CM RizwanColumn

بھوکا امریکہ ننگا ہو گیا

جگائے گا کون؟
بھوکا امریکہ ننگا ہو گیا
تحریر: سی ایم رضوان
بین الاقوامی سیاسیات کے تناظر میں اگر دنیا میں اس وقت جاری تمام تر جنگوں، تنازعات، فسادات اور ان سے جنم لینے والے حالات و واقعات کو چند فقروں میں بیان کیا جائے تو یہ واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں نہ تو کہیں جمہوریت نافذ ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی اصول کسی بڑی طاقت یا عالمی حکمران کے پیش نظر ہے اور اس وقت دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی کسی کمزور کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی ملک کی اندرونی سیاست کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ وہاں جمہوریت نہیں سراسر آمریت اور اجارہ داری ہے۔ آپ کسی بھی بڑی اور عالمی طاقت کی پالیسی کا تجزیہ کر لیں تو عقدہ یہ کھلے گا کہ یہ بھی اجارہ داری اور انسانیت دشمنی پر مبنی ظالمانہ اصول پر عمل پیرا ہے۔ آپ عصر حاضر کے کسی بھی عالمی، انقلابی، مذہبی اور سیاسی لیڈر کو نزدیک سے دیکھیں تو چراغ تلے اندھیرا ہی نظر آئے گا۔ اب اگر امریکہ کو دیکھیں تو ایک طرف اس کی اپنی معیشت ڈوب رہی ہے اور دوسری طرف وہ حال ہی میں تاریخ کا زائد ترین ٹیرف لگا بھی اسے سنبھالا دینے میں ناکام ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ اب وہ اپنی پرانی پالیسی پر واپس آ گیا ہے کہ کمزور اور تیل والے ممالک پر چڑھائی کر کے ان کے وسائل لوٹ کر اپنے ملک کو بچا لے لیکن اب لگتا ہے کہ وہ ایسا بھی نہیں کر پائے گا۔
چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے لئے وینزویلا پر جو ناجائز فوجی حملہ کیا ہے اس ظالمانہ کارروائی نے ٹرمپ کو دنیا بھر میں ذلیل کر کے رکھ دیا ہے۔ روس، چین، ایران، کولمبیا اور دنیا کے ہر کونے سے اس پر لعنت کے تومار برس رہے ہیں۔ خود امریکی عوام اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ جبکہ امریکہ کی اپنی معاشی بدحالی کی صورتحال یہ ہے کہ پندرہ جولائی 2025ء کو دنیا کی اس سپر پاور امریکہ پر چھتیس کھرب پچاس ارب ڈالر کا واجب الادا قومی قرض تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا ہے کہ ہر امریکی بچہ، بوڑھا، جوان ایک لاکھ سات ہزار ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے اور صرف اس قرضے پر سود چکانے کے لئے ہر سال نو سو پچاس ارب ڈالر درکار ہیں جو آنے والے سالوں میں ایک کھرب ہونے والے ہیں۔ یہ رقوم کسی جنگ کے اخراجات نہیں، نہ ہی کسی عظیم الشان ترقیاتی منصوبے کا حصہ ہیں۔ بس یہ قرض پر قرض کا وہ مینار ہے جو ہر آنے والی حکومت نے دنیا کی اس طاقتور ترین ریاست میں کھڑا کیا ہے۔ قومی پیداوار کے مقابلے میں قرضے کا تناسب کچھ یوں ہے کہ امریکہ ایک سال میں جو کچھ پیدا کرتا ہے، اس کا قرض اس سے چوبیس فیصد زیادہ ہے۔ سادہ الفاظ میں اگر پورا ملک ایک سال تک کھائے پیئے بغیر اپنا کمایا ہوا ہر ڈالر قرض اتارنے پر لگا دے تب بھی چوبیس فیصد قرض باقی رہ جائے گا۔ ماہرینِ معیشت کا اندازہ ہے کہ 2035ء تک یہ تناسب ایک سو چھیاسٹھ فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یعنی قرض اتارنے کے لئے امریکہ کو ڈیڑھ سال کی کل پیداوار درکار ہوگی۔
امریکہ کی سابقہ تاریخ میں صدر ریگن کے دور میں قرضہ ایک کھرب ڈالر سے بڑھ کر تین کھرب ڈالر ہو گیا تھا۔ 2008ء کے مالی بحران نے اس میں سات کھرب ڈالر کا اضافہ کیا۔ پھر کووڈ 19آیا تو صرف دو سال میں آٹھ کھرب ڈالر قرض کا پہاڑ کھڑا ہوا۔ جنوری 2025ء میں کانگریس نے قرضے کی حد معطل کر دی جس کے بعد قرضہ چھتیس کھرب پچاس ارب ڈالر کے ہندسے کو چھو گیا۔ دلچسپ بات یہ کہ اس قرض کا پچھتر فیصد حصہ خود امریکی عوام اور اداروں سے لیا ہوا ہے۔ یعنی امریکہ کا قرض امریکیوں کو ہی دینا ہے۔ باقی پچیس فیصد یعنی نو کھرب ڈالر غیر ملکی ممالک کے پاس ہے جن میں جاپان ایک کھرب تیرہ ارب ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا غیر ملکی قرض خواہ ہے۔ برطانیہ آٹھ سو سات ارب ستر کروڑ ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ چین سات سو ستاون ارب بیس کروڑ ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
تاریخ میں امریکہ نے کبھی قرض کی ادائیگی سے انکار نہیں کیا، البتہ دنیا بھر کے ماہرین معیشت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر امریکہ ڈیفالٹ کر گیا تو پوری عالمی معیشت زمین بوس ہو جائے گی۔ یہ خوف صرف قرض کے حجم کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکی ڈالر کے عالمی کردار کی وجہ سے بھی ہے کیونکہ آج دنیا کی ستر فیصد تجارت ڈالر میں ہوتی ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کو دنیا کی محفوظ ترین سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ اگر امریکہ ڈیفالٹ کرتا ہے تو ڈالر کی قدر زمین بوس ہو جائے گی۔ عالمی تجارت کا پہیہ جام ہو جائے گا۔ ترقی پذیر ممالک کے قرضے مہنگے ہو جائیں گے۔ امریکی سیاست میں بھی ملکی قرضہ نے ہمیشہ اہم کردار کیا ہے۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ ریپبلکن پارٹی ٹیکس کم کرنے پر زور دیتی ہے جبکہ ڈیموکریٹس سماجی پروگراموں میں کٹوتی کے خلاف ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہر چھ ماہ بعد قرضے کی حد کا مسئلہ بحران بن جاتا ہے۔ کانگریس میں جھگڑا ہوتا ہے اور حکومت مفلوج ہو کے رہ جاتی ہے۔ آخر کار قرضے کی حد بڑھا دی جاتی ہے۔ یعنی اور قرضہ اٹھانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سپر پاور کبھی اس دلدل سے نکل پائے گی۔ ماہرینِ معیشت کہتے ہیں کہ جب کسی ملک کا قرض اس کی کل قومی پیداوار کے نوے فیصد سے تجاوز کر جائے تو معیشت کی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ امریکہ پہلے ہی ایک سو چوبیس فیصد کے خطرناک مقام پر پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے نزدیک امریکہ کے پاس اب دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ یہ کہ فوری طور پر ٹیکس بڑھائیں، دفاعی اخراجات کم کریں اور سماجی پروگراموں میں اصلاح کریں۔ اگر کارپوریٹ یعنی بڑے سرمایہ داروں پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی جائے تو بھی سالانہ ایک کھرب بیس ارب ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔ دوسرا راستہ یہ کہ طویل مدت میں معاشی ترقی کی رفتار اتنی تیز کر لی جائے کہ قرضے کا بوجھ خود بخود ہلکا ہوتا چلا جائے۔ امریکہ کے لیے اس کا مطلب ہے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتی پیداوار کا دوبارہ آغاز کرے۔ چین سمیت دیگر ممالک پر انحصار کم کرنے کے لئے بھی جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ میں طاقتور حلقے اپنے مفادات کے لئے قومی مسائل کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ امریکہ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کا یہ ٹکرائو ہر چھ ماہ بعد قرضے کی حد کو باعث شرمندگی بنا دیتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کے پاس صرف دس سال کا وقت ہے۔ اگر امریکہ اگلے دس سالوں میں قرضے اور پیداوار کا تناسب ایک سو پچاس فیصد سے تجاوز کر گیا تو معیشت سکڑنے لگے گی۔ روزگار کے مواقع کم ہوں گے۔ شرح سود بڑھے گی۔ ڈالر کی قدر گرے گی پھر نہ تو امریکہ قرض اتار پائے گا، نہ ہی ترقی کر پائے گا۔ انہی وجوہات کی بنا پر اب امریکی معیشت ڈانواں ڈول ہے اور ٹرمپ اسے سنبھالنے کے لئے دیگر ملکوں سے دولت لوٹنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہو چکے ہیں۔ یعنی اب بھوکا امریکہ ننگا ہو گیا ہے اور دنیا بھر میں اس کی تذلیل شروع ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ چین مخالف پالیسیوں کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھتے ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اپنی حلف برداری تقریر میں بھی کیا تھا کہ ہم نے پاناما کینال کو پاناما کے حوالے اس لئے نہیں کیا تھا کہ وہاں چین اجارہ داری قائم کرے۔ ٹرمپ انتظامیہ چین کی معاشی ترقی اور اس کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ سے بھی کافی پریشان نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں ان کا سب سے بڑا عالمی امتحان چین کے عالمی تسلط کو کم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے چین پر مزید ٹیرف لگانے کا عندیہ بھی دیا جس کا مقصد امریکہ کو دوبارہ ایک عظیم ملک بنانا ہے یعنی امریکہ اپنا کھویا ہوا تسلط دوبارہ دنیا پر قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ امریکہ کی طاقت کمزور ہو چکی ہے اور اس کے دنیا پر تسلط قائم کرنے کے راستے میں چین سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اب وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور دیگر ممالک کو دھمکیوں سے یوں لگ رہا ہے کہ ٹرمپ چین کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ تاہم ٹرمپ کا دوسرا اقتدار چین کے لئے ایک اہم موقع بھی فراہم کر سکتا ہے کہ وہ عالمی نظام سیاست کی طاقت کا توازن اپنی طرف کرے۔ ٹرمپ کا عالمی اداروں سے مثلاً عالمی ادارہ صحت اور پیرس ماحولیاتی معاہدے سے انخلا اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی چین کو ایک اور سنہرا موقع فراہم کر گیا ہے کہ وہ ان اداروں میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرے، سفارتی تعلقات میں مزید گرم جوشی دکھائے اور دنیا کو یہ باور کرائے کہ موجودہ عالمی نظام میں مساوی بنیادوں پر تبدیلی ناگزیر ہے اور تمام ریاستیں اس نظام میں اصلاحات لانے کے لئے کوششیں کریں تاکہ ایک منصفانہ عالمی نظام تشکیل دیا جا سکے۔ یوں، چین 21ویں صدی میں عالمی نظام کی تبدیلی کو ایک اصلاح شدہ نظام کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں چین کو عالمی طرز حکمرانی میں اس کا جائز مقام ملے اور ترقی پذیر دنیا کی امنگوں کو شامل کیا جائے۔ لہٰذا اب امریکہ فرسٹ نہیں پست ہی ہو گا۔

جواب دیں

Back to top button