ColumnZia Ul Haq Sarhadi

پاکستان میں اینٹی ریبیز ( سگ گزیدگی) ویکسین کی کمی

پاکستان میں اینٹی ریبیز ( سگ گزیدگی) ویکسین کی کمی
ضیاء الحق سرحدی
گزشتہ دنوں پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں سگ گزیدگی کے کیسز اور آوارہ کتوں کی تعداد کے پیش نظر خصوصی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ سارے شہروں میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریبیز سے ہر سال تقریباً 55ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔ کتا اگر آپ کو کاٹتا ہے تو اس سوچ بچار میں وقت ضائع مت کیجیے کہ وہ پاگل تھا یا گھریلو تھا، پہلی فرصت میں قریبی سرکاری ہسپتال جائیے۔ وہاں ایمرجنسی والے اس صورتحال کو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے سو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، آپ روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں۔ جو مرچیں لگانا، سکہ باندھنا، تعویز بندھوانا، یہ سب تُکے لگانے جیسا ہے۔ اگر کتا پاگل نہیں تھا تو یہ سب ٹوٹکے کام کریں گے، اگر پاگل تھا تو موت یقینی ہے! اگر ہسپتال دور ہے تو صابن اور بہتے پانی سے دس پندرہ منٹ تک اچھی طرح زخم کو دھوئیے اس کے بعد پٹی مت باندھیں۔ اسے کھلا رہنے دیجیے اور ہسپتال چلے جائیے۔ اب 14ٹیکوں کا زمانہ گزر گیا۔ ایک مہینے میں پانچ ٹیکوں ( شیڈول: 0۔3۔7۔14۔28) کا کورس ہو گا، بہت سی کمپنیوں کی بنائی سیل کلچرڈ ویکسینز مارکیٹ سے مل سکتی ہیں۔ جو چیز یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ کسی اچھی فارمیسی سے ویکسین خریدی جائے کیوں کہ اس کا اثر تب ہی بہتر ہو گا جب یہ مسلسل کولڈ چین میں رہے گی۔ کوئی بھی ویکسین ( سوائے پولیو اورل کے) بننے سے لے کر دکان پر آنے تک دو سے آٹھ ڈگری کا ٹمپریچر مانگتی ہے، جب بھی یہ سلسلہ ٹوٹے گا، بہرحال اس کا اثر ویکسین کی کوالٹی پر ہو گا۔ ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIGلگوانے بھی اکثر ضروری ہوتے ہیں۔ اگر کتا آپ کا اپنا پالتو نہیں ہے تو کوئی رسک لینے سے بہتر ہے کہ ریبیز امیونوگلوبیولین RIGضرور لگوائیں۔ اسی طرح کتا جتنا سر کے قریب کاٹے گا، وائرس اتنی تیزی سے دماغ تک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پائوں پر یا ٹانگ پر کاٹا ہے تب بھی جلدی ہسپتال جانا ضروری ہے لیکن کندھے یا گردن والے معاملے میں بے احتیاطی ہرگز نہیں ہونی چاہئے، فوری طور پر ہسپتال کا رخ کرنا اور ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG( یہ بھی کئی کمپنیوں کے موجود ہیں) لگوانا بہتر ہے۔ کتے کا پنجہ لگے، کوئی خراش ہو جائے، یا آپ کے کسی زخمی حصے کو کتا چاٹ جائے، ریبیز کا ٹیکہ لگوا لیجیے، احتیاط لازم ہے۔ ریبیز کی بیماری کی علامت دو طرح سے ہوتی ہیں جن میں سے ایک کوFuriousاور دوسرے کو Dumbکہتے ہیں۔Furiousحالت میں متاثرہ شخص کے کتے کے کاٹنے کے بعد دماغ میں ہونے والی سوزش کے باعث ڈپریشن اور بے چینی کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ علامت کتے کے کاٹنے کے دو سے چار دنوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے جس میں پہلے مرحلے میں متاثرہ شخص کو کتے کے کاٹنے سے موجود زخم میں شدید چبھن، خارش اور درد محسوس ہونے لگتا ہے اور مریض کو بے حد بے چینی، سردرد، تھکاوٹ اور بخار بھی ہو جاتا ہے اور جب یہ Lyssa Virusمریض کے دماغ تک پہنچ تک جاتا ہے تو اس پر شدید ہیجانی دورے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ دیوانگی اور اعصابی تشنج کے ساتھ ساتھ متاثرہ شخص کو پانی سے خوف اور ہوا سے خوف کی شکایت بھی ہو جاتی ہے، وہ بند کمرے میں کونے میں چھپ کر بیٹھے رہنے کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض حالتوں میں روشنی سے بھی خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ مریض کو سانس لینے میں رکاوٹ اور مشکل پیش آتی ہے اور اس کی آنکھوں کی پتلی ٹھہر سی جاتی ہے۔ یہ سب علامتیں ظاہر ہو جانے کے بعد مریض کے بچنے کے امکانات بے حد کم رہ جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم یعنی Dumbحالت میں متاثرہ شخص کے اعضاء کے پٹھوں کی کمزوری اور فالج جیسے علامات یا کیفیات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور مریض بالکل بے سدھ سا ہو جاتا ہے۔ غشی اور نیم بے ہوشی کی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے اور پھر کچھ ہی عرصے میں مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ کتے کے کاٹنے پر لگائی جانے والی ( اینٹی ریبیز) ویکسین کی ملک بھر میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ قومی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کتے کے کاٹنے پر لگائی جانے والی ویکسین کی ڈیمانڈ دس لاکھ ہے۔ این آئی ایچ میں سالانہ دو لاکھ ویکسین تیار کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 5ہزار اموات کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ ہم اینٹی ریبیز ویکسین بھارت سے منگواتے تھے اب ایک تو بھارت کے ساتھ تعلقات کچھ ٹھیک نہیں ہیں اور دوسرے اب بھارت میں بھی سگ گزیدگی کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے لہٰذا انہوں نے اینٹی ریبیز ویکسین کی فروخت روک دی ہے کیونکہ جتنی ویکسین وہاں تیار ہوتی ہے اس کی بھارت میں ہی کھپت ہو جاتی ہے۔ اگر ہماری ضرورت پوری نہیں ہوتی تو یہ ویکسین سنگاپور، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں بھی تیار کی جاتی ہے جہاں سے اس کی خریداری کافی زیادہ مہنگی پڑتی ہے لیکن مہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور اپنے عوام کو دوا کے بغیر تڑپ تڑپ کر مرنے دیں، اول تو ہمیں اس ویکسین کی خود تیاری کرنی چاہیے تھی لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر ہمیں بیرون ملک سے اس ویکسین کی ضرورت کے مطابق خریداری کرنی چاہیے تھی خواہ کتنی بھی رقم خرچ ہوتی اب بھی صحت کے حوالے سے مختص کیا ہوا بجٹ پورا خرچ نہیں ہوتا بلکہ اس میں سے کافی حصہ بچ جاتا ہے اگر اس کو بچانے کے بجائے ہم اینٹی ریبیز کی خریداری پر خرچ کریں تو کم از کم عوام کی جان تو بچائی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اگر اینٹی ریبیز ویکسین کی کمی تھی تو ہمارا محکمہ صحت اس کمی کو دیکھتے ہوئے کتوں کو ایسے انجیکشن لگاتا جس سے ان کے اندر ان زہریلے مادوں کو ختم کیا جا تا جو سگ گزیدہ انسان کی موت کا سبب بنتے ہیں نیز کتوں کی نس مارنے کے انجیکشن بھی لگائے جانے چاہئیں، جو آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ کو روکنے کا باعث بنتے، لیکن ہمارا محکمہ صحت کسی تدبیر یا منصوبے کے تحت نہیں چل رہا، اس ضمن میں حکومت کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس وقت کراچی میں کتے کے کاٹے ( سگ گزیدگی) کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی میں جون اور جولائی کے دوران سگ گزیدگی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، ڈاکٹرز کے مطابق اس عرصے میں سول ہسپتال میں سگ گزیدگی کے 2ہزار 29کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جناح ہسپتال میں ایک ہزار 392مریض لائے گئے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سگ گزیدگی کے زیادہ تر واقعات نارتھ کراچی، سرجانی اور بلدیہ ٹائون سے رپورٹ ہوئے ہیں، کتے کے کاٹنے کے 24گھنٹے کے اندر ویکیسن لگوانا ضروری ہے جبکہ سول ہسپتال ڈاکٹر رومانہ کے مطابق زیادہ تر کیسز کا تعلق بلدیہ ٹائون، سرجانی اور نارتھ کراچی سے ہے۔ سول ہسپتال میں یومیہ 60سے 70کیس رپورٹ ہو رہے ہیں، جناح ہسپتال میں یومیہ 20سے 30افراد کو لایا جا رہا ہے۔ لاہور میں سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات کا عدالت نے نوٹس لی لیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کے شہریوں کو کاٹنے کے بڑھتے واقعات پر متعلقہ محکموں سے رپورٹس طلب کر لی ہیں۔ آوارہ کتوں سے متاثرہ افراد کے علاج معالجہ کے لیے ویکسین فراہم نہ کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو ہسپتال کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ میو ہسپتال میں 14ماہ کے دوران کتوں کے کاٹنے سے متاثر ہونے والے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، میو ہسپتال میں 24ستمبر 2024 ء سے اب تک 1796مریض لائے گئے۔ شہر کے کئی علاقوں میں بچے اس خطرے کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

جواب دیں

Back to top button