مسئلہ کشمیر: پاکستان کی غیر متزلزل حمایت

اداریہ۔۔۔۔
مسئلہ کشمیر: پاکستان کی غیر متزلزل حمایت
ہر سال کی طرح پیر 5جنوری کو پاکستان سمیت دُنیا کے مختلف خطوں میں یومِ حق خودارادیت کشمیر منایا گیا، تاکہ دنیا کے سامنے اس تاریخی عہد کی یاد دہانی کرائی جائے جو اقوام متحدہ نے 1949ء میں کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم اور یقینی بنانے کے لیے کیا تھا۔ یہ دن صرف ایک علامتی تاریخ نہیں بلکہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور انسانی حقوق کے موقف کو واضح اور موثر انداز میں اجاگر کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے جائز اور قانونی حق خودارادیت کے لیے اپنی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ وزیرِاعظم کے بیان کے مطابق، کشمیری عوام گزشتہ قریباً آٹھ دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ مظالم صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ کشمیری عوام کی سیاسی آزادی، معاشرتی ترقی اور اقتصادی خوش حالی کو بھی مسلسل محدود کیا گیا ہے۔ بھارت نے نہ صرف قابض فوج کے ذریعے کشمیری عوام پر خوف و دہشت کی فضا قائم رکھی، بلکہ 5 اگست 2019 ء کو یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے ذریعے اس خطے کے سیاسی اور آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی منظم مہم بھی چلائی۔ یہ اقدامات نہ صرف کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ کرتے، بلکہ ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 5جنوری 1949ء کی تاریخی قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ریاستِ جموں و کشمیر کا حتمی مستقبل آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے طے کیا جائے گا، لیکن بھارت کے غیر قانونی قبضے اور مسلسل جبر و تشدد کے باوجود، یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوسکا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی برادری کی جانب سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے تسلسل اور حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات موثر ثابت نہیں ہوئے۔ پاکستانی قیادت کا موقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ ہے۔ اس کے بغیر نہ صرف کشمیری عوام کی زندگیوں میں سکون قائم نہیں ہوسکتا، بلکہ خطے میں جاری دہشت گردی، انتہاپسندی اور جغرافیائی کشیدگی بھی برقرار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت کرتا آیا ہے اور عالمی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کے مظالم کے باوجود کشمیری عوام کے عزم و حوصلے میں کمی نہیں آئی۔ نہ قابض افواج کی تشدد آمیز کارروائیاں، نہ غیر قانونی جبر اور نہ ہی میڈیا پر پابندیاں ان کے حق خودارادیت کی جدوجہد کو دبا سکی ہیں۔ یہ بات نہ صرف کشمیری عوام کی جرات اور ثابت قدمی کو اجاگر کرتی ہے بلکہ دنیا کے سامنے یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ظلم کے باوجود انسانیت کی بنیاد پر حق کی آواز ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہ صورت حال صرف سیاسی یا سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بنیادی معاملہ بھی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی صحت اور تعلیم کی سہولتوں کا فقدان، بچوں کی بڑی تعداد اسکولوں سے باہر اور کم عمر بچوں میں اموات کی بلند شرح، اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ قابض افواج کی موجودگی میں انسانی فلاحی پہلو شدید متاثر ہوئے ہیں۔ وزیرِاعظم نی واضح کیا کہ پاکستان کے عوام کی جانب سے کشمیری عوام کی حوصلہ افزائی اور ان کے حقوق کی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر پرامیلا لال کے انتقال پر گہرے افسوس کا اظہار بھی کیا۔ ڈاکٹر پرامیلا لال نے ستر سالہ کیریئر کے دوران لاکھوں مریضوں کو سستا آنکھوں کا علاج فراہم کیا، انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی امراض چشم کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں تمغہ امتیاز کے ذریعے بھی کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر پرامیلا لال کی محنت اور انسانیت کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کے عطیات نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بہتر بنایا۔ وزیرِ اعظم کا بیان ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے سرگرم ہے بلکہ عالمی انسانی حقوق کے معاملے میں بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھتا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کشمیری عوام کا حق خودارادیت تسلیم کرنا ضروری ہے۔ یہ حق نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے بلکہ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت بھی غیر متزلزل اور قانونی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیرِاعظم کا کہنا کہ کشمیری عوام کی بہادری، عزم اور حوصلہ ان کے جائز حقوق کے حصول کی ضمانت ہے اور پاکستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ دنیا میں جبر اور ظلم ہمیشہ عارضی ہوتے ہیں اور حق و انصاف کی جدوجہد وقت کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچتی ہے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ ہر فرد اور ہر قوم کے لیے حق کی قیمت سب سے زیادہ ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، دونوں ہی کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے جائز حق خودارادیت کو یقینی بنائیں۔ یہی واحد راستہ ہے جو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، ترقی اور انسانی فلاح کو ممکن بنا سکتا ہے۔
شذرہ۔۔۔
دہشت گردی کیخلاف جنگ
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے سنگین واقعات سے دوچار ہے، جہاں لکی مروت، بنوں اور گوادر کے علاقے جیونی پانوان میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس کے پانچ بہادر اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ یہ بزدلانہ حملے نہ صرف امن و امان کے لیے خطرہ بلکہ ان محافظوں کی عظیم قربانیوں کی یاد دہانی بھی ہیں جو روزانہ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر عوام کے تحفظ کے لیے میدان میں موجود ہوتے ہیں۔ لکی مروت میں ٹریفک پولیس کے اہلکار معمول کی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ دہشت گردوں نے اچانک فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں انچارج ٹریفک پولیس نورنگ جلال خان، کانسٹیبل عزیز اللہ اور عبداللہ شہید ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ اسی طرح بنوں کے تھانہ منڈان کی حدود میں کفشی خیل کے مقام پر پولیس اہلکار رشید خان کو موٹرسائیکل سوار دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔ صرف چار گھنٹوں کے دوران بنوں ریجن میں چار پولیس اہلکاروں کی شہادت صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں بھی پولیس پر حملہ کیا گیا، جہاں گشت پر مامور اہلکار دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔ یہ واقعات اس امر کے ثبوت ہیں کہ دہشت گرد عناصر ملک کے مختلف حصوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ریاستی ادارے ان کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان افسوس ناک واقعات پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن و امان کے قیام میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا کردار قابلِ فخر ہے اور قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ان حملوں کے باوجود پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اور موثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سی ٹی ڈی بنوں اور پولیس کی بروقت اور کامیاب کارروائی میں تین خوارج کو ہلاک کیا گیا، جن میں خطرناک ٹارگٹ کلر نذیر عرف مجاہد بھی شامل تھا، جو پولیس اہلکاروں کے قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمات میں مطلوب تھا۔ اس کے ساتھ خارجی فواد اللہ عرف معاذ اور افنان خان کی ہلاکت بھی دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ یہ کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان تنہا نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔ پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی ادارے نہ صرف قربانیاں دے رہے ہیں بلکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے میں بھی کامیاب ہورہے ہیں۔ بحیثیت قوم، ہمیں ان قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے اور سیکیورٹی فورسز کی حوصلے کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ طویل ضرور ہے، مگر ریاستی عزم، اداروں کی قربانیوں اور عوامی حمایت کے باعث یہ جنگ بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ پاکستان کے دشمن یہ جان لیں کہ امن کے محافظوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو کر رہے گا۔







