رنجیدہ اور سنجیدہ

رنجیدہ اور سنجیدہ
ناصر اقبال خان۔۔۔
دین فطرت اِسلام اپنی سچی تعلیمات سمیت انسانیت کیلئے سودمند اعلیٰ روایات کے بل پر دوسرے ادیان سے منفرد اور ممتاز ہے۔ سرور کونین حضرت سیّدنا محمد رسول اللہ خاتم الاانبیاؐ اپنی ظاہری حیات میں کسی بھی کام میں کفار اور اہل یہود کے ساتھ مشابہت پسند نہیں فرماتے تھے، لہذا انہوں نے صحابہ کرامؓ سے ارشاد فرمایا ہم 9اور10محرم الحرام کا روزہ رکھیں گے۔ سراپا رحمتؐ کا یہ اقدام ہر مسلمان کیلئے پیغام ہے، ہم میں سے کوئی کسی بھی معاملے میں کافروں کی پیروی یا ان کی مشابہت اختیار نہیں کر سکتا۔ عبادت کے سلسلہ میں یہودیوں کیلئے ’’ ہفتہ‘‘، مسیحیوں کیلئے’’ اتوار‘‘ جبکہ مسلمانوں کیلئے جمعتہ المبارک کا دن افضل ہے۔ اس طرح مسلمانوں اور ہندوئوں میں کچھ بھی یکساں نہیں، یہ فرق دو قومی نظریہ کا بنیادی نکتہ ہے۔ یاد رکھیں کوئی سچا مسلمان کسی قیمت پر انتہا پسند ہندوئوں کے کلچر سے متاثر نہیں ہو سکتا۔ اندراگاندھی کی بہو سونیا گاندھی نے ایک بار کہا تھا بھارت نے ثقافت کے محاذ پر پاکستان کو شکست دے دی ہے کیونکہ ہمارے ہاں مخصوص عناصر بھارتی فلم انڈسٹری کے مداح ہیں اور یہ طبقہ ہماری نظریاتی اسلامی ریاست کو بنجر بنانا چاہتا ہے۔ یاد رکھیں اسلامی ریاست و معاشرت میں منظم ’’ بے حیائی‘‘ کا طوفان ’’ مہنگائی‘‘ سے بڑا بحران ہے ۔10مئی کو پاک فوج کے ہاتھوں بھارت کی شکست فاش کے بعد بسنت کو مسترد کرتے ہوئے دشمن کا نظریاتی اور ثقافتی میدان میں بھی ناطقہ بند کرنا ہوگا۔ بسنت نامی ہندوانہ تہوار ہماری اسلامی تعلیمات اور ملی روایات سے متصادم ہے، کوئی اسلامی ریاست اور معاشرت ہندوانہ تہوار کو فروغ نہیں دے سکتی۔
ہندوانہ تہوار بسنت کی تاریخ اور اس کے تاریک رخ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ہندو ملعون گستاخ حقیقت رائے کی یاد میں بسنت مناتے ہیں، بسنت کی تقریبات میں پیلے لباس پہننا، سرسوتی دیوی ( ہندو مت میں سنگیت اور فنون کی دیوی ) کی پوجا اور پتنگ بازی کرنا شامل ہے۔ ہندو ویدوں کی رو سے بسنت سرسوتی دیوی سے منسوب ہے۔ بسنت پر اظہار مسرت کیلئے پتنگیں اڑائی جاتی ہیں اور سنگیت سنا جاتا ہے۔ ایک ہندو مورخ بی ایس نجار کی تصنیف
’’ Punjab under the later Mughals‘‘ کے مطالعہ سے معلوم ہوا، حقیقت رائے سیالکوٹ کے ایک ہندو کھتری کا بیٹا تھا۔ حقیقت رائے نے سرور کونینؐ کی شان پر ناکام حملے کا ارتکاب کیا۔ حقیقت رائے کو اس مجرمانہ جسارت پر گرفتار کرکے عدالتی کارروائی کیلئے لاہور بھیجا گیا جہاں اسے سزائے موت سنا دی گئی۔ اس واقعہ سے پنجاب کے ہندوئوں کو شدید دھچکا لگا۔ اُس وقت کے گورنر پنجاب زکریا خان (1707ء تا 1759ئ) سے حقیقت رائے کو معاف کرنے کی استدعا کی گئی لیکن زندہ ضمیر زکریا خان نے ہندوئوں کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت پر نظر ثانی کرنے سے صاف انکار کر دیا لہذا اس ملعون گستاخ کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس پر ہندوئوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ ہندو قوم کی طرف سے حقیقت رائے کی ایک یادگار تعمیر کی گئی جو کوٹ خواجہ سعید ( کھوجے شاہی) لاہور میں واقع ہے اور اب یہ مقام ’’ باوے دی مڑہی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ حقیقت رائے کی سزائے موت کا ایک سال پورا ہونے پر مقامی رئیس ہندو کالو رام کے ہاں تمام ہندو اکٹھے ہوئے، جہاں انہوں حقیقت رائے کی یاد میں پتنگیں اڑائیں اور ڈھول بجائے۔ ایک ہندوطبقہ بسنت کو موسمی نہیں بلکہ مذہبی تہوار سمجھتا ہے چونکہ اس کا ذکر پرانی ہندو مذہبی کتب میں ملتا ہے۔ پرانی کتابوں کے مطابق پتنگوں اور گڈوں پر دو آنکھیں یا دوسری شکلیں بنا کر آسمان سے نازل ہونے والی بلائوں کو دور کیا جاتا ہے ۔ یہ توہم پرستی سنگاپور اور تھائی لینڈ سمیت جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ ملکوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ بالفرض حقیقت رائے والی بات میں حقیقت نہ بھی ہو تو بسنت کی صورت میں قاتل ڈور کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔
راقم کے نزدیک بسنت تہوار نہیں بلکہ دو دھار والی تلوار ہے، مخصوص اور منحوس پتنگ باز قاتل ڈور کے وار سے ہمارے بچوں سمیت شہریوں کے گلے کاٹ رہے ہیں اور تین دہائیوں کے دوران اب تک کسی قاتل کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا، راقم کے نزدیک قاتل ڈور سے ہونیوالی اموات حادثات نہیں بلکہ قتل عمد ہیں جبکہ ریاست نے آج تک کسی مقتول کو انصاف دیا۔ پچھلے دنوں عدالت عالیہ لاہور کے ایک فاضل جسٹس نے بسنت کیخلاف رٹ کی سماعت کے دوران چائنہ میں ہونیوالی پتنگ بازی کا ریفرنس دیا، چائنہ میں تو اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔ چینی شہری جو کچھ تناول کرتے ہیں وہ ہم نہیں کر سکتے لہذا وہاں ہونیوالی پتنگ بازی کو بنیاد بنا کر پنجاب میں شہریوں کی زندگی دائو پر لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پچھلی تین دہائیوں سے پتنگ بازی جان کی بازی بن گئی ہے۔ قاتل ڈور نے تین دہائیوں میں سیکڑوں مائوں کی گودیں اجاڑ ی ہیں، کاش حکمرانوں کو ان بیچاری مائوں کا ماتم یاد ہوتا، بوتل میں بند بسنت کا آدم خور بھوت آزاد کرنے سے غمزدہ مائوں کا زخم تازہ ہوگا اور تین روزہ بسنت کے دوران ا للہ نہ کرے بچوں سمیت مزید شہریوں کے زخمی ہونے یا مرنے کا خطرہ ہے۔ بسنت پر ہوائی فائرنگ سے بھی کئی بیگناہ مارے جاتے ہیں۔ بوکاٹا کی توہین آمیز آوازوں سے نفرت اور نسل در نسل دشمنی کا آغاز ہوتا ہے۔ گڈیاں اڑانے سے مقروض پاکستان کی معیشت ’’ ٹیک آف‘‘ نہیں کرے گی، مقروض ملک میں بسنت نامی فتنہ سے وقت ، قومی وسائل اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہوگا ۔
بدقسمتی سے جہاں بدانتظامی اور من مانی کا دور دورہ ہو وہاں آئینی حکمرانی اور عوام کی ترجمانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا کرتا۔ یہاں بھی جمہوریت کے نام پر شخصی آمریت، خود اعتمادی کی بجائے خود پسندی بلکہ خودپرستی کا راج ہے ورنہ شدید عوامی دبائو پر بسنت منانے کا آمرانہ فیصلہ ضرور تبدیل ہوجاتا۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ ، مرکزی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی سمیت متعدد سیاسی و مذہبی پارٹیز نے مجوزہ سہ روزہ بسنت کیخلاف انتہائی شدت سے اظہار نفرت اور اظہار مذمت کیا ہے لیکن حکمران طبقہ پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا۔ سہ روزہ بسنت منانے سے مخصوص لوگ یقینا خوش ہوںگے لیکن باشعور افراد کا اس پر مزید برہم ہونا یقینی ہے۔ پرجوش انداز سے سرکاری سطح پر بسنت کا اہتمام ناقابل فہم ہے۔
حکمران جماعت نے اس متنازعہ اقدام کیلئے عوام سے مینڈیٹ نہیں لیا۔ کوئی زندہ ضمیر انسان قاتل ڈور اور پتنگ بازی کے حق میں ووٹ نہیں دے سکتا۔ اللہ نہ کرے اگر بسنت کے نتیجہ میں شہریوں کی اموات ہوتی ہیں یا بچے زخمی ہوتے ہیں تو اس صورت میں کون خود کو انصاف کیلئے پیش کرے گا۔ مذموم بسنت کے دوران انسانوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کے خدشات اور شدید خطرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لہذا اس کی اجازت کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے، بسنت منانے کی آڑ میں شہریوں اور بالخصوص بچوں کی زندگیاں دائو پر لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔





