Column

سیاست کا رخ بدلنے والے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی یوم پیدائش پر

سیاست کا رخ بدلنے والے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی یوم پیدائش پر
تحریر : سید مشرف کاظمی
ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسی عظیم شخصیت ہے جس نے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا غریبوں کچلے ہوئے انسانوں مزدوروں ہاریوں اور اس طرح کے طبقات کو معاشرے میں باعزت مقام بنانے اور سر اٹھا کر جینے کا ڈنگ سکھایا۔ آج اسی عظیم قائد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی کی سالگرہ کا دن ہے۔ بھٹو نے سیاست میں اسی دن ہی قدم رکھ دیا تھا جب انہوں نے اپنے دور طالبعلمی قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو 26اپریل 1945ء میں ایک خط لکھا تھا، بھٹو وہ سیاستدان ہیں جنہوں نے اس خط میں ملک کی خاطر اپنی جان دینے کی بات کی اور اس پر عمل کر کے بھی دکھایا۔ اکثر اپنے جلسوں میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ملک کے لیے لڑو گے، جان دو گے، جس پر عوام پرجوش انداز میں کہتے تھے ہم لڑیں گے۔ جس پر ان کے ناقدین ان پر تنقید کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ اپنے جلسوں میں جوش و خروش پیدا کرنے، گرمانے اور عوام کو جذباتی بنانے کے لیے اس طرح بات کرتے ہیں، لیکن وہ شاید بھول گئے کہ انہوں نے 1945ء میں قائد اعظمؒ کو لکھے گئے خط میں بھی یہی لکھا تھا۔ ان کے سیاسی سفر کا باقاعدہ آغاز 1957ء میں صدر سکندر مرزا کے زمانے میں شروع ہوا جب انہیں پہلی بار بیرون ملک جانے والے وفد میں شامل کیا گیا، وہ اس وقت کے سب سے کم عمر ممبر تھے، لیکن انہوں نے وہاں مدبرانہ اور انتہائی متاثر کن تقریر کی۔ انہیں پہلی دفعہ وزارت ایوب خان کہ دور میں ملی، جب انہیں وفاقی وزیر تجارت بنایا گیا، وہ ایوب کابینہ میں سب سے کام عمر وزیر تھے، اس کے بعد انہیں وزیر معدنیات اور قدرتی وسائل، پھر ایندھن و بجلی و آبپاشی اور امور کشمیر کی وزارت دی گئی۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ایوب خان نے انہیں وزیر خارجہ بنایا، جہاں انہوں نے اپنے ملک کے لیی بے پناہ و بے مثال خدمات سرانجام دیں۔ پاک، چین دوستی کے حقیقی معمار ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے، انہوں نے چین اور اس کی کیمونسٹ پارٹی سے پاکستان کے لیے خصوصی تعلقات استوار کرائے، جس کے نتیجے میں آج بھی کہا جا رہا ہے کہ پاک، چین دوستی پہاڑوں سے بھی بلند ہے۔ انہوں نے ملک کی خارجہ پالیسی کی ایک راہ متعین کی، 1962ء میں جین اور بھارت کی سردی جنگ ہوئی، جس کی وجہ سے بھارت کو اپنی افواج کشمیر سے نکال کر چین کی سرحد پر لانا پڑیں، چین نے پاکستان کو پیغام بھیجا کہ یہ وقت بہت اچھا ہے، بھارت کی تمام افواج چین کی سرحد پر ہیں، کشمیر بھارتی فوج سے خالی ہے، فوری طور پر کشمیر میں پیش قدمی کریں اور کشمیر پر قبضہ کر لیں، لیکن امریکی دوستی نے ایسا نہ ہونے دیا، جب 1965ء کی جنگ میں تاشقند میں روس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی، پاکستانی وفد میں ذوالفقار علی بھٹو نے بطور وزیر خارجہ شرکت کی، مذاکرات کے بعد جب معاہدہ تاشقند پر دستخط کا وقت آیا تو بھٹو کو اس کے نکات پر شدید اعتراض تھے، جس پر انہوں نے نہ صرف دستخط کی تقریب میں شرکت سے انکار کر دیا بلکہ وزارت خارجہ سے بھی اسی وقت استعفیٰ دے دیا۔ ان کا موقف اصولی تھا کہ ہم جنگ جیتے ہیں، پھر ہم ہارے ہوئے کی طرح معاہدہ کیوں کریں۔ وہ جس وقت ایئرپورٹ پر اترے تو عوام میں انہیں زبردست پذیرائی ملی، جو ان کی توقعات سے کہیں بڑھ کر تھی، اس عوامی پذیرائی اور محبت نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ سامراجی گماشتوں کے چنگل سے عوام کو آزاد کرائیں۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا واضح بلاکس میں بٹی ہوئی تھی۔ روسی کمونسٹ گروپ اور امریکی سامراج گروپ، جبکہ ملک بھر کی دولت پر 22خاندان قابض تھے، ان کی اجارہ داری تھی، ملک استحصالی اور استحصال زدہ طبقوں میں تقسیم ہو چکا تھا، بلکہ مذہبی طبقوں میں بھی تقسیم ہو چکا تھا۔ مذہبی جماعتوں نے انتہا پسندی کی راہ اپنا لی تھی، اس صورتحال میں عوام مایوسی کا شکار ہو گئے تھے، ان حالات میں بھٹو نے ملک و قوم کو مایوسی کے گہرے گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لیے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے قیام کے لیے اپنے دوستوں ساتھیوں اور مختلف شخصیات سے ملاقاتوں کا طویل سلسلہ شروع کیا، جو مارچ 1967ء سے نومبر 1967ء تک جاری رہا۔ اس دوران انہوں نے طلبہ، مزدوروں، محنت کشوں، کسانوں، ادیبوں، شاعروں اور ترقی پسند دانشوروں سے رابطے کیے اور اپنے ہی جاگیردار طبقے سے حقیقی عوامی انقلاب کے لیے بغاوت کی۔
بلاشبہ بھٹو نے بہت کم عرصے میں عظیم کارنامے سرانجام دئیے، جن کی بدولت پاکستان کے عوام کے دلوں پر آج بھی ان کی حکمرانی ہے اور صدیوں تک رہے گی۔ عوام کے سچے اور کھرے لیڈر نے حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کے لیے جدوجہد کی اور پاکستانی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ سیاست کو عبادت درجہ دینے والے بھٹو نے لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر سے شروع کی جانے والی پیپلز پارٹی کی جڑیں عوام کے دل میں پیوست ہوئیں اور چاروں صوبوں کو وحدت کی لڑی میں پرونے والی پہلی سیاسی جماعت کے وطن پرست رہنمائوں نے عوامی شعور اور قومی ترقی کا انقلاب برپا کر دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے شہید کی برسی پر کہا بھٹو صاحب تیسری دنیا کے نہایت ذہین قابل اور مقبول رہنما تھے، اگرچہ اس دور میں چوئی یون لائی، موزے تنگ، کم ال سنگ، احمد سویکا، اندرا گاندھی، جمال عبدالناصر اور یاسر عرفات جیسی شخصیات سیاسی دنیا کے افق پر چھائی ہوئی تھیں، لیکن شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ان تمام ناموں میں اپنا منفرد مقام اور پہچان بنائی اور دنیا کے سامنے اپنا سکہ جمایا۔
وہ واقعی ہی بڑے پختہ ارادوں کے مالک تھے، اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد ان کا بہت بڑا کارنامہ تھا، انہوں نے اسلامی ملکوں کی طاقت یکجا کرنے کا اشارہ دے کر اہل مغرب کو خوفزدہ کر دیا، پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام بھی ان کے بڑے کارناموں میں سے ایک تھا، کیونکہ اس دور میں سیاسی جماعتوں کے قیام میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار عام ہوتا تھا، لیکن میرے نانا نے جو عوامی پارٹی بنائی وہ روایات سے ہٹ کر تھی اور اس کی جڑیں عوام میں تھیں، وہ اپنا پیغام لے کر گائوں گائوں پہنچے اور ایسے ایسے گمنام علاقوں میں گئے کہ لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ میرے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ایک اور بہت بڑا کارنامہ ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا تھا، جس کے بعد خطے میں امن ناگزیر ہو گیا، اب بھارت پاکستان کو آنکھیں دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ اسلامی سربراہ کانفرنس کے لاہور میں انعقاد کو کون پاکستانی بلا سکتا ہے، یہ میرے نانا شہید ذوالفقار علی بٹو کا عظیم کارنامہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کا وقار بلند کیا۔ میرے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک سچے کھرے اور بہادر انسان تھے، انہوں نے کسی سے زندگی کی بھیک نہیں مانگی، نہ وہ کوئی خفیہ ڈیل کر کے سروس سرور پیلس گئے۔ وہ جیل کی کال کوٹھڑی سے نہیں گھبرائے، انہوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا سامنا کیا، ان کا ایک خاص ویژن تھا، ایک فلسفہ حیات تھا، وہ اپنے لیے نہیں جئے، پالیسیاں بنائیں، ملک کے استحکام کے لیے گراں قدر اقدامات کیے، اسمبلیوں، سینیٹ اور دیگر اداروں کو فروغ دیا، پارلیمانی نظام کو بحال کیا، خواتین کو بختیار بنایا۔ میرے نانا نے روٹی کپڑا اور مکان کا نہ صرف نعرہ دیا بلکہ اس کو حقیقت میں بھی بدلا۔
سید مشرف کاظمی

جواب دیں

Back to top button