Column

ابو عبیدہ: نقاب میں چھپی ایک صدی کی داستان

ابو عبیدہ: نقاب میں چھپی ایک صدی کی داستان
ٔ ثنا اللہ مجیدی
کچھ لوگ اپنی صورت سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ اپنے سیرت سے، کچھ نام اس لیے زندہ رہتے ہیں کہ وہ نظر آتے ہیں، اور کچھ اس لیے کہ وہ نظر نہ آکر بھی دلوں پر نقش ہو جاتے ہیں فلسطین کی معاصر تاریخ میں ابو عبیدہ انہی ناموں میں شامل ہے جنہوں نے خود کو چھپایا، مگر ایک قوم کو نمایاں کر دیا جنہوں نے اپنی ذات کو پیچھے رکھا مگر ایک جماعت کو آگے بڑھایا اور جنہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ تحریکیں چہروں سے نہیں کردار سے زندہ رہتی ہیں۔
عسقلان ارضِ مقدس کا وہ تاریخی شہر ہے جس کا ذکر زبانِ رسالتؐ سے منقول ہے اور جس نے ابنِ حجر عسقلانی جیسی نابغہ روزگار علمی شخصیت کو جنم دے کر تاریخ میں اپنا مقام محفوظ کر لیا مگر جب صیہونی قبضے نے اس شہر پر دستک دی تو صرف زمین ہی نہیں بدلی شناخت بھی چھین لی گئی۔ عسقلان کو اشکلون بنا دیا گیا گویا تاریخ پر ایک نیا نام چسپاں کر کے اصل حقیقت مٹانے کی کوشش کی گئی۔ اسی شہر میں الکحلوت خاندان نسلوں سے آباد تھا، مگر 1948ء کے نکبہ نے اس خاندان کو بھی دیگر لاکھوں فلسطینیوں کی طرح ہجرت پر مجبور کر دیا۔ اپنے گھر کھیت گلیاں اور یادیں چھوڑ کر یہ خاندان غزہ کے جبالیا مہاجر کیمپ میں آ بسا جہاں زندگی خیموں، تنگ راستوں اور مستقل اضطراب کے سائے میں سانس لیتی ہے۔
انہی مہاجرین میں سمیر الکحلوت بھی شامل تھے، جو بعد ازاں روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب چلے گئے۔ وہاں 11 فروری 1984ء کو ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام حذیفہ رکھا گیا۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی مگر جلد ہی والدین کے ساتھ وطن واپس لوٹ آیا کم عمری میں ہی اس بچے نے ہجرت محرومی اور بے وطنی کا وہ بوجھ اٹھا لیا جو عام طور پر عمر بھر انسان کو توڑ دیتا ہے، مگر یہی بوجھ اس کے لیے طاقت بن گیا۔ یہی بچہ آگے چل کر ابو عبیدہ کہلایا وہ آواز جسے دنیا نے سنا مگر کبھی چہرہ نہ دیکھا۔
جبالیا کی خیمہ بستی میں گزرا ہوا بچپن اس کی شخصیت کا اصل سرمایہ تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں وسائل کم، مگر حوصلے بلند تھے جہاں اندھیرے زیادہ، مگر امید بجھتی نہیں تھی۔ تنگ گلیاں، خوف میں کھیلتے بچے بجلی کی کمی اور آسمان سے برستی آگ یہ سب اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ مگر انہی حالات نے اس کے اندر صبر، استقامت اور قربانی کا وہ شعور پیدا کیا جو بعد میں اس کی مزاحمتی زندگی کی بنیاد بنا۔ اس کے والد ایک دین دار اور باوقار انسان تھے، جنہوں نے اولاد کی تربیت قرآن و اخلاق کی روشنی میں کی۔ حذیفہ نے کم عمری میں قرآن سے تعلق جوڑا، اس کی غیر معمولی ذہانت اور مضبوط حافظہ اسے دوسروں سے ممتاز کرتے چلے گئے۔ تعلیم کے میدان میں بھی وہ محض ایک طالب علم نہ تھا بلکہ ایک متلاشی ذہن تھا۔ جامعہ اسلامیہ غزہ میں اس نے دینی علوم کے ساتھ تاریخ، عقیدہ اور سیاسی فکر کا گہرا مطالعہ کیا۔ 2013ء میں اس نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، اور اس کی تحقیق کا موضوع’’ ارضِ مقدس: یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے درمیان تاریخی تعلق‘‘ تھا۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت تھی کہ ابو عبیدہ صرف بندوق کی زبان نہیں جانتا تھا، وہ تاریخ کے نشیب و فراز، مذہبی بیانیوں اور فکری جنگ کے اسرار سے بھی آگاہ تھا۔ وہ بخوبی جانتا تھا کہ جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، جنگ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہے، اور بیانیہ وہ ہتھیار ہے جو نسلوں کا رخ موڑ دیتا ہے۔2002ء میں اس نے عملی طور پر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ القسام بریگیڈز سے وابستگی کے بعد جلد ہی اس کی فصاحت، اعتماد اور فکری پختگی نے اسے میڈیا محاذ پر نمایاں کر دیا۔ اسے ’’ ابو عبیدہ‘‘ کا لقب دیا گیا ایک ایسا نام جو سیدنا ابو عبیدہ عامر بن الجراحؓ کی یاد دلاتا ہے، وہ صحابیؓ جو امین الامت کہلائے، جنہوں نے فتح کے بعد بھی انکساری اور اصول پسندی کو نہ چھوڑا۔ شاید یہی نسبت تھی جس نے اس نام کو صرف ایک کنیت نہیں، بلکہ ایک علامت بنا دیا۔
ابو عبیدہ نے ابتدا ہی سے یہ اصول طے کر لیا تھا کہ وہ خود کو سامنے نہیں لائے گا۔ کبھی سیاہ نقاب، کبھی سرخ دھاریوں والا کوفیہ چہرہ ہمیشہ پردے میں رہا، مگر پیغام پوری قوت سے دنیا کے سامنے آتا رہا۔ اس کی آواز میں اعتماد تھا، اس کے الفاظ میں وزن تھا، اور اس کے بیانات میں ذمہ داری کا احساس نمایاں تھا۔ وہ جنگی محاذ پر صفِ اوّل میں رہنے والوں کی ترجمانی بھی کرتا تھا اور لفظی محاذ پر دشمن کے اعصاب پر کاری ضرب بھی لگاتا تھا۔ دشمن اس کے نام سے خائف رہتا، اور اپنے لوگوں کے لیے وہ حوصلے، استقلال اور وقار کی علامت بن چکا تھا۔
جون 2006ء میں اس کا وہ بیان، جس میں ایک بڑی کارروائی کا اعلان کیا گیا، فلسطینی عوام کے لیے امید کی کرن ثابت ہوا۔ اس کے بعد ہر معرکے میں اس کی آواز کا انتظار رہتا۔ بچے اس کی نقل کرتے، نوجوان اس کے الفاظ میں عزم تلاش کرتے، اور دنیا بھر میں فلسطین سے محبت رکھنے والے افراد اس نقاب پوش ترجمان کے اگلے بیان کے منتظر رہتے۔ اس کے بیانات میں نہ مبالغہ ہوتا، نہ غیر ذمہ دارانہ جوش؛ بلکہ ایک نپا تلا، باوقار اور اخلاقی برتری سے لبریز لہجہ ہوتا، جو مزاحمت کو محض ردِعمل نہیں بلکہ ایک اصولی جدوجہد کے طور پر پیش کرتا تھا۔
اس کی سب سے بڑی قوت اس کی خاموشی تھی۔ وہ کم بولتا تھا، مگر جب بولتا تھا تو الفاظ تاریخ میں درج ہو جاتے تھے۔ اس نے کبھی ذاتی عظمت کا دعویٰ نہیں کیا، کبھی اپنی ذات کو تحریک سے بڑا نہیں سمجھا۔ وہ ہمیشہ ’’ ہم‘‘ کی زبان بولتا رہا، ’’ میں‘‘ سے گریز کرتا رہا۔ یہی وصف اسے محض ایک ترجمان نہیں بلکہ ایک ادارہ بنا گیا۔ اس کے بیانات میں شہداء کے لیے احترام، قیدیوں کے لیے عزم، اور عوام کے لیے اعتماد جھلکتا تھا۔
جدید جنگ میں جہاں کیمرہ، اسکرین اور سوشل میڈیا فیصلہ کن ہتھیار بن چکے ہیں، وہاں ابو عبیدہ نے خاموش وقار، علامتی حاضری اور محدود مگر بامعنی الفاظ کے ذریعے ایک نیا اسلوب متعارف کروایا۔ وہ میڈیا کی چکاچوند میں گم نہیں ہوا، بلکہ میڈیا کو اپنے بیانیے کا محتاج بنا دیا۔ اس کا ہر بیان ایک واقعہ بن جاتا، ایک سرخی بنتا، اور ایک بحث کو جنم دیتا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ابو عبیدہ ایک فرد نہیں رہا، وہ ایک علامت بن گیا۔ ایسی علامت جو بتاتی ہے کہ طاقت صرف اسلحے میں نہیں ہوتی، طاقت یقین میں ہوتی ہے؛ طاقت صرف تعداد میں نہیں ہوتی، طاقت مقصد کی سچائی میں ہوتی ہے۔ وہ ان لاکھوں فلسطینی بچوں کی امید بن گیا جو ملبے کے درمیان بھی مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، اور ان مائوں کی دعا بن گیا جو اپنے بیٹوں کو حق کے راستے پر قربان کر دیتی ہیں۔
آج جب دنیا طاقت کے پیمانے بدل رہی ہے، اور سچ کو دبانے کے لیے شور پیدا کیا جا رہا ہے، ابو عبیدہ جیسی شخصیات یاد دلاتی ہیں کہ خاموشی، وقار اور اصول پسندی اب بھی سب سے مضبوط ہتھیار ہیں۔ وہ چہرہ دکھائے بغیر بھی پہچانا جاتا ہے، وہ نام لیے بغیر بھی یاد رکھا جاتا ہے، اور وہ موجود نہ ہو کر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔
ابو عبیدہ کی کہانی دراصل ایک فرد کی کہانی نہیں، یہ ایک قوم کے حوصلے، ایک نظریے کی استقامت اور ایک جدوجہد کے اخلاقی وقار کی داستان ہے۔ وہ آواز جسے دنیا نے سنا، مگر کبھی چہرہ نہ دیکھا وہ آواز تاریخ کے صفحات میں دیر تک گونجتی رہے گی۔
ابو عبیدہ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل قیادت نمائش میں نہیں، ایثار میں ہوتی ہے اصل طاقت شور میں نہیں، استقلال و استقامت میں ہوتی ہے اور اصل کامیابی شخصیت میں نہیں، جماعت میں ہوتی ہے۔ وہ دنیا کو یہ پیغام دے گیا کہ چہرے مٹ جاتے ہیں، مگر نظریے زندہ رہتے ہیں نام بدل جاتے ہیں، مگر مقصد باقی رہتا ہے۔ ابو عبیدہ ایک فرد نہیں تھا، ایک معیار تھا اور معیار کبھی مرتے نہیں۔

جواب دیں

Back to top button