ColumnImtiaz Ahmad Shad

جنریشن زی

ذرا سوچئے
جنریشن زی
امتیاز احمد شاد
ہر دور کی اپنی ایک شناخت ہوتی ہے اور ہر نسل اپنے ساتھ نئی سوچ، نئے سوالات اور نئے تقاضے لے کر آتی ہے۔ آج جس نسل پر سب سے زیادہ بحث ہو رہی ہے، وہ جنریشن زی ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو نہ صرف ہماری سڑکوں، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں نظر آتے ہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی ان کی موجودگی سب سے نمایاں ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جنریشن زی مختلف کیوں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس مختلف نسل کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟
جنریشن زی سے مراد وہ نسل ہے جو تقریباً 1997ء سے 2012ء کے درمیان پیدا ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل انقلاب کی طرف بڑھ رہی تھی۔ انٹرنیٹ، موبائل فون، سوشل میڈیا اور عالمی رابطے عام ہو رہے تھے۔ یوں جنریشن زی نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں معلومات کی کمی نہیں بلکہ معلومات کی بھرمار تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسل کی سوچ روایتی فریم ورک میں فٹ نہیں بیٹھتی۔
یہ نسل سوال کرتی ہے۔ یہ سوال مذہب پر بھی ہوتے ہیں، معاشرتی روایات پر بھی، تعلیمی نظام پر بھی اور ریاستی ڈھانچے پر بھی۔ ماضی میں سوال اٹھانا بغاوت سمجھا جاتا تھا، مگر جنریشن زی کے لیے سوال اٹھانا سیکھنے کا پہلا زینہ ہے۔ یہی بات بہت سے بڑوں کو ناگوار گزرتی ہے اور یوں نسلوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جسے عرف عام میں جنریشن گیپ کہا جاتا ہے۔
جنریشن زی کو اکثر "ڈیجیٹل ایڈکٹ” کہا جاتا ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ اس نسل کا زیادہ وقت موبائل سکرین پر گزرتا ہے، لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ جنریشن زی نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو صرف تفریح نہیں بلکہ اظہار، تعلیم اور روزگار کا ذریعہ بنایا ہے۔ یوٹیوب، فری لانسنگ، ای کامرس، آن لائن تدریس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں سب سے زیادہ سرگرم یہی نوجوان ہیں۔
تعلیم کے حوالے سے بھی جنریشن زی کا نقطہ نظر روایتی نہیں۔ یہ نسل ڈگری سے زیادہ مہارت کو اہم سمجھتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ نے کہاں سے تعلیم حاصل کی بلکہ یہ ہے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آن لائن کورسز، شارٹ سرٹیفیکیشن اور عملی تجربہ اس نسل میں مقبول ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام آج بھی رٹّا، نمبر اور فرسودہ نصاب کے گرد گھوم رہا ہے، جس کے باعث جنریشن زی خود کو اس نظام سے غیر متعلق محسوس کرنے لگی ہے۔
ملازمت کے معاملے میں بھی یہ نسل مختلف ہے۔ جنریشن زی پوری زندگی ایک ہی نوکری کرنے کے تصور پر یقین نہیں رکھتی۔ یہ نسل کام اور ذاتی زندگی میں توازن چاہتی ہے۔ لمبے اوقاتِ کار، کم تنخواہ اور غیر انسانی رویے اب قابلِ قبول نہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان روایتی نوکری چھوڑ کر فری لانسنگ یا ذاتی کاروبار کی طرف جا رہے ہیں۔ اس رویے کو اکثر غیر سنجیدگی سے تعبیر کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ دراصل خودداری اور خود آگاہی کی علامت ہے۔
جنریشن زی کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا سماجی شعور ہے۔ ماحولیاتی آلودگی، خواتین کے حقوق، ذہنی صحت، اظہارِ رائے کی آزادی اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر یہ نسل نہ صرف بات کرتی ہے بلکہ آواز بھی اٹھاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے انہیں ایک پلیٹ فارم دیا ہے جہاں وہ ریاست، اداروں اور معاشرے سے سوال کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس آزادی کے غلط استعمال کی مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ شعور ایک مثبت علامت ہے۔
ذہنی صحت جنریشن زی کے لیے کوئی ممنوع موضوع نہیں۔ یہ نسل ڈپریشن، اینزائٹی اور ذہنی دبا پر بات کرنے سے نہیں گھبراتی۔ پچھلی نسلیں ان مسائل کو کمزوری سمجھ کر چھپاتی رہیں، مگر جنریشن زی انہیں مسئلہ مان کر حل تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل آن لائن رہنا، غیر یقینی مستقبل اور معاشی دبا اس نسل میں ذہنی مسائل کو بڑھا رہا ہے، جس پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
جنریشن زی پر تنقید بھی کم نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نسل بے صبر ہے، نازک مزاج ہے اور قربانی دینے کے جذبے سے عاری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہے یا ہم بدلتے ہوئے حالات کو پرانے پیمانوں سے ناپ رہے ہیں؟ ہر نسل اپنے وقت کے مسائل کے مطابق ردِعمل دیتی ہے۔ اگر آج کے نوجوان سوال کر رہے ہیں تو شاید اس لیے کہ انہیں مسائل زیادہ واضح نظر آ رہے ہیں۔
اصل مسئلہ جنریشن زی نہیں بلکہ نسلوں کے درمیان مکالمے کا فقدان ہے۔ ہم نوجوانوں کو سننے کے بجائے انہیں نصیحت کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ہم ان کے سوالات کو گستاخی اور ان کے اختلاف کو نافرمانی سمجھ لیتے ہیں۔ نتیجتاً یہ نسل ہم سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔
آنے والا وقت جنریشن زی کا ہے۔ یہی نوجوان مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، سیاستدان اور پالیسی ساز ہوں گے۔ اگر آج ہم انہیں سمجھنے اور ان کی رہنمائی کرنے میں ناکام رہے تو کل کے مسائل ہمارے قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اس نسل کو صرف تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اسے مواقع، اعتماد اور مثبت سمت دینا ہوگی۔
ارباب اختیار،حکومت اور 1997ء سے پہلے کی جنریشن یعنی بابوں اور بابوئوں کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنریشن زی کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ یہ حقیقت ہمیں پسند ہو یا نہ ہو، مگر اس سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم اس نسل کے ساتھ مکالمہ کریں، اس کے سوالات سنیں اور مل کر ایک ایسا مستقبل تشکیل دیں جو سب کے لیے بہتر ہو۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے، جو قومیں اپنی نوجوان نسل کو سمجھنے میں ناکام رہیں، وہ خود تاریخ کا حصہ بن گئیں۔
حکمرانوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ جنریشن زی کو محض نعرے، اشتہارات اور وقتی وعدوں سے بہلانے کے بجائے سنجیدگی سے سمجھیں۔ یہ نوجوان روزگار، انصاف، تعلیم اور اظہارِ رائے کے حقیقی مواقع چاہتے ہیں، نہ کہ خالی دعوے۔ اگر ریاست نے اس نسل کو نظرانداز کیا، اس کے سوالات کو دبانے کی کوشش کی اور اسے فیصلہ سازی سے باہر رکھا تو یہ مایوسی بغاوت میں بدل سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران نوجوانوں کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ سمجھیں، انہیں پالیسی سازی میں شامل کریں، جدید تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کریں اور ایک ایسا پاکستان تشکیل دیں جہاں نوجوان ملک چھوڑنے کے خواب نہیں بلکہ ملک سنوارنے کے منصوبے بنائیں۔ جنریشن زی کو ساتھ لے کر چلنا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ مستقبل کو کنٹرول نہیں کیا جاتا، اسے سمجھ کر سنوارا جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button