ColumnImtiaz Aasi

سینٹرل جیل اڈیالہ کے شب و روز

سینٹرل جیل اڈیالہ کے شب و روز
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
جنوری کا مہینہ اس لئے بھی مجھے یاد رہتا ہے اسی ماہ کے پہلے ہفتے مجھے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایڈیشنل سیشن جج میاں محمد شفیع کی عدالت سے سزائے موت کا حکم سننے کے بعد سخت پولیس کے پہرے میں مجھے بخشی خانے لایا گیا۔ جج صاحب نے سزا سنائی تو ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا جو میرا اخلاقی فرض تھا لیکن وہ خاموشی سے اپنے ریٹائرنگ روم چلے گئے۔ حوالات میں میرے بی کلاس کے دوست جن میں سے زیادہ تر کا تعلق احتساب کے مقدمات سے تھا وہ بی کلاس کی دیوار سے لٹکے مجھے دکھ بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ جیلوں کا معمول ہے جب کسی کو سزا ہو جائے تو اسے دوبارہ اپنی بیرک یا بی کلاس میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ میرے بی کلاس کے دوست رضوان ظفر کو مجھے سزا ہونے کی خبر پہلے ہو چکی تھی، کیونکہ چھوٹے مقدمات کے ملزم عدالتوں میں پیشی کے بعد جلد جیل واپس آجاتے ہیں۔ ایک بی کلاس کے مشقتی نے رضوان کو بتا دیا تھا مجھے موت کی سزا ہو گئی ہے۔ رضوان ظفر نے سزائے موت کے انچارج سیف اللہ گوندل اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سے پہلے بات کر لی، جس کے بعد مجھے ایک جعلی بی کلاس میں بھیج دیا گیا۔ سزائے موت سرکل ایک الگ دنیا ہوتی ہے، جہاں ماسوائے پرندوں کے کسی انسان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سخت سردی سے میں کانپ رہا تھا۔ پہلے دن میری ملاقات راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے عبدالحمید بلو بٹ سے ہو گئی، جو نماز پنجگانہ ادا کرنے والا نوجوان تھا۔ راولپنڈی سے تعلق ہونے کی بنا بلو بٹ نے میرا بہت خیال رکھا۔ وہ ایک اچھا انسان اور دوستوں کا دوست ہے۔ جب میں پندرہ برس بعد رہا ہوا تو بھی وہ میرے کام آیا اور ایک باعزت روزگار دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اللہ کریم اسے ہمیشہ خوش رکھے ( امین)۔
سزائے موت میں قیدیوں کے لئے سب سے زیادہ اذیت اس بات کی ہوتی ہے جو انہیں ہر روز اپنا بستر بوریا اٹھا کر دوسرے سیل میں جانا پڑتا ہے، لیکن جعلی بی کلاس کا یہ فائدہ ہوا ہر روز بستر بوریا اٹھانے کی اذیت سے نجات مل گئی۔ حوالات میں بی کلاس کی جو سہولت تھی سزا ہونے کے بعد جیل والے ختم کر دیتے ہیں، ان کا موقف ہوتا ہے سٹیٹس تبدیل ہو گیا ہے، لہذا بی کلاس کے دوبارہ آرڈر کرائے جائیں۔ خیر بی کلاس دوبار لگوانے کی کہانی ایک علیحدہ داستان ہے جو آئندہ کالم میں بیان کروں گا۔ ان دنوں سزائے موت کے قیدیوں کو واک کرتے وقت دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی لگا کر ڈھلائی کی اجازت ہوتی تھی، جو رفتہ رفتہ ختم ہو چکی ہے۔ سزا میں مجھے نو برس تک رہنا پڑا اگر میں ایک، ایک دن کی کہانی لکھنے بیٹھوں تو کم از کم ایک کتاب ضرور بن جائے گی۔ خیر حق تعالیٰ کی مہربانی اور چھوٹے بھائی عزیزی حاجی ریاض ملک، جو ان دنوں ریڈیو پاکستان میں کنٹڑولر نیوز تھا، کی شبانہ روز کوششوں سے بی کلاس مل گئی۔ ایک روز اچانک محمد رفیق اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آیا اور اس نے بری خبر دی پنجاب کی جیلوں سے سب قیدیوں کی بی کلاس ختم کر دی گئی ہے، آپ کو دوبارہ آرڈر کرانے ہوں گے۔
میری سعودی عرب میں پوسٹنگ کے دوران ڈائریکٹر حج جناب فیصح الدین، جن کا تعلق سندھ کے ضلع شکار پور سے تھا، ان دنوں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ تعینات تھے۔ جب ان سے بی کلاس کے حصول کے لئے رابطہ ہوا تو انہوں نے مہربانی فرماتے ہوئے ندیم حسن آصف صاحب سے بات کرنا چاہی، جو ان دنوں سیکرٹری داخلہ پنجاب تھے۔ جب ندیم آصف صاحب سے ان کی بات نہیں ہوئی تو انہوں نے ڈاکٹر عثمان انور ایڈیشنل سیکرٹری ( پولیس ) سے بات کی ۔ جیل میں ہم سب کے پاس موبائل تو ہوتے تھے، خیر میں نے انہیں بتایا بی کلاس ڈاکٹر جمال یوسف ایڈیشنل سیکرٹری نے کرنی ہے، جس کے بعد فیصح الدین صاحب نے ان سے بات کی، تو اگلے روز سب سے پہلے میری بی کلاس آگئی، جس پر مجھے تمام قیدی دوستوں نے مبارک باد دی۔ ڈاکٹر جمال یوسف بڑے راست باز بیوروکریٹ تھے، جناب ندیم حسن آصف صاحب بھی راست بازی میں کچھ کم نہیں تھے، اللہ سبحانہ تعالیٰ ندیم حسن آصف صاحب کی مغفرت فرمائے ( امین)۔ بدقسمتی سے میری دونوں آنکھوں میں موتیا آگیا، جس سے مجھے بہت پریشانی لاحق ہوئی، لیکن میرے مہربان بھائی احمد بخش لہڑی ان دنوں ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلوچستان تھے، جنہوں نے فوری طور پر پنجاب کے سیکرٹری صحت انوار احمد خان سے بات کی، جو ان کے بیج میٹ بھی تھے۔ سیکرٹری صحت کی سفارش آئی تو ایک مرتبہ جیل ہسپتال میں ہلچل مچ گئی۔ ڈاکٹر جی این کیانی نے مجھے بلا بھیجا اور استفسار کیا سیکرٹری صحت سے تمہارا کیا تعلق ہے۔ میرے بتانے پر انہوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور میری موجودگی میں میرا کیس ہوم سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری صحت کو اس کی نقل بھیج دی۔ ڈاکٹر کیانی کا کہنا تھا اس کے کیس بارے سیکرٹری صاحب کا حکم ہے آج ہی اس کا کیس بھیجا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اگلے روز مجھے جیل سے باہر بھیجنے کی منظوری آگئی تو جیل کے سنیئر ڈاکٹر سلطان صاحب نے مجھے ہسپتال بھیجنے سے انکار کر دیا۔ ان کا موقف تھا تم فرار ہو جائو گے، میں نے انہیں بتایا میں پولیس سٹیشن خود پیش ہوا تھا، لہذا میں فرار ہونے والا نہیں ہوں مگر وہ نہ مانے۔ چنانچہ میں نے انہیں ہاتھ ملانے کو کہا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا آپ کو میں باہر جا کر دکھائوں گا۔ جس کے بعد انہوں نے مجھے دوبارہ بیٹھنے کو کہا تو میں نے انکار کر دیا اور واپس اپنے سزائے موت کے سیل آگیا۔ میرے عزیز جناب ظفیر عباسی صاحب ان دنوں وفاقی حکومت میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ اور محترم ڈاکٹر ظفر اقبال قادر صدر مملکت آصف علی زرداری کے ساتھ ایڈیشنل سیکرٹری فرائض کی بجا آوری کر رہے تھے۔ چنانچہ میں نے بھائی ظفر قادر صاحب کو فون کرنے کی بجائے ظفیر عباسی صاحب کو فون کیا تو وہ آگ بگولہ ہوگئے، فوری جناب ندیم حسن آصف سے رابطہ کیا تو اگلے روز میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں تھا۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد میں نے ڈاکٹر جی این کیانی سے رابطہ کیا جو ان دنوں ایک حوالاتی کی فراری میں ملازمت سے معطل تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا ہوم سیکرٹری نے تمہارے کیس میں سپرنٹنڈنٹ جیل کی جواب طلبی کر لی ہے کہ تمہیں ہسپتال کیوں نہیں بھیجا گیا، جب منظوری آگئی تھی تو کیوں روکے رکھا تھا۔ باقی ان شاء اللہ پھر کبھی سہی۔

جواب دیں

Back to top button