گن بوٹ ڈپلومیسی کا نیا ایڈیشن

گن بوٹ ڈپلومیسی کا نیا ایڈیشن
قادر خان یوسف زئی
آج تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہو کر جب ہم ’’ آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو‘‘ (Operation Absolute Resolve)کے ملبے اور اٹھتے ہوئے دھوئیں کو دیکھتے ہیں، تو یہ محض ایک ملک کی خودمختاری پر حملہ نہیں بلکہ اس پورے عالمی ڈھانچے کی تدفین نظر آتی ہے جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانیت نے بڑی تگ و دو سے تعمیر کیا تھا۔ یہ جنوری کی وہ سرد صبح تھی جس نے عالمی قانون کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی اور دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ اب حق اس کا ہے جس کی لاٹھی میں جان ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ طاقتور کے لیے کوئی سرحد، کوئی میثاق اور کوئی انسانی اخلاق رکاوٹ نہیں ہوتا۔
وینزویلا کی سرزمین پر گرنے والے بموں نے صرف عمارتیں نہیں گرائیں بلکہ اقوام متحدہ کے اس منشور کے پرخچے اڑا دیے جس کا مقصد کمزور ریاستوں کو جارحیت سے بچانا تھا۔ واشنگٹن سے اٹھنے والی اس لہر نے کثیر الجہتی ، پارلیمانی نگرانی اور بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑا کر ایک ایسی نئی حقیقت کو جنم دیا ہے جہاں ’’ ہیجیمونک پاور‘‘ یعنی بالادست طاقت کو روکنے والا کوئی نہیں۔ انتونیو گوتریس کی جانب سے ’’ خطرناک مثال‘‘ کی وارننگ دراصل اس سیسٹمیاتی تباہی کا اعتراف ہے جسے دنیا اب تک نظر انداز کرتی آئی ہے۔ جب قانون کا اطلاق صرف کمزور پر ہو اور طاقتور اسے اپنی جوتی کی نوک پر رکھے، تو وہ قانون نہیں بلکہ ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔ آج اقوام متحدہ کا چارٹر ایک پابند عہد دستاویز سے سکڑ کر محض ایک تمنائی تحریر بن چکا ہے جس کی حیثیت اب کسی ردی کاغذ سے زیادہ نہیں۔
اس جارحیت کے خلاف لاطینی امریکہ سے لے کر ایشیا کے دور افتادہ کونوں تک جو ردعمل سامنے آیا ہے، وہ اس امر کی گواہی ہے کہ دنیا اس ”جنگل کے قانون” کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ برازیل، چین اور روس کی مذمتیں محض سفارتی بیانات نہیں بلکہ اس خوف کا اظہار ہیں کہ اگر آج وینزویلا کی باری ہے تو کل کوئی بھی دوسرا ملک اس کا نشانہ بن سکتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب تک نفاذ کے طریقہ کار امریکہ جیسے طاقتور ممالک پر لاگو نہیں ہوتے، تب تک یہ مذمتیں بے سود ہیں۔ سلامتی کونسل کا ویٹو پاور اور فوجی برتری وہ ڈھال ہیں جن کے پیچھے چھپ کر امریکہ کسی بھی بین الاقوامی جرم کو ”قومی مفاد” کا نام دے کر جائز قرار دے دیتا ہے۔
تاریخ دان جب 2026ء کے ان واقعات کو لکھیں گے، تو وہ 3جنوری کو اس لمحے کے طور پر یاد رکھیں گے جب انسانی حقوق اور جمہوریت کے دعوے داروں نے خود اپنے ہاتھوں سے ان اصولوں کا گلا گھونٹ دیا۔ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری، کاراکاس کی سڑکوں پر بہنے والا خون اور تیل کے ذخائر پر قبضے کی یہ کھلی کوشش یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ سب ’’ انسانی ہمدردی‘‘ کے لیے نہیں بلکہ ’’ اقتصادی لوٹ مار‘‘ کے لیے تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ رویہ کسی ایک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ان تمام بین الاقوامی اداروں کو غیر فعال کرنا ہے جو امریکی بالادستی کے سامنے کبھی رکاوٹ بن سکتے تھے۔ یہ بساط بہت پہلے بچھائی جا چکی تھی۔
تیل کی سیاست اور گن بوٹ ڈپلومیسی کا یہ نیا ایڈیشن دراصل اس پرانے نو آبادیاتی دور کی یاد دلاتا ہے جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی کے حکمران بٹھانے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے تھے۔ چین کا امریکہ کو یہ انتباہ کہ وہ ’’ حکومتیں گرانا بند کرے‘‘ اس بڑھتی ہوئی خلیج کی نشاندہی کرتا ہے جو اب دنیا کو دو واضح بلاکس میں تقسیم کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ ہیں جو قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ جو اپنی طاقت کے بلبوتے پر دنیا کو ہانکنا چاہتے ہیں۔
یہ ’’ آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو‘‘ دراصل انسانی اقدار کی مکمل شکست کا نام ہے۔ یہ حملہ عالمی نظام کے تابوت میں وہ آخری کیل ہے جس کے بعد اب واپسی کا راستہ بہت کٹھن ہے۔ عالمی ماہرین قانون نے اسے ’’ ایکٹ آف وار‘‘ اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکہ کے اندر بھی ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اس مہم جوئی کو غیر قانونی قرار دیا ہے، لیکن ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ”اب امریکہ وینزویلا کو چلائے گا” اس نئے عالمی استعمار کا اعلان ہے جس میں قوموں کی تقدیر کا فیصلہ ان کے اپنے عوام نہیں بلکہ واشنگٹن میں بیٹھے لوگ کریں گے۔ یہ ’’ رائٹ ٹو پروٹیکٹ‘‘(R2P)کے نام پر کی جانے والی وہ بدترین مداخلت ہے جس نے لیبیا، عراق اور شام کو تباہ کیا اور اب لاطینی امریکہ کی باری ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی اس میں بہت سے اسباق چھپے ہیں۔ جب بین الاقوامی آرڈر اپنی افادیت کھو دے، تو کمزور ریاستوں کے لیے بقا کا راستہ صرف اور صرف داخلی استحکام اور علاقائی اتحاد میں ہی بچتا ہے۔ انور ابراہیم جیسے عالمی رہنمائوں کا ’’ عالمی افراتفری‘‘ کا انتباہ ایک تلخ حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ اگر دنیا نے آج اس جارحیت کے خلاف ٹھوس قدم نہ اٹھایا، تو کل کو یہ رواج بن جائے گا کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک میں گھس کر وہاں کے منتخب حکمران کو اغوا کر لے اور اسے اپنی مرضی کے تحت چلانے کا دعویٰ کرے۔
’’ آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو‘‘ محض وینزویلا کے خلاف ایک فوجی کارروائی نہیں ہے بلکہ یہ اس سچائی کا اعتراف ہے کہ اب ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں قانون صرف کتابوں کی زینت ہے اور میدانِ عمل میں صرف طاقت بولتی ہے۔ ٹرمپ کی یہ جیت شاید ان کے حامیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو، لیکن انسانیت اور عالمی امن کے لیے یہ ایک عظیم المیہ ہے۔ آج وینزویلا رو رہا ہے، لیکن درحقیقت یہ پوری عالمی برادری کے لیے ماتم کا مقام ہے کیونکہ آج وہ اصول دفن ہو گئے جن پر ایک مہذب دنیا کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ یہ سفر اب ایک ایسے اندھیرے کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں منزل کا کوئی پتہ نہیں اور واپسی کا ہر راستہ مسدود نظر آتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اس ’’ گن بوٹ پاور‘‘ کے سامنے سر جھکانے کے بجائے ایک نئے اور منصفانہ عالمی نظام کے لیے آواز بلند کرے، ورنہ تاریخ ہمیں صرف ان لوگوں کے طور پر یاد رکھے گی جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک ڈھانچے کو بکھرتے دیکھا اور کچھ نہ کر سکے۔





