ColumnImtiaz Aasi

قومی مذاکراتی کانفرنس، تحریک تحفظ کا شرکت سے انکار

قومی مذاکراتی کانفرنس، تحریک تحفظ کا شرکت سے انکار
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
عجیب تماشا ہے پی ٹی آئی کے وہ رہنما جنہیں بانی پی ٹی آئی نے مشکل گھڑی میں ساتھ چھوڑ جانے کی پاداش میں پارٹی سے علیحدہ کیا وہی اپوزیشن جماعتوں کی مذاکرتی کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد فواد چودھری مقدمات کا سامنا نہیں کر سکے اور پی ٹی آئی سے وفاداری نبھانے میں ناکام رہے اور اب حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش پیش ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنمائوں سے ملاقات میں انہیں توڑنے میں ناکامی کے بعد انہوں نے مذاکراتی کانفرنس کا نیا راستہ اختیار کیا ہے جس میں ان کی کامیابی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور تحریک تحفظ آئین کی قومی مذاکراتی کانفرنس میں عدم شرکت کے بعد فواد چودھری اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے قومی مذاکراتی کانفرنس کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ گو حکومت اپوزیشن سے بات چیت کا عندیہ دے رہی ہے خصوصا حکومتی مشیر رانا ثناء اللہ کا موقف ہے اگر پی ٹی آئی اداروں کے خلاف بیانات کا سلسلہ ختم کر دے تو بات چیت ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ یہ بات ہر شخص جانتا ہے سوشل میڈیا کی شتر بے مہار لہر میں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کوئی کہاں سے بات کر رہا ہے اور وہ کون ہے اس بات کی کیا گارنٹی ہے اداروں کے خلاف جاری مہم پی ٹی آئی کی طرف سے ہو رہی ہے۔ یہ بات بھی اظہر من التمش ہے حکومت کسی طور بانی اور اس کی جماعت کے قیدیوں کی رہائی کے لئے سنجیدہ نہیں کیونکہ حکومت کے پاس اس ضمن میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس ناچیز کے خیال میں پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات کا سلسلہ مستقبل قریب میں ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کے برعکس دوسری جانب دیکھا جائے تو بانی پی ٹی آئی نے ملک گیر احتجاج کا ٹاسک وزیراعلی سہیل آفریدی کو دے رکھا ہے جو اس امر کا غماز ہے بانی پی ٹی آئی نے کشتیاں جلا دی ہیں۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی کا سپاہی ہے وہ ملک میں عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ وسیع پیمانے پر دھاندلی کے خلاف چاروں صوبوں کے عوام کو متحرک کرنے کے لئے میدان عمل میں نکلا ہوا ہے۔ پہلے مرحلے کے طور پر سہیل آفریدی نے پڑائو پنجاب میں ڈالا پنجاب حکومت نے اس کے منصب کا خیال رکھے بغیر وزیراعلیٰ کو پروٹول دینے کی بجائے پی ٹی آئی ورکرز کے خلاف مقدمات کے اندراج کی تیاریاں آخری مرحلے میں ہیں جو اس امر کی نشاندہی ہے پنجاب کے حکمران جمہوری روایات پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی ملک گیر پہیہ جام کی کال کو ابھی ایک ماہ باقی ہے پنجاب کے مختلف شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہو چکا ہے جس سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا حکومت پی ٹی آئی کے احتجاج سے خائف ہے۔ تاسف ہے پی ٹی آئی کے جن لوگوں کے خلاف مقدمات تھے اور ان کی اپیلیں اعلیٰ عدلیہ میں زیر التواء ہیں سماعت نہیں ہو پا رہی ہے جو عدلیہ پر بعض اداروں کے دبائو کا واضح ثبوت ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان ججوں کی چیف جسٹس آف پاکستان کے نام بالش کے بعد اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے عدلیہ پر پی ٹی آئی کے بانی اور ورکرز کے خلاف مقدمات کے سلسلے میں دبائو ہے۔ تعجب ہے جبر کے دور میں وزیراعلیٰ سہیل آفرید ی صوبوں کے دورے پر نکلے ہیں۔ سندھ حکومت کے صوبائی وزیر نے سہیل آفریدی کو پورا پروٹول دینے کا اعلان کیا ہے ان کا کہنا ہے وزیراعلیٰ جس سے چاہیں مل سکتے ہیں البتہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں وزیراعلیٰ کسی صوبے میں گڑ بڑ کرنے تو نہیں جا رہے ہیں وہ اپنی پارٹی کے لوگوں کو آٹھ فروری کے احتجاج کے لئے تیار کر رہے ہیں جو ان کا جمہوری اور آئینی حق ہے۔ اگرچہ اس ملک میں آئین اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے خصوصا پی ٹی آئی طاقت ور حلقوں کے لئے ناپسندیدہ جماعت ہے لیکن عوام کی اکثریت اس کی حامی ہے لہذا عوام کو کب تک پی ٹی آئی سے علیحدہ رکھا جا سکے گا؟ دراصل ملک کے عوام جان چکے ہیں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو عوامی مفادات کی بجائے ذاتی مفادات عزیز ہیں شائد اسی لئے الیکشن میں عوام نے دونوں جماعتوں کو ووٹ کی طاقت سے مسترد کیا۔ یہ علیحدہ بات ہے عوام کے مینڈیٹ کے برعکس بعض حلقوں کی آشیرباد سے اقتدار پر انہیں بیٹھا دیا گیا ہے تاہم عوامی سطح پر دونوں جماعتوں کو ملک کے عوام کی پذیرائی حاصل نہیں رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے جن رہنمائوں کو گزشتہ دنوں مختلف مقدمات میں سزائیں دی گئی ہیں وہ بھی ملک کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے ساری عدلیہ خراب ہے باضمیر منصف اب بھی موجود ہیں جو اپنی عزت سے خائف ہیں کہیں انصاف کرتے کرتے عزت نہ گنوا دیں۔ پی ٹی آئی پر ایک الزام یہ بھی ہے عوام کو بعض اداروں کے خلاف کر دیا ہے حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے پاکستان کے عوام اپنے اداروں سے محبت کرتے ہیں۔ پاکستان کے اداروں کی کارکردگی تھی بھارت کے خلاف جنگ میں سبقت لے جانے سے عالمی سطح پر ہماری عسکری قیادت کی عزت و توقیر میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ بلاشبہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے خلاف عدم اعتماد کا بہت زیادہ رنج ہے اس کے ساتھ اسے یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عدم اعتماد نہ ہوتا تو بانی پی ٹی آئی کو عوام میں جو آج مقبولیت حاصل ہے وہ کبھی نہیں مل سکتی تھی۔ بعض ذرائع سے پتہ چلا ہے بانی پی ٹی آئی اپنی بہنوں سے ملاقات کے دوران کچھ زیادہ ہی سخت زبان استعمال کرتے ہیں جو کسی نہ کسی طریقہ سے افشا ہو جاتی ہے۔ ہمارے خیال میں بانی پی ٹی آئی کو فقط حق تعالیٰ سے لو لگائے رکھنی چاہیے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے بڑے بڑے لیڈروں نے برسوں جیلیں کاٹیں اور بالآخر ایک روز عوام میں آگئے لہذا بانی جس حوصلے سے قید و بند کا وقت گزار رہے ہیں ایک روز انہیں رہائی ضرور ملے گی۔

جواب دیں

Back to top button