Column

باشعور لوگ برے نہیں ہوتے

باشعور لوگ برے نہیں ہوتے
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
بادشاہ کے محل میں ایک عجیب روایت تھی۔ جو شخص بھی اقتدار کے قریب آتا، بادشاہ اس سے ایک ہی سوال پوچھتا’’ انسان کو برا کون بناتا ہے، طاقت یا کم فہمی‘‘۔ اکثر درباری طاقت کو موردِ الزام ٹھہراتے، کچھ حالات کو، اور کچھ تقدیر کو۔ ایک دن ایک درویش آیا۔ اس نے مسکرا کر کہا ’’ بادشاہ سلامت، طاقت صرف ہاتھ دیتی ہے، وار ہمیشہ ذہن کرتا ہے‘‘۔ بادشاہ خاموش ہو گیا، اور یہی خاموشی اصل جواب تھی۔ یہی خاموشی ہمیں عاں پال سارتر کے اس قول تک لے جاتی ہے کہ ’’ سب سے زیادہ ذہین اور باشعور لوگ کبھی بھی برے نہیں ہو سکتے، کیونکہ برا انسان ہونے کے لیے احمق ہونا اور محدود سوچ کا حامل ہونا ضروری ہے‘‘۔ یہ جملہ محض فلسفیانہ نعرہ نہیں، بلکہ انسانی تاریخ، نفسیات، مذہب اور سائنس کا نچوڑ ہے۔ تاریخ کی عدالت میں اگر ہم تاریخ کا بے رحم تجزیہ کریں تو ہمیں ہر بڑے ظلم کے پیچھے ایک مشترک عنصر ملتا ہے۔ سادہ مگر خطرناک یقین۔ ہٹلر، چنگیز خان یا ہلاکو خان یہ سب خود کو ’’ درست‘‘ سمجھتے تھے، ’’ عقلمند ‘‘ نہیں۔ عقل سوال اٹھاتی ہے، جبکہ جہالت یقین پیدا کرتی ہے۔ ایرک فرام کہتا ہے کہ انسان کی تباہ کن فطرت اس وقت بیدار ہوتی ہے جب وہ سوچنے کے بجائے ماننے لگتا ہے۔
اسلام میں عقل کو نعمت قرار دیا گیا، حتیٰ کہ مجنون پر شریعت کا اطلاق نہیں ہوتا، کیونکہ ذمہ داری عقل سے جڑی ہے۔ اگر عقل برائی کو جنم دیتی، تو سب سے زیادہ باشعور لوگ سب سے بڑے مجرم ہوتے ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
فلسفہ اور اخلاقیات کی رو سے دیکھیں تو سقراط نے کہا تھا’’ کوئی شخص جان بوجھ کر برائی نہیں کرتا، وہ صرف بھلائی کو غلط سمجھ لیتا ہے‘‘۔ یہی بات سارتر جدید زبان میں دہرا رہا ہے۔ کانٹ کے نزدیک اخلاقی عمل کی بنیاد عقلی خود احتسابی ہے۔ جو شخص سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ دوسرے کو محض ذریعہ نہیں بناتا۔ جدید نفسیات کہتی ہے کہ زیادہ تر مجرمان میں cognitive rigidityپائی جاتی ہے، یعنی سوچ کا جمود۔ High Emotional Intelligence رکھنے والے افراد empathyمیں مضبوط ہوتے ہیں۔ اور empathyبرائی ک سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے۔ یہ اتفاق نہیں کہ psychopathsمیں IQنہیں بلکہ اخلاقی فہم کی کمی ہوتی ہے۔ نیوٹن کا تیسرا قانون کہتا ہے کہ ’’ ہر عمل کا مساوی اور مخالف ردِعمل ہوتا ہے‘‘۔ باشعور انسان یہ قانون سماجی سطح پر بھی سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ظلم کا ردعمل لازمی ہے، چاہے وقت لگے۔ کم فہم انسان فوری فائدہ دیکھتا ہے، انجام نہیں۔
اقبالؒ نے کہا تھا کہ
خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ ۔۔
خرد یعنی عقل، انسان کو وسعت دیتی ہے، تنگی نہیں۔ میر، غالب اور رومی سب نے برائی کو نفس کی تنگی سے جوڑا، نہ کہ عقل کی فراوانی سے۔ بادشاہ کے سوال کا جواب آج بھی وہی ہے جو درویش نے دیا تھا۔ برائی ذہانت کی پیداوار نہیں، بلکہ سوچ کی قلت کا نتیجہ ہے۔ باشعور انسان غلطی کر سکتا ہے، مگر ظلم نہیں، کیونکہ ظلم کے لیے اندھا یقین، محدود دائرہ اور سوال سے خوف ضروری ہے۔ آخر میں سوال یہ نہیں کہ انسان کتنا ذہین ہے، سوال یہ ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال بھی کرتا ہے یا نہیں؟
ایڈولف آئخ مین 1906ء میں جرمنی میں پیدا ہوا۔ نہ وہ کوئی بڑا فلسفی تھا، نہ فوجی جرنیل، نہ باغی ، نہ سیاسی لیڈر۔ وہ ایک درمیانے درجے کا سرکاری افسر تھا۔ بس یہی اس کہانی کا سب سے خوفناک پہلو ہے۔ 1932ء میں وہ نازی پارٹی (SS) میں شامل ہوا۔ شروع میں اس کی ذمہ داریاں معمولی تھیں، مگر جلد ہی وہ اس محکمے میں آ گیا جسے’’ یہودی امور‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس کا کام تھا۔ ٹرینوں کے شیڈول بنانا۔ یہودیوں کو یورپ کے مختلف ملکوں سے concentration camps تک پہنچانا۔ ریکارڈ رکھنا کہ کون کہاں سے کہاں گیا۔ logisticsسنبھالنا۔ یعنی وہ موت کا منتظم (Administrator)تھا۔ جنگ کے بعد جب نازی قیادت پکڑی گئی۔ تو آئخ مین فرار ہو گیا۔ وہ کئی سال ارجنٹینا میں ایک عام مزدور کے طور پر چھپا رہا۔ 1960ء میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے اسے اغوا کر کے یروشلم لایا۔ 1961ء میں اس پر مقدمہ چلا۔ یروشلم کی ایک عدالت میں ایک شخص شیشی کے پنجرے میں کھڑا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس کے دستخطوں سے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو گیس چیمبرز تک پہنچایا گیا۔ دنیا یہ توقع کر رہی تھی۔ کہ عدالت میں کوئی سفاک، پاگل، خونخوار انسان نظر آئے گا۔ لیکن سامنے ایک انتہائی عام، خاموش، فائلوں والا کلرک کھڑا تھا۔ وہ بار بار ایک ہی بات دہراتا رہا ’’ میں نے کوئی ذاتی نفرت نہیں رکھی‘‘۔ ’’ میں نے کسی کو ذاتی طور پر قتل نہیں کیا‘‘۔ ’’ میں نے صرف اوپر سے آنے والے احکامات پر عمل کیا‘‘۔ یہ مقدمہ ایک فلسفہ بنا۔ آرنٹ نے رپورٹ کیا۔ اس نے دنیا کو چونکا دینے والا نتیجہ نکالا۔ آئخ مین شیطان نہیں تھا۔ وہ احمق نہیں تھا۔ وہ ذہنی مریض بھی نہیں تھا۔ وہ صرف سوچنا چھوڑ چکا تھا۔ وہ سوچتا ہی نہیں تھا۔ وہ سوال نہیں کرتا تھا۔ وہ صرف سسٹم تھا۔ وہ صرف آرڈر تسلیم کرتا تھا۔ اسی نے مشہور اصطلاح دی، The Banality of Evilیعنی برائی کی عام شکل۔ برائی ہمیشہ نفرت سے نہیں، کبھی کبھی سوچ کی غیر موجودگی سے جنم لیتی ہے۔ کیا آئخ مین ذہین تھا ؟ جی ہاں، وہ انتظامی لحاظ سے ذہین تھا۔ منظم تھا، efficientتھا۔ مگر وہ اخلاقی طور پر اندھا تھا۔ ویسے بھی اصل سوال یہ نہیں کہ انسان کتنا ذہین ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ سوچنے کی ہمت رکھتا ہے؟ کیا وہ سوال کر سکتا ہے ؟ اور ایڈولف آئخ مین یہ سوال نہ کر سکا۔ اگر قانون غلط ہو تو ؟ اگر قانونی بندہ قانون کا غلط استعمال کر رہا ہو تو ؟ اگر حکم غیر انسانی ہو تو ؟ اگر ریاست ظلم کرے تو فرد کی ذمہ داری کیا ہے؟ یہی وہ جگہ ہے جہاں عاں پال سارتر کا جملہ سچ ثابت ہوتا ہے۔ کہ برائی کے لیے محدود سوچ ضروری ہے۔ وہ کبھی یہ سوال نہ کر سکا۔ کیا میں جو کر رہا ہوں درست ہے؟ کیا قانون ہمیشہ اخلاق ہوتا ہے؟ کیا حکم، ذمہ داری ختم کر دیتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں سارتر کا جملہ زندہ ہو جاتا ہے۔ برائی کے لیے ذہانت نہیں، محدود سوچ درکار ہوتی ہے۔ 1962ء میں ایڈولف آئخ مین کو انسانیت کے خلاف جرائم کے جرم میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ اسرائیل کی تاریخ میں واحد سزائے موت تھی۔
اصل سبق یہ ملتا ہے کہ سب سے خطرناک لوگ وہ نہیں جو چیختے ہیں بلکہ وہ ہیں جو خاموشی سے فائل پر دستخط کر دیتے ہیں۔ جو اخلاق کو قانون کے نیچے رکھ دیتے ہیں۔ جو سوچنے کی ذمہ داری کسی اور کو دے دیتے ہیں وہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ جب انسان سوال کرنا چھوڑ دے، تو وہ سب سے بڑا ہتھیار بن جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آئخ مین ایک شخص نہیں ایک انتباہ ہے۔ اس کا اصل کردار کیا تھا ؟ ایڈولف آئخ مین نے ہولو کاسٹ ایجاد نہیں کیا، اس نے کسی کو خود گولی نہیں ماری، وہ گیس چیمبرز میں کھڑا نہیں ہوتا تھا۔ ایڈولف آئخ مین کی کہانی دراصل یہ بتاتی ہے کہ برائی ہمیشہ خونی ہاتھوں اور وحشی چہروں کے ساتھ نہیں آتی، کبھی کبھی وہ فائلوں، دستخطوں اور ’’ میں نے حکم مانا تھا ‘‘ کے جملے میں چھپی ہوتی ہے۔ اور یہی بات اسے خطرناک بناتی ہے۔ ’’ میں نے صرف حکم مانا ‘‘۔
اسلام میں یہی شخص مجرمِ کامل کہلاتا۔
کیونکہ قرآن کہتا ہے: ’’ جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو، اس کے پیچھے مت چلو‘‘۔
حضرت عمرؓ کے دور میں ایک گورنر نے کہا’’ میں نے حکم مانا تھا‘‘۔ عمرؓ نے جواب دیا: ’’ کیا اللہ نے تمہیں عقل نہیں دی تھی؟‘‘۔
اسلام میں حکم ماننا عذر نہیں، بغیر سوچے ماننا جرم ہے۔ اسٹینلے ملگرام کے تجربات نے ثابت کیا کہ عام لوگ، اگر سوال چھوڑ دیں، تو بدترین ظلم کر سکتے ہیں۔ اور جو لوگ سوال کرتے ہیں؟ وہ سسٹم توڑ دیتے ہیں، لیکن انسان بچا لیتے ہیں۔ سقراط اگر آئخ مین کو دیکھ لیتا تو بس ایک جملہ کہتا: تم برے نہیں تھے، تم نے سوچنا چھوڑ دیا تھا۔
اور یہی سب سے خطرناک مقام ہے۔ دنیا کو سب سے زیادہ نقصان نہ پاگلوں نے پہنچایا۔ نہ درندوں نے بلکہ فرمانبردار، خاموش، محدود سوچ رکھنے والے ذہین لوگوں نے پہنچایا۔ باشعور انسان نظام سے ٹکرا جاتا ہے، احمق انسان نظام کا پرزہ بن جاتا ہے۔ اور تاریخ ہمیشہ پرزوں کو نہیں، سوچنے والوں اور سوال کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button