وینزویلا کا باب بند ہوا

وینزویلا کا باب بند ہوا
صورتحال
سیدہ عنبرین
عالمی بدمعاش بلے نے لسٹ بنا رکھی ہے، وہ اپنے منصوبے کے مطابق جھپٹا مارتا ہے اور اپنے شکار کو اٹھا لے جاتا ہے۔ دنیا بھر کے قریباً دو سو ممالک میں سے تیس ملکوں کی حیثیت کبوتر کی سی ہے، وہ ترنوالہ بنائے جانے کے قابل ہیں، یعنی وہاں مختلف قسم کے قدرتی وسائل کی دولت موجود ہے۔ ان کبوتروں میں کوئی چھوٹا ہے، کوئی موٹا تو کوئی بڑا کبوتر ہے۔ بدمعاش بلا پہلے اپنی ترجیح کے مطابق موٹے کبوتر پر جھپٹتا ہے، وہ خوب جانتا ہے چھوٹے، بڑے کبوتر اس کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کر سکتے، البتہ موٹے کبوتر کو مزید وقت دیا گیا تو وہ اور موٹا، مزید طاقتور ہو سکتا ہے، پھر عین ممکن ہے بلا اس پر جھپٹے تو وہ طاقتور پروں کے زور پر اس کی زد سے نکل جائے۔ بلا موٹے کبوتر کو لے اڑا ہے، جبکہ درجنوں کبوتر مٹی میں سر دیئے بیٹھے ہیں، ان کی سوچ صدی پرانی ہے، کہ ان کی باری نہیں آئیگی۔ حالانکہ ان کے سامنے کئی طاقتور سمجھے جانے والے لقمہ اجل بن گئے۔ عراق، لیبیا، شام، سوڈان، افغانستان، الجزائر، کشمیر، غزہ اور یمن سب کی کہانی سب کے سامنے ہے۔
تیل کی معدنی دولت سے مالا مال ملک کے سربراہ کو دیکھتے ہی دیکھتے اس کے گھر سے اس کی بیوی سمیت اٹھا لیا گیا، اس کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا میرٹ یہی ہے کہ وہ عالمی بدمعاش کے سامنے پورے قد سے کھڑا تھا، وہ زندہ بچ جائے یا مارا جائے، تاریخ میں اس کا کردار مثبت لفظوں میں محفوظ ہو چکا ہے۔ جب اس کے گھر پر اسے اغوا کرنے کیلئے حملہ ہوا تو اس کے انٹیلی جنس ادارے بے خبر سو رہے تھے، اس کی فوج جتنی بھی تھی وہ کوئی مزاحمت نہ کر سکی، اس کی مختصر نیوی دشمن کی ناکہ بندی تو نہ توڑ سکتی تھی لیکن وہ دشمن کا ایک بحری جہاز بھی نہ ڈبو سکی، اس کی مختصر سی ایئر فورس ان ہیلی کاپٹروں کو بھی نہ گرا سکی جو اس کے صدر کو اٹھا لے گئے، ناکامی ان اداروں کی ہے، نکولس مارو رو ناکام نہیں ہوا، وہ جتنی مزاحمت کر سکتا تھا کرتا رہا۔ امریکیوں نے کچھ عرصہ قبل صدر وینزویلا کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی۔ پہلی کوشش جس وجہ سے ناکام رہی، دوسری کوششیں اسی وجہ سے کامیاب رہی، پہلی مرتبہ امریکی اس کے پائلٹ کو خریدنے میں ناکام رہے جبکہ دوسری کوشش میں ایک اطلاع کے مطابق گھر کے بھیدی اعانت کرتے پائے گئے۔ وینزویلا کے وزیر دفاع، ان کے سروسز چیف آج اپنی ناکامی کا جو بھی جواز فراہم کریں اس کی کوئی حیثیت نہیں، ان کا کمزور اور مکروہ کردار دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ نکولس مادورو کی کمر میں خنجر گھونپنے کیلئے درجنوں افراد موجود تھے جو امریکیوں کا کام آسان بنا رہے تھے۔ امریکہ پہلے ہلے میں تو رجیم چینج کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، اس نے اپنی زمینی فوج بھی وینزویلا میں داخل کر دی ہے، باقی تمام کام بھی اسی انداز میں انجام دیئے گئے ہیں، جس طرح عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضے کے وقت کئے گئے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عراق فوج لڑتی رہی، مزاحمت کرتی رہی، لیکن وینزویلا میں ایسا کچھ نہ ہوا، ملٹری ٹرم میں وہ بیٹھی ہوئی بطخ تھی جسے بآسانی شکار کر لیا گیا۔
گزشتہ پندرہ روز میں یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ امریکہ اب اپنے روایتی انداز میں وینزویلا پر جھپٹنے والا ہے، دنیا سوچ رہی تھی کہ وہ باقاعدہ جنگ کا آغاز کرے گا، اس کی بحریہ متحرک ہو گی، اس کی فضائیہ بمباری کرے گی، پھر اس کی زمینی فوج وینزویلا میں اترے گی اور اہم قصبات پر قبضہ کرے گی، کچھ کو تباہ کر دے گی، لیکن دنیا کی توقع کے خلاف حکمت عملی اختیار کی گئی۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ وینزویلا کے دوست روس اور چین کیا کرتے رہے، ان کی طرف سے امریکہ کو مختلف وارننگز تو دی گئیں لیکن اس سے بڑھ کر کچھ نہ کیا جا سکا۔ روس کی پوزیشن تو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے کہ وہ یوکرین میں دو سال سے گرم محاذ کو ایسے وقت میں نہیں چھوڑ سکتا تھا جب اسے وہاں مکمل کامیابی حاصل ہو چکی ہے، لیکن ابھی سیز فائر نہیں ہوا، اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ امریکہ نے یوکرین پر روسی فوج کا دبائو کم کرنے کیلئے اس وقت کا انتخاب کرتے ہوئے وینزویلا پر حملہ کیا ہو، لیکن کوریا نے جو بیلاسٹک میزائل، روس نے جو ارشنک میزائل تیار کر رکھے ہیں وہ کب اور کس کیلئے ہیں، یہ میزائل نصب کرنے کی تو خبریں آئیں، لیکن ان کی کارکردگی کہیں اب تک نظر نہیں آئی۔ روس اور چین مل کر اپنے بڑے اتحادی شام کو نہ بچا سکے، اب وہ اپنے دوسرے بڑے اتحادی اور امریکہ کے سامنے چٹان کی طرح کھڑے ہونے والے نکولس مادورو کو بھی نہ بچا سکے۔ امریکہ کے دو بڑے حریفوں کی یہ دو بڑی شکستیں ہیں، جن سے امریکہ کی دنیا میں دھاک میں اضافہ ہوا ہے۔ روس، چین اور کوریا کے اتحاد اور طاقت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔
امریکی مبصرین کے پاکستان میں ایبٹ آباد حملے اور وینزویلا میں کاراکاس حملے میں ہدف بہت مختلف تھے، لیکن ایبٹ آباد حملہ ایک ٹریلر، جبکہ کارا کاس حملہ مکمل فلم ہے، جو کامیاب رہی ہے۔ وقت کا دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ اب جب چاہے کسی بھی ملک میں اسی طرز کا آپریشن کر کے اس کے صدر اس کے وزیراعظم، حتیٰ کہ کسی بھی بڑے عہدیدار کو چوہے کی طرح اٹھا لے جا سکتا ہے، دنیا اسی طرح تماشائی بنی رہے گی۔ دنیا کے تمام ملک اسی طرح امریکی خواہشوں کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ اقوام متحدہ جیسا ناکارہ ادارہ کب تک مختلف ملکوں کے حصے بخرے ہوتے دیکھتا رہے گا، اور کب تک اس عالمی ادارے میں مختلف موقعوں پر مختلف قرار دادیں پیش ہوتی رہیں گی اور بات صرف کاغذی کارروائیوں تک رہے گی، جنہیں بڑی طاقتیں اپنی ضرورت کے مطابق کبھی ویٹو کر دیں گی، کبھی اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں گی۔
امریکہ نے اپنے عزائم کبھی کسی سے نہیں چھپائے، اب اس نے واضع کر دیا ہے کہ وہ کیوبا اور کولمبیا کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے، اس نے گرین لینڈ کے بارے میں بھی خبر کر دی ہے کہ وہ اسے بھی نہیں چھوڑے گا۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے اور یو این میں شامل ہے، لیکن امریکہ اقوام متحدہ، اس کے قوانین، اس کے چارٹر کی بھی پروا نہیں کرتا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ چار برس میں قریباً کئی لاکھ افراد وینزویلا چھوڑ کر امریکہ، یورپ اور لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں جا بسے ہیں۔ یہ سب آج اپنے ملک میں امریکی مداخلت پر جشن منا رہے ہیں، یہ نوبت کیوں آئی، دنیا بھر میں ہر اس ملک اور ہر اس حکومت کو اس اہم نکتے پر آج سے غور شروع کر دینا چاہئے جس کے وسائل پر امریکہ کی نظریں ہیں۔
نکولس مادورو نیویارک کی بروکلین جیل میں رکھے گئے ہیں، جبکہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی نے ان کی جگہ اقتدار سنبھال لیا ہے، وہ امریکی خواہشات کے تابع رہ کر کام کریں گی، یوں اس باب کو بند ہی سمجھیں۔





