
پھر مسئلہ کیا تھا؟
مسئلہ یہ تھا کہ بات غلط وقت پر کہی گئی یا شاید سننے والوں کے لیے غلط تھی۔ اصل خطرہ تحریر میں نہیں تھا، تحمل کی کمی میں تھا۔
تحریر کا اڑایا جانا اور اس کی مقبولیت
یہ ہماری تاریخ کا پرانا سبق ہے کہ جس بات کو دبانے کی کوشش کی جائے، وہی زیادہ پھیلتی ہے۔ اگر وہ کالم نہ اڑایا جاتا تو شاید چند دن میں خود ہی فراموش ہو جاتا۔ مگر جب اسے غائب کیا گیا تو وہ ایک تحریر نہیں رہا، وہ ایک علامت بن گیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے اصل تحریر کم پڑھی گئی، مگر اس پر لگائی گئی پابندی زیادہ سمجھی گئی۔ جبر اکثر خود اپنی تشہیر بن جاتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔
عوام اور ریاست کے درمیان خاموش فاصلہ
آج کا پاکستانی شہری بغاوت پر آمادہ نہیں، وہ تھکا ہوا ہے۔ یہ تھکن سب سے خطرناک کیفیت ہے، کیونکہ تھکا ہوا معاشرہ نہ سوال کرتا ہے، نہ احتجاج، وہ بس خود کو بچانے میں لگ جاتا ہے۔ جب شہری کو یقین ہو جائے کہ اس کی آواز بے معنی ہے، تو وہ خاموش ہو جاتا ہے، اور خاموشی سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔
تبدیلی کا سوال: باہر نہیں، اندر
تبدیلی پہلے باطن میں جنم لیتی ہے، پھر خارج میں ابھرتی ہے۔ رویّے بدلیں تو نظام بدلتا ہے، سوچ بدلے تو سمت بدلتی ہے۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خود کو بدلے بغیر تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ ہم حکمران، ادارے اور حالات بدلنا چاہتے ہیں، مگر اپنی عادتیں، اپنے مفادات اور اپنی سہولتیں نہیں چھوڑتے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے کو بدل دینے سے سب کچھ بدل جائے گا، حالانکہ تاریخ بار بار بتاتی ہے کہ جب تک فرد نہیں بدلتا، معاشرہ محض چہرے بدلتا رہتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا تھا:اول خویش، بعد درویش۔
امید: پرانی ضرور ہے، مگر زندہ
یہ کہنا آسان ہے کہ امید ختم ہو چکی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امید ابھی زندہ ہے، کمزور سہی، مگر موجود۔ ہر وہ شخص جو سوال کرتا ہے، ہر وہ لکھنے والا جو دبائو کے باوجود لکھتا ہے، اور ہر وہ قاری جو سچ تلاش کرتا ہے، وہ امید ہے۔ مسئلہ امید کے نہ ہونے کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے امید کو بھی محتاط بنا دیا ہے۔
اختتام
نتیجہ پھر وہی ہو گا
سُنا ہے سال بدلے گا
پرندے پھر وہی ہوں گے
شکاری جال بدلے گا
بدلنا ہے تو دن بدلو
بدلتے کیوں ہو ہندسے کو
مہینے پھر وہی ہوں گے
سُنا ہے سال بدلے گا
وہی حاکم، وہی غربت
وہی قاتل، وہی غاصب
بتائو کتنے سالوں میں
ہمارا حال بدلے گا

جواب دیں

Back to top button