تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

پولیس کے رشوت مانگنے پر لوڈر رکشہ ڈرائیور نے اپنا رکشہ کو آگ لگا دی

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک ڈرائیور نے اپنے لوڈر رکشے کو احتجاجاً نذر آتش کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ادھر پولیس کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی ہے کہ ٹریفک اہلکاروں کی طرف سے رکشے کے مالک سے رشوت مانگی گئی تھی۔

اس شخص نے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان سے تنگ آ کر ایسا کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔

پانی کی عدم موجودگی میں ٹریفک پولیس اہلکاروں نے لوڈر رکشے میں موجود دودھ سے آگ کو بجھانے کی کوشش کی۔ اس آگ سے لوڈر رکشے کو شدید نقصان پہنچا۔

پولیس حکام نے ڈرائیور کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرائیور کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھے۔

لوڈر رکشے کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ ایئرپورٹ روڈ پر قندھار ناکہ کے علاقے میں پیش آیا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکشہ آگ کی لپیٹ میں ہے۔

اس ویڈیو میں لوڈر رکشے کا ڈرائیور ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’ان کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے ایسا کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان کی منت سماجت کی۔ اہلکاروں نے تھپڑ مارا، بے عزت کیا اور دودھ بھی گرایا۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار ’پیسے مانگتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے کچھ بچتا نہیں ہے۔‘

لوڈر رکشے میں دودھ کے کین تھے۔

ایک پولیس اہلکار دودھ کا کین اٹھا کر دودھ آگ پر ڈال رہا ہوتا ہے تو اس دوران پشتو زبان میں ڈرائیور آ کر ان کو آگ بجھانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’میں اس کے پیسے نہیں مانگوں گا۔‘

اگرچہ دودھ سے آگ تو بجھ جاتی ہے لیکن اس سے قبل ہی آگ سے لوڈر کے موٹر سائیکل کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے ڈرائیور سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جواب دیں

Back to top button