ذہنی صحت کا بڑھتا بحران، ایک عالمی چیلنج

ذہنی صحت کا بڑھتا بحران، ایک عالمی چیلنج
محمد نورالہدیٰ
ڈپریشن اور انزائٹی بڑھتے ہوئے سماجی چیلنج بن چکے ہیں۔ ہم جتنی تیزی سے مختلف مسائل کا شکار ہو رہے ہیں، ڈپریشن اور انزائٹی اتنا ہی ہم میں سرایت کرتی جا رہی ہے۔ ان عناصر کا براہ راست اثر ہماری ذہنی صحت ( مینٹل ہیلتھ ) کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت پر بھی ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مینٹل ہیلتھ لٹریسی کی جتنی اہمیت آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔ پاکستان میں سرکاری یا غیر سرکاری طور پر بہت کم ادارے مینٹل ہیلتھ کیلئے کام کر رہے ہیں۔
’ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ‘ بھی انہی میں سے ایک ہے جو اندرون و بیرون ملک ذہنی صحت کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے، مختلف مسائل کا شکار مریضوں کو بلامعاوضہ سپورٹ، ٹریننگ فراہم کرنے، اور معاشرتی سٹیگما کم کرنے کیلئے متحرک ہے۔ اس ضمن میں کمیونٹی سینٹرز، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر پلیٹ فارمز پر شعور بڑھانے اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے پروگرامز، ورکشاپس، سیشنز، مباحثے اور پبلک ایونٹس منعقد کرانا پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ کا خاصہ ہے۔ یہ تنظیم مختلف بیماریوں کا شکار مریضوں کو ڈپریشن سے نکال کر بیماری کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کر رہی ہے، تاکہ وہ ہمت اور مضبوط ذہن کے ساتھ اسے شکست دے سکیں۔
اسی موضوع پر اس آرگنائزیشن نے گزشتہ دنوں مشاورتی سیمینار اور ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ اس انٹرنیشنل کانفرنس کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر سے متعلقہ ماہرین، پالیسی سازوں اور سٹیک ہولڈرز کو سعودی عرب کے شہر مدینہ میں مدعو کیا گیا جس میں مینٹل ہیلتھ پر سیر حاصل مشاورت ہوئی اور بالخصوص پنجاب کیلئے مینٹل ہیلتھ پالیسی ڈرافٹ تیار کرنے کیلئے تجاویز اکٹھی کی گئیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ کے روح رواں پروفیسر نصرت حسین، ڈاکٹر نسیم چودھری، نور الزمان صدیقی اور ان کی ٹیم اس مناسبت سے گو کہ حکومت سندھ کے ساتھ ملکر تعلیم اور صحت کے محاذ پر کام کر رہی ہے۔ اس ضمن میں سندھ کو ایک جامع پالیسی بھی بنا کر دے چکی ہے، جس کو بروئے کار لاتے ہوئے وہاں مینٹل ہیلتھ کیلئے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ اب پنجاب کیلئے بھی پالیسی بنانے پر کام کر رہی ہے۔ مدینہ میں ہونے والی 13ویں گلوبل انٹرنیشنل کانفرنس برائے مینٹل ہیلتھ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، جس میں پنجاب اور وفاق کے نمائندہ پارلیمنٹیرینز، سٹیک ہولڈرز اور پالیسی میکرز نے ڈائیلاگ کے ذریعے مینٹل ہیلتھ لٹریسی کیلئے اقدامات کی ترویج کے لئے اپنی آرا دیں۔
مینٹل ہیلتھ، ایک گلوبل ہیلتھ چیلنج ہے، جو پاکستان سمیت دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔ دیگر ممالک میں مینٹل ہیلتھ کی مضبوطی کی شرح پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت اندازاً 34فیصد افراد کو پیشہ ورانہ طور پر ذہنی صحت کی بہتری کیلئے ماہرین ( یعنی ہیلتھ سروس) کی ضرورت ہے۔ یہ 34فیصد آبادی کسی نہ کسی بیماری سے متاثر ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سٹریس کے چیلنج سے نبرد آزما ہیں۔ یہ سٹریس فیملی اور کمیونٹی سے ہوتا ہوا جنریشن میں منتقل ہو تا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کا ہر چوتھا فرد کسی نہ کسی وجہ سے ڈپریشن میں مبتلا ہے۔ مختلف تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ پاکستانی افراد میں ڈپریشن اور اینگزائٹی کی شرح 25فیصد کے درمیان ہے۔ اس عنصر کے غالب ہونے کی وجہ سے سالانہ لاکھوں افراد اپنی مینٹل ہیلتھ بھی کھوتے جا رہے ہیں۔ مینٹل ہیلتھ کا گرنا ان کی صلاحیت، صحت، سماجی زندگی اور روزمرہ امور کو متاثر کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے خودکشی، خود سوزی جیسے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ملک میں گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 1000خودکشیاں انہی وجوہات کی بنا پر ہوئی ہیں۔
ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں مینٹل ہیلتھ سروسز کیلئے بجٹ نہایت ہی محدود ہے۔ مجموعی بجٹ کا تقریباً اعشاریہ 4فیصد بجٹ مینٹل ہیلتھ پر خرچ کیا جا رہا ہے، صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی اس ضمن میں اوسطاً 1سے 2فیصد ہی خرچ کیا جاتا ہے، جو کہ معاشی جدوجہد اور سماجی دبائو کا شکار افراد کی مینٹل ہیلتھ کی بہتری پر استعمال ہونے کیلئے ناکافی ہے۔
’’ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ‘‘ کی مذکورہ انٹرنیشنل کانفرنس میں پنجاب کیلئے مجوزہ ہیلتھ پالیسی تیار کرنے کیلئے سفارشات پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی اور مینٹل ہیلتھ لٹریسی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذہنی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان لیونگ اینڈ لرننگ آرگنائزیشن نے صوبے کی ذہنی صحت کے نظام کو مضبوط اور منظم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے پنجاب حکومت کو اپنی خدمات پیش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ گو کہ یہ تنظیم پنجاب کے تعلیمی اداروں اور کمیونٹی میں محدود پیمانے پر آگاہی کے حوالے سے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے، لیکن حکومت پنجاب کے تعاون سے ان اقدامات کو مزید بڑھانے کی خواہش رکھتی ہے۔
فیملی سپورٹ ڈپریشن سے نکلنے میں مدد دیتی ہے۔ پاکستان لیونگ اینڈ لرننگ انسٹیٹیوٹ شہر شہر جا کر فیملی سپورٹ کے حوالے سے کمیونٹی کی شمولیت سے کمیونٹی ڈویلپمنٹ تک آگاہی پیدا کر رہی ہے۔ یہ تنظیم سمجھتی ہے کہ فیملی سپورٹ نفسیاتی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور اس کے توسط سے ذہنی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اسی ضمن میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ تعلیمی ماہرین، پالیسی سازوں اور سٹیک ہولڈرز کو مشاورت کیلئے ایک پیج پر اکٹھا کرتی رہتی ہے، تاکہ معاشرے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے موثر اقدامات کئے جا سکیں۔ خودکشی کی روک تھام، منشیات کے خلاف آگاہی، بیماریوں کے حوالے سے ڈپریشن کے خلاف نوجوانوں، والدین کی رہنمائی، خواتین کو بااختیار بنانے اور اس ضمن میں خصوصی پالیسی اقدامات، کیپیسٹی بلڈنگ، سیلف ہیلتھ سٹریٹیجی سکھانا، معاشرے میں ذہنی صحت سے آگاہی اور اس سے بچا کے حفاظتی تدابیر پر کام جیسے اقدامات کے ذریعے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ صحت مند اور مضبوط معاشرے کی جانب اہم قدم اٹھا رہی ہے۔
ہم چونکہ پاکستان میں رہتے ہیں تو پاکستان کی ہی بات کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ ملک میں ہر سطح پر ذہنی صحت سے آگاہی اور حفاظتی تدابیر کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ایک ایسی مضبوط حکمت عملی مرتب کی جانی چاہئے جو علاج کے ساتھ ساتھ آگاہی بھی پیدا کر سکے۔ کم لاگت، پائیدار ذہنی صحت کے ماڈلز، سکولوں میں دماغی صحت سے متعلق مداخلت، کمیونٹی سپورٹ اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کے ماڈل پر کام کرتے ہوئے مینٹل ہیلتھ کے کمزور انفرا سٹرکچر پر توجہ دینا اور اپنے روز مرہ امور میں استحکام لانا نہایت ضروری ہو چکا ہے۔





