Column

کیا جرنیلوں کا سازباز تھا؟

کیا جرنیلوں کا سازباز تھا؟
صورتحال
سیدہ عنبرین
دنیا بھر کے قریباً دو سو ممالک کے سربراہان اپنی اپنی پہچان رکھتے ہیں، کچھ بہت بہادر، کچھ ڈر پوک، بعض معاملہ فہم، گنتی کے چند جو دور رس نگاہ رکھتے تھے، بعض کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہ تھا، کچھ سراپا جھوٹ ہیں، آج اگر جھوٹوں کے بادشاہ کا مقابلہ ہو تو کون وکٹری سٹینڈ پر سب سے اونچا نظر آئے گا، دنیا اسے خوب جانتی ہے، وہ اقتدار میں دوسری مرتبہ آیا تو ایک نئی کہانی لے کر آیا تھا، آج اس کہانی کا ہر حرف جھوٹ ثابت ہو چکا ہے، اس کے بغل بچوں نے اس کے اقتدار سنبھالنے سے قبل دنیا کو یہ باور کرانے کی کوششیں کیں کہ وہ روایتی سربراہان مملکت سے بہت مختلف ہے، وہ کاروباری آدمی ہے، اپنا کاروبار کامیابی سے چلا چکا ہے، اب امریکہ کو ایک مرتبہ پھر عظیم بنا دے گا اور دنیا بھر کے نظام کو چلنے میں، آگے بڑھنے میں مدد دے گا، اس کی پالیسیاں امن پر مبنی ہوں گی، وہ جنگیں ختم کرانے میں مخلص ہے۔ ٹھیک چند ماہ میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا، آج واضح ہوا وہ بھی وہی کچھ ہے، جو اس سے پہلے والے تھے، کیا بُش اور کیا مُش، اوبامے شومامے، ٹرمپ شرمپ سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔ کوئی کسی سے کسی بھی معاملے میں مختلف نہیں، یہ سب روبوٹ ہیں، سب سی آئی اے کی مرضی سے اقتدار میں آتے ہیں، اسی کے سکرپٹ کے مطابق ملک چلاتے ہیں، یہ لوگ نہتی لڑکی پر متعدد مسلح پولیس افسران سے بندوقیں چھیننے کا الزام لگا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں، جبکہ کسی دوسرے آزاد خود مختار ملک کے سربراہ کو گھر سے مسلح جھتوں کے ذریعے اغوا کرانے کے عمل کو درست قرار دیتے ہیں۔ اغوا کاروں کے سربراہ کی طرف سے اس حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس جھوٹ کا پلندہ تھی۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ کا ایسا ہی پلندہ تھے جیسا ہم نے امریکیوں کی طرف سے ماضی میں کئی مرتبہ دیکھا، ان کے مطابق عراق کے پاس کیمیائی ہتھیار تھے، جبکہ نائن الیون کا بڑا مجرم اسامہ بن لادن تھا۔ وہی اسامہ بن لادن جو کبھی امریکہ کا ہیرو تھا، جس کیلئے امریکہ کے صدر نے سرخ قالین بچھوائے اور امریکی حکومت کے اہم عہدیداروں سمیت اس کے استقبال کیلئے اوول آفس کے کارپورچ میں کھڑا نظر آیا۔
امریکی گماشتے آج ایک نئی کہانی بڑے زور و شور سے سنا رہے ہیں، ان کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ملک کا دفاع بہت کمزور تھا، وہ اپنے صدر کو اغوا ہونے سے نہ بچا سکا۔ کہانی کا دوسرا رخ توجہ طلب ہے جو اس مکمل جھوٹ پر پردہ اٹھاتا ہے۔ یہ اغوا برائے تیل تھا۔ وینزویلا بڑے رقبے کا ملک ہے، اس کے پاس دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ سعودی عرب، روس اور ایران کے ذخائر اکٹھے کر لئے جائیں تو جب بھی وینزویلا کے ذخائر ان سے زیادہ ہیں۔ آبادی تین کروڑ کے قریب تھی، ستر سے اسی لاکھ افراد تلاش روزگار میں دنیا کے دیگر ممالک کا رخ کر گئے۔ اب نظر ڈالیں سوا دو کروڑ آبادی کا ملک کتنی بڑی فوج اور اپنے دفاع کیلئے کیسے ہتھیار رکھتا ہے، اس کی فوج دو لاکھ افراد پر مشتمل ہے، اس کی باقاعدہ آرمی، ایئر فورس اور نیوی موجود ہے، اس کی بڑی دفاعی قوت بولیوین گارڈز 45 لاکھ ہیں۔ آرمی 63000نفوس پر مشتمل ہے۔ بحریہ 15000افراد پر مشتمل ہے۔ فضائیہ سے منسلک افراد کی تعداد 10000ہے۔ اندرون سکیورٹی کیلئے موجود 23000تربیت یافتہ افراد کی فورس ہے، جبکہ صرف صدر مملکت کی سکیورٹی کیلئے 2000افراد ہیں، جن کا تعلق تینوں فوجوں سے ہے، یعنی قریباً ایک بریگیڈ کی نفری ان کی دن رات حفاظت کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ فوج کا ہر افسر اور ہر سپاہی اپنے محل وقوع، اپنے علاقائی تنازعات کے پیش نظر گوریلا جنگ کی تربیت رکھتا ہے۔ اس کے پاس T-72ٹینک، بی ایم بی انفنٹری وہیکلز بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ ایف 16جہازوں کے متعدد سکواڈرنز کے علاوہ ایس یو 30ایم کے جہاز بھی موجود ہیں، جبکہ موثر دفاعی سسٹم اس کے علاوہ ہے۔ وینزویلا کی ناکہ بندی سے چند ماہ قبل روس کو اندازہ ہو چکا تھا کہ امریکہ کوئی بڑی جارحیت کر سکتا ہی، لہٰذا ان کی طرف سے ایک انتہائی تجربہ کار ٹیم نے وینزویلا کا دورہ کیا، اپنے لگائے گئے فضائی دفاعی سسٹم، اس کی بیٹریوں کی مکمل جانچ پڑتال اور بعض ضروری سازو سامان کی اوورہالنگ کرنے کے بعد وینزویلا کی افواج کو آن گرائونڈ چیک کرایا کہ تمام آلات، تمام سسٹم درست انداز میں کام کر رہا ہے، جس کے بعد تمام متعلقہ ادارے اور ان کے سربراہ مطمئن ہو گئے کہ کسی بھی موقع پر کسی بھی طرف سے جارحیت کی گئی تو اس کا موثر جواب دیا جا سکتا ہے۔
اہم سوال یہی ہے کہ جب یہ سب کچھ تھا تو چند سو امریکی فوجی اتنی بڑی کارروائی کرنے میں کیسے کامیاب ہو گئے۔ وینزویلا کی قوت امریکی فوجی قوت کے مقابلے میں یقیناً کم ہے، لیکن وہ اتنے بھی کمزور نہ تھے کہ چند امریکی ہیلی کاپٹر، چند بمبار یا فائٹر جہاز نہ گرا سکتے تھے، مزید برآں ان کی ایک بڑی فوج جو گوریلا جنگ کیلئے تربیت رکھتی تھی وہ امریکیوں کو تیل کے ذخائر تک پہنچنے سے کیوں روک سکی۔
درجنوں شواہد موجود ہیں۔ معاملہ بہت آسان فہم ہے، دشمن کے حملے کے خلاف خطرے کی صورت میں ایک آپریشن روم تیار ہوتا ہے، جس میں موجود ہر کمانڈر کو معلوم ہوتا ہے کہ کس خطرے سے نپٹنے کیلئے کون سا آپریشنل پلان بنایا گیا ہے اور اس موقع پر کس کس کو کیا کرنا ہے۔ ایک فقرے میں سمجھنے کیلئے، ایکشن کا حکم کسی ایک شخص نے دینا تھا، جس نے یہ حکم نہیں دیا، اس کے بعد اس کے چودہ ماتحت تھے جو کائونٹر ایکشن کا حکم دے سکتے تھے، کسی نے ایسا نہ کیا، بلکہ دشمن کو اس کا مشن مکمل کرنے کیلئے بعض سہولتیں مبہم پہنچائیں گئیں، وہ کئی سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے آئے، اپنے راستے میں آنے والی ایک مختصر مزاحمت پر قابو پایا، یہ صدر کے مخلص ترین باڈی گارڈ تھے، جو مقابلہ کرتے مارے گئے، انہوں نے اپنے مقابل امریکی بھی مار گرائے، جن کی تعداد ہمیشہ کیلئے نامعلوم رہے گی، وہ ان کی لاشیں بھی اطمینان سے اٹھا کر لے گئے۔ بادی النظر میں اصل کہانی یہ ہے کہ وینزویلا کی مسلح افواج کے سربراہوں نے مزاحمت کا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ فوج لڑی ہی نہیں اور بغیر لڑے ایک جنگ ہار دی۔ اس کے جرنیل سی آئی اے کے ساتھ ساز باز کر چکے تھے۔ صدر نکولس مادورو کو منظر سے ہٹانے کا اور کوئی دوسرا طریقہ کارگر نہ ہو سکتا تھا، پس ایک طے شدہ منصوبے کے تحت انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا، تمام جرنیل، اداروں کے سربراہ اپنی اپنی پوزیشنز پر قائم ہیں اور طویل عرصہ تک موجیں کرتے رہیں گے۔ ملک کے دفاع میں فائر نہ کھولنے والے کسی شخص کو فائر نہیں کیا گیا، یہی ایک نکتہ کہانی کو واضع کرتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button