Column

دہشتگردی کیخلاف جنگ، ریاستی عزم

دہشتگردی کیخلاف جنگ، ریاستی عزم
دہشت گردی 15 سال تک رہی، جس پر پاک افواج نے انتہائی تندہی سے قابو پایا، تمام دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی گئی، کچھ سال کے امن کے بعد ایک مرتبہ پھر پوری شدت کے ساتھ دہشت گردی سر اٹھا چکی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی جانب سے سینئر صحافیوں کو دی گئی حالیہ بریفنگ سے نہ صرف زمینی حقائق سامنے آئے ہیں بلکہ ان عوامل کی بھی نشاندہی کی ہے جو اس ناسور کے دوبارہ پھیلا کا سبب بن رہے ہیں۔ اعداد و شمار چیخ چیخ کر یہ حقیقت بیان کررہے ہیں کہ دہشت گردی کے 80فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں رونما ہورہے ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم عمل کا نتیجہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا میں دہشت گرد عناصر کو میسر سیاسی طور پر سازگار ماحول ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ماحول کون فراہم کررہا ہے اور کیوں؟ گزشتہ سال سیکیورٹی فورسز نے 75ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں ہزاروں دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات کا تسلسل اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ محض فوجی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ اس جنگ کے سیاسی، فکری اور سفارتی محاذ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں، بیانیے سے بھی پنپتی ہے اور بدقسمتی سے یہی بیانیہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے کمزور کیا جارہا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے واضح الفاظ میں کہا کہ خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ وہی گروہ ہیں جو معصوم شہریوں، بچوں، عورتوں، مساجد اور عوامی مقامات کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے لیے نہ مذہب مقدس ہے، نہ انسان کی جان۔ اس کے باوجود جب ان کے لیے نرم گوشہ رکھا جائے، مذاکرات کی بات کی جائے یا انہیں غلط فہم لوگ قرار دیا جائے تو یہ دراصل شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔ افغانستان کا کردار بھی اس پورے منظرنامے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ 2021ء میں افغانستان میں تبدیلی کے بعد دہشت گردی نے ایک بار پھر سر اٹھایا۔ دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، آج کھوکھلے ثابت ہوچکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان اس وقت فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ بنا ہوا ہے، جہاں تمام دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں اور انہیں منظم، تربیت اور اسپانسر کیا جارہا ہے۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ امریکا افغانستان میں اربوں ڈالر کا جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا، جو آج دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ میں ہے۔ آرمڈ ڈرونز، کواڈ کاپٹرز اور جدید سرویلنس ٹیکنالوجی کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کوئی مقامی یا خودساختہ تحریک نہیں بلکہ ایک منظم بین الاقوامی پراکسی وار ہے، جس کی پشت پناہی بھارت جیسے دشمن ممالک کررہے ہیں۔ بھارت کا کردار اس جنگ میں مسلسل بے نقاب ہورہا ہے۔ معرکۂ حق میں پاکستان نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس کے بعد بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو ہوا دینا، نام نہاد آپریشنز کے ذریعے بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانا، اس کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے۔اس تمام صورت حال میں سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بعض حلقے فوج کی جنگ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بجا طور پر اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ ہر بچے، ہر شہری، ہر ادارے کی جنگ۔ اگر آج دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے نہ اکھاڑا گیا تو کل ہمارے اسکول، دفاتر اور گلیاں محفوظ نہیں رہیں گی۔ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے موجود ہے۔ اب ضروری ہے کہ اس پر بلاامتیاز اور بلا تاخیر عملدرآمد کیا جائے۔ سیاست، ذاتی مفادات اور اقتدار کی کشمکش کو ایک طرف رکھ کر ریاستی مفاد کو مقدم بنایا جائے۔ آئین بالکل واضح ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ کوئی لیڈر، کوئی جماعت، کوئی صوبہ پاکستان سے بڑا نہیں۔ قوم کا ایک ہی باپ ہے، قائداعظم محمد علی جناح۔ باقی سب محض عہدے اور ذمے داریاں ہیں، جن کا مقصد ریاست کی خدمت ہے، نہ کہ اسے کمزور کرنا۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو قربانیاں دی ہیں، ان کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ یہ جنگ ہم نے لڑی ہے، لڑرہے ہیں اور ان شاء اللہ جیتیں گے۔ شرط صرف ایک ہے واضح موقف، غیر متزلزل عزم اور قومی یکجہتی۔ حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور پاکستان حق پر ہے۔
خودکشی ایک حرام عمل
اسلام کامل اور جامع دین ہے جو انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ زندگی کی قدر و قیمت اور اس کی حفاظت کو اسلام میں انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن و سنت میں جہاں انسانوں کو دیگر اخلاقی اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، وہیں زندگی کو قیمتی سمجھتے ہوئے خودکشی جیسے عمل سے بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔ خودکشی ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے اندر مایوسی، اضطراب اور پست ہمتی کی علامت ہوتا ہے۔ اس عمل کے پیچھے کئی عوامل ہوسکتے ہیں، جیسے ذہنی دبائو، مالی مشکلات، یا ذاتی مسائل مگر اسلام نے ہمیں ان مشکلات سے نمٹنے کے لیے صبر، توکل اور دعا کے ذریعے رہنمائی دی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ( ترجمہ): ’’ اور خود کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے۔’’ (النسائ: 29)۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا خود فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں، کیونکہ زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ ہے۔ جو لوگ خودکشی کے عمل کو اختیار کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی مشکلات کا حل اللہ کی رضا میں تلاش کرنے کے بجائے، اللہ کی تخلیق کردہ زندگی کو ضائع کر دیتے ہیں۔ اسلام میں صبر اور تحمل کی اہمیت بے حد ہے۔ خاتم النبیینؐ نے فرمایا، ( ترجمہ) : ’’ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ صبر کرنے والوں کو انعام دیتا ہے‘‘۔ اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر پریشانی اور تکلیف کا مقابلہ صبر کے ساتھ کرنا ضروری ہے۔ مشکلات اور آزمائشیں انسان کی زندگی کا حصہ ہیں اور ان کا سامنا کرنا انسان کے ایمان کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان مشکلات کے باوجود اللہ کی رضا کی کوشش کرے تو اللہ اسے انعام دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں زندگی کو ایک امانت کے طور پر لیا گیا ہے۔ ہر فرد کی زندگی کا ایک مقصد ہے اور اس مقصد کو پورا کرنا اور اللہ کی رضا کی کوشش کرنا اس کا فرض ہے۔ خودکشی کرنا دراصل اس امانت کی خلاف ورزی ہے اور اس سے انسان اللہ کی رضا اور اس کے مقرر کردہ راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ خودکشی کے عمل سے نہ صرف فرد کی زندگی ختم ہوتی، بلکہ اس کے اہل خانہ اور معاشرتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خاندان والے اور قریبی لوگ اس صدمے سے زندگی بھر باہر نہیں نکل پاتے۔ اسلام نے ہمیں معاشرتی ذمے داریوں کا بھی احساس دلایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خودکشی کو نہ صرف فرد کی ذاتی آزادی بلکہ دوسرے لوگوں کی زندگیوں پر بھی اثرانداز ہونے والا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اسلام میں علاج اور مدد حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اگر کسی کو ذہنی دبائو یا پریشانی کا سامنا ہو تو وہ ماہرین سے مدد لے سکتا ہے اور اپنی مشکلات کا حل اللہ کی رضا میں تلاش کر سکتا ہے۔ خودکشی انتہائی غلط عمل ہے، جس سے انسان اللہ کے راستے سے ہٹ کر اپنی زندگی کو ختم کرتا ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کی قدر کرنے، صبر کرنے اور اللہ کی مدد طلب کرنے کی تعلیم دی ہے تاکہ ہم ہر آزمائش میں اس کی رضا کو مقدم رکھ سکیں۔

جواب دیں

Back to top button