Column

پاک۔ چین اسٹرٹیجک شراکت داری

اداریہ۔۔۔
پاک۔ چین اسٹرٹیجک شراکت داری
گزشتہ روز بیجنگ میں پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے ساتویں اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا انعقاد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔ اس ڈائیلاگ کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی، سیکیورٹی تعاون، اقتصادی ترقی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی امن و استحکام میں تعاون کے عزم کو دہرایا گیا۔ یہ ڈائیلاگ نہ صرف پاکستان اور چین کے لیے اہم ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے جیو پولیٹیکل منظرنامے پر بھی گہرا اثر رکھتا ہے۔ عالمی طاقتوں کی حرکات اور خطے میں بڑھتے ہوئے تنا کی صورت حال میں دونوں ممالک کی اس شراکت داری کے نئے مرحلے کی عکاسی کرتی ہے۔ اعلامیہ کا اہم محور سیکیورٹی اور دہشتگردی کے خلاف تعاون تھا۔ پاکستان اور چین نے صفر برداشت پالیسی اور دہشتگرد گروہوں کے خاتمے کے لیے واضح اور قابل تصدیق اقدامات پر زور دیا، خاص طور پر افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کے خلاف۔ یہ موقف اس حقیقت کے پیش نظر ہے کہ گزشتہ برسوں میں سرحدی علاقوں میں دہشتگرد حملوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ چینی منصوبوں، خاص طور پر سی پیک کے پراجیکٹس کو بھی متاثر کیا۔ دونوں ممالک کی اس مضبوط پوزیشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے یکساں موقف اختیار کر رہے ہیں۔ اقتصادی شعبے میں بات آگے بڑھائی گئی اور دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)کو اپ گریڈ کرکے CPEC 2.0بنایا جائے گا، جس کا مقصد صرف انفرا اسٹرکچر نہیں بلکہ صنعتی ترقی، زرعی سرمایہ کاری، تجارت اور مالیاتی شعبوں میں وسیع تعاون ہوگا۔ یہ نئے منصوبے گوادر پورٹ کے بہتر استعمال، قراقرم ہائی وے کی مسلسل رسائی اور ٹیکنالوجی، تربیت اور کاروباری مواقع میں اضافے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ سی پیک 2.0کا مقصد پاکستان میں صنعتی پیداوار، برآمدات اور اقتصادی استحکام کو فروغ دینا ہے، جو ملک کی معاشی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کے لیے پراجیکٹس کی شفاف عمل داری، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور مضبوط حکومتی نگرانی ضروری ہے۔ اگر یہ اقدامات موثر طریقے سے نہ ہوں تو منصوبے کے فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔ ڈائیلاگ میں پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے تحت چین کی مکمل حمایت کا عزم دہرایا اور تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحرِ چین پر چین کی پوزیشن کو تسلیم کیا۔ اس کے بدلے میں چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔ مزید برآں، دونوں ممالک نے عالمی اور علاقائی فورمز میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور اقوام متحدہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ 2026ء میں پاکستان۔ چین تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقریبات کا اعلان بھی کیا گیا، جس سے تعلقات کی تاریخی اور اسٹرٹیجک اہمیت واضح ہوتی ہے۔ پاک چین تعلقات عالمی اور خطے کے تناظرات سے الگ نہیں ہیں۔ چین کے مفادات بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (BRI)اور عالمی رابطوں سے جڑے ہیں جبکہ پاکستان کے لیے چین استحکام اور اسٹرٹیجک حمایت کا ضامن ہے، خاص طور پر بھارت اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں۔ امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ حرکات و سکنات کے پیش نظر، پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات کو مستحکم رکھے اور بین الاقوامی توازن بھی قائم رکھے۔ اس سے خطے میں اس کی سفارتی اثر پذیری مضبوط ہوگی۔ اعلامیہ میں کیے گئے عزم کی کامیابی کا دارومدار عمل درآمد، شفافیت اور حکومتی نگرانی پر ہے۔ سیکیورٹی تعاون میں حقیقی اقدامات، CPEC 2.0منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوام کو اس کے فوائد پہنچانا ضروری ہے۔ عوامی توقعات کو پورا کرنا پاکستان کی قیادت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔ 2026ء کے پاک چین اسٹرٹیجک ڈائیلاگ نے نہ صرف دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی کو دہرایا بلکہ اقتصادی ترقی، سیکیورٹی تعاون اور عالمی سفارتکاری میں نئے اہداف بھی طے کیے۔ CPEC 2.0، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور ثقافتی تبادلے اس شراکت داری کو صرف رسمی نہیں بلکہ عملی اور موثر بنانے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ تعلقات اگر موثر طریقے سے عملی جامہ پہنیں، تو پاکستان کی معاشی ترقی، استحکام اور خطے میں اس کی اسٹرٹیجک پوزیشن مضبوط ہو سکتی ہے۔

 

 

شذرہ۔۔۔۔
کراچی: دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام
کراچی میں ایک بڑے دہشتگرد منصوبے کو انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران ناکام بنانا پاکستان کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قابلیت اور بروقت حکمت عملی کی ایک روشن مثال ہے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر کی جانب سے پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی معلومات کی بنیاد پر کئی دن کی محنت کے بعد دہشت گردوں کی سرنگونی ممکن ہوئی۔ اس کارروائی میں دو ہزار کلوگرام سے زائد انتہائی خطرناک بارودی مواد برآمد کیا گیا اور تین دہشتگرد گرفتار کیے گئے، جن میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید شامل ہیں۔ ان دہشتگردوں کا منصوبہ کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔ گرفتار دہشتگردوں کی گرفتاری اور تفتیش سے یہ واضح ہوا کہ بارودی مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی لایا گیا تھا۔ پولیس حکام نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کی بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کی بدولت شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچالیا گیا۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورک کی شناخت اور ان کے منصوبوں کا بروقت توڑ، شہریوں کی حفاظت کے لیے کس قدر اہم ہے۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گرفتار دہشتگرد مجید بریگیڈ، کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد نیٹ ورک ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کر رہا تھا اور رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کررہا تھا۔ اس کے پیش نظر، گھروں کی کرایہ داری اور حفاظتی نگرانی میں سختی اور مثر جانچ ضروری ہے۔ وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب کارروائی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشتگردوں نے شہر میں بڑی تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے بھارت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف پراکسیز کے ذریعے کارروائیوں کی کوشش کرتا رہا ہے مگر ہر محاذ پر اسے شکست ہوئی ہے۔ یہ کارروائی کراچی کے شہریوں کے لیے نہ صرف اطمینان کا باعث ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں شہری تحفظ کے معاملے میں کسی صورت لاپروائی نہیں برت رہی ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں نہایت اہم ہیں کیونکہ یہ شہری علاقوں میں بڑے نقصان سے بچانے کا موثر ذریعہ ہیں۔ یہ کامیاب آپریشن نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں دہشتگردانہ منصوبوں کی ناکامی کی ایک مثال ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورک کی جڑیں صرف مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مضبوط ہیں، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی اور علاقائی تعاون ضروری ہے۔ اس کارروائی نے پاکستان کے عوام کو یہ اعتماد دیا ہے کہ شہر محفوظ بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر لمحے چوکس ہیں اور دہشتگردی کے ہر منصوبے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کامیابی پاکستان کی سیکیورٹی اور استحکام کی کوششوں کی تصدیق ہے اور شہریوں کے اعتماد کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رہیں تو نہ صرف شہری محفوظ رہیں گے بلکہ ملک میں دہشتگرد عناصر کے خلاف ایک واضح پیغام بھی جائے گا۔ یہ اقدام یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے ادارے متحد اور منظم انداز میں دہشتگردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

جواب دیں

Back to top button