ColumnTajamul Hussain Hashmi

یہ سب ختم نہیں ہوا ( جوابی تجزیہ)

یہ سب ختم نہیں ہوا ( جوابی تجزیہ)
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
یہ تاثر دینا کہ ایک مخصوص طبقہ کے اقتدار میں آنے یا جانے سے ’’ سب ختم ہو جاتا ہے‘‘، یہ ایک سطحی سوچ اور چند طبقوں کا ذہنی خلفشار ہو سکتا ہے۔ کالم کا مواد لکھاری کی تاریخ، سیاست اور سماجیات تینوں سے نابلد ہونے کی واضح نشانی ہے، دنیا کی ترقی یافتہ ریاستیں صرف نوجوانوں کے غصے یا بزرگوں کی ناکامی سے نہیں بنیں، بلکہ نسلی تسلسل، ادارہ جاتی ارتقا اور وقت کے ساتھ اصلاحات اور قانون کی عمل داری سے مضبوط ہوئی ہیں۔ اگر نوجوان لکھاری کا، نوجوانوں کی بے زاری کو، ہی زوال کا آخری ثبوت مان لیا جائے تو پھر جرمنی آج دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں شامل نہ ہوتا۔ 1960ء اور 70ء کی دہائی میں جرمن نوجوانوں نے ریاست، سرمایہ دارانہ نظام اور پرانی سیاسی قیادت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ یونیورسٹیاں میدانِ جنگ بنی رہیں، حکومت کو ’’ بوڑھوں کا قبضہ‘‘ کہا گیا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان نظام سے باہر نہیں رہے بلکہ ان کو نظام میں شامل رکھا گیا۔ آج جرمنی میں نوجوانوں کی شمولیت ایک حقیقت ہے، اسی طرح جنوبی کوریا کو دیکھ لیجیے۔ 1980ء کی دہائی میں وہاں کی نوجوان نسل فوجی آمریت کے خلاف سڑکوں پر تھی، ریاستی جبر، سنسر شپ اور پولیس تشدد روزمرہ کا معمول تھا۔ اگر اس وقت بھی یہ کہا جاتا کہ ’’ سب ختم ہو چکا ہے‘‘، تو آج جنوبی کوریا ٹیکنالوجی، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل معیشت کا عالمی مرکز نہ بنتا۔ وہاں نوجوانوں نے میمز پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنا کردار ادا کیا اور ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ دوست لکھاری کو سمجھنا چاہئے کہ یونیورسٹیز میں دئیے گئے لیکچرز کو منفی رخ دینا غیر اخلاقی ہے، ان لیکچرز کا مقصد ملکی معیشت میں نوجوانوں کے مثبت کردار اور سوشل میڈیا کی منفی معلومات سے دوری مقصود ہے، جس کو پاکستانی نوجوانوں نے بھر پور سراہا ہے۔ لکھاری پاکستانی ہے اور بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے، جناب پڑوسی ملک کے لاکھوں نوجوان ہر سال امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک منتقل ہوتے ہیں۔ لکھاری نے جہاں بیٹھ کر کالم نگاری کی ہے وہاں موجود انڈین نوجوانوں کا ریکارڈ ہی چیک کر لیتے تو ان کو بات سمجھ آ جاتی۔ بات تو یہ ہونی چاہئے کہ جو نوجوان پاکستان سے باہر گئے ہیں، کیا وہ مکمل طور پر ملک سے لاتعلق ہوئے ہیں یا سرمایہ، مہارت اور نیٹ ورک واپس ملک لائے ہیں، دوست ملک چین میں جنریشن زیڈ کو سخت ریگولیشن، فائر والز اور سنسر شپ کا سامنا ہے، وہی چیزیں جنہیں یہاں ’’ بوڑھوں کی ضد‘‘ کہا جاتا ہے۔ مگر اسی چین نے اپنی نوجوان آبادی کو مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور عالمی تجارت میں اس طرح شامل کیا کہ آج دنیا اس کی معاشی طاقت کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ وہاں پر بھی اختلاف موجود ہے، مگر ریاست ’ ختم‘ نہیں ہوئی۔ کالم نگار کا یہ تاثر دینا کہ محب الوطنی صرف سہولیات سے جنم لیتی ہے، ایک سطحی دلیل ہے اور مخصوص سوچ کی عکاسی ہے۔ جاپان دوسری جنگِ عظیم کے بعد مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ نہ انفراسٹرکچر تھا، نہ وسائل، نہ خودمختاری۔ مگر وہاں کی نوجوان نسل ریاست سے لا تعلق نہیں ہوئی بلکہ وہ ڈسپلن ، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنایا کر کامیاب ہوئے۔ آج جاپان دنیا کی منظم ترین اقوام میں شامل ہے۔
جہاں ریاستیں نوجوانوں کے مثبت مطالبات کو اداروں میں جذب کر لیتی ہیں، وہاں نظام مضبوط ہوتا ہے، اور جہاں انہیں نسلوں کی جنگ بنا دیا جاتا ہے، وہاں انتشار بڑھتا ہے۔ ہمارے ہاں نوجوانوں کو نسلوں کی جنگ کی طرف ایک مخصوص پلاننگ کے تحت موڑا جا رہا ہے۔ لیکن ہمارے نوجوانوں کی ایسی سوچ نہیں، جس کی کالم میں عکاسی کی گی ہے۔ اظہار رائے کا مطلب لاء قانونیت کبھی نہیں رہا، میمز، طنز اور سوشل میڈیا اظہارِ رائے کا ذریعہ تو ہیں، مگر توڑ پھوڑ اور جلائو گھیرائو اور مزاح ، ڈانس پارٹیوں سے قومیں نہیں بنتیں۔ فرانس، ترکی اور برازیل میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آ کر احتجاج کئے، مگر آخرکار سیاسی شرکت، ووٹنگ اور پالیسی ڈائیلاگ ہی راستہ ٹھہرا۔ ہمارے ہاں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ نوجوان ناراض ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے مخصوص لوگوں نے ان کی ناراضی کو حتمی شکست کے طور پر پیش کیا ہے، جو کہ ایک غلط سوچ اور تاثر ہے۔
یہ سب ختم نہیں ہوا، اللّہ پاک کرم رکھے، امین ۔ ملک کیلئے ایک مشکل مرحلہ ہے، اختتام نہیں۔ ریاستیں اس دن ختم ہوتی ہیں جب مکالمہ مر جائے اور مکالمہ ابھی زندہ ہے، چاہے تلخ ہی کیوں نہ ہو۔ جمہوری ملک ہیں، کالم نگار نے اپنے کالم میں مخصوص نقط نظر پیش کیا اور کئی حقیقی مسائل اور حقیقی قصور واروں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا، یہ ایک سوچی سمجھی پلانٹڈ تحریر سمجھی جائے اور اس کو سیریس نہ لیا جائے ۔ تحریر میں حقیقی مواد کی کمی تھی، مخصوص ٹارگٹ ہے۔ حالانکہ ان کے فیصلے، کارنامے اور شہادتیں نوجوان، بزرگوں، بچوں اور ہماری بہنوں مائوں کا فخر ہیں۔ یہ حب الوطنی پوری قوم کی روح میں شامل ہے، ملکی سلامتی، تحفظ میں ان کے ایکشن کی تعریفیں ہیں، جو ہمارے دوست لکھاری کو شاید ہضم نہیں۔

جواب دیں

Back to top button