خواتین کے حقوق یا ریٹنگ کا کھیل؟ میڈیا پر سوالیہ نشان

خواتین کے حقوق یا ریٹنگ کا کھیل؟ میڈیا پر سوالیہ نشان
تحریر : انجینئر بخت سید یوسفزئی
آج کل نجی ٹی وی سے نشر ہونے والا ڈرامہ کیس 9بظاہر ایک نہایت حساس اور اہم سماجی مسئلے کو موضوع بناتا نظر آتا ہے۔ اس ڈرامے کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد ریپ وکٹمز کے لیے آگاہی پیدا کرنا، معاشرے کو جھنجھوڑنا اور خاموشی کے کلچر کو توڑنا ہے۔ ناظرین کے سامنے یہ پیغام رکھا جاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور متاثرہ فریق کے ساتھ کھڑا ہونا ہی اصل اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ڈرامے میں شاہ زیب خانزادہ کو ایک ایسے صحافی کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو بے خوف، اصول پسند اور غیر معمولی اخلاقی جرات کا حامل ہے۔ وہ طاقتور حلقوں کے دبائو کو رد کرتا ہے، کسی مالی یا سیاسی لالچ کو قبول نہیں کرتا اور خود کو سچ اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہوا دکھاتا ہے۔
خصوصاً حالیہ اقساط میں، اور بالخصوص 30ویں قسط میں، یہ تاثر مزید مضبوط کیا جاتا ہے کہ وہ ایک ریپ وکٹم کا انٹرویو نہایت احتیاط، ہمدردی اور احترام کے ساتھ کرتا ہے۔ عورت کی عزت، اس کی نجی زندگی اور اس کے جذبات کو مرکز میں رکھا جاتا ہے، جس سے ایک اعلیٰ اخلاقی صحافت کی تصویر ابھرتی ہے۔
اس پورے بیانیے کے ذریعے شاہ زیب خانزادہ کو خواتین کے حقوق کا مضبوط ترجمان دکھایا جاتا ہے۔ اس کا لہجہ باوقار، سوالات نپے تلے اور رویہ ہمدردانہ نظر آتا ہے، جو ناظرین کے ذہن میں ایک مثالی صحافی کا خاکہ بناتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کردار حقیقت کا بھی اتنا ہی سچا عکس ہے، یا یہ سب کچھ صرف سکرپٹ اور کیمرے کی حد تک ایک خوش نما تصویر ہے؟ کیونکہ جب ہم اسی کردار کو عملی صحافت کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو کئی بنیادی تضادات سامنے آتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری موجودہ صحافت اکثر ایک پیغام، ایک ہدایت یا ایک غیر علانیہ حکم کے تابع دکھائی دیتی ہے۔ آزادی، غیر جانبداری اور اصول پسندی کے تمام دعوے لمحوں میں دم توڑ دیتے ہیں اور صحافی ایک ریموٹ کنٹرول کردار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
اگر بشریٰ بی بی کے عدت کیس کو سامنے رکھا جائے تو یہی خود کو اصولی اور بااخلاق ثابت کرنے والے صحافی ایک عورت کی نجی زندگی کو عوامی تماشہ بناتے نظر آئے۔ وہاں نہ حساسیت دکھائی دی، نہ توازن، اور نہ ہی وہ اخلاقی حد بندی جس کی تشہیر آج ڈراموں میں کی جا رہی ہے۔
اس کیس میں ایک عورت کے ذاتی معاملات کو جس انداز میں زیرِ بحث لایا گیا، وہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے منافی تھا۔ نجی زندگی، وقار اور عزت جیسے تصورات مکمل طور پر پس منظر میں چلے گئے اور سنسنی کو ترجیح دی گئی۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ تھا کہ اس پورے معاملے میں یک طرفہ بیانیے کو مسلسل تقویت دی گئی۔ وہی صحافی جو ڈرامے میں دونوں فریقین کا موقف سننے کا دعویٰ کرتا ہے، حقیقت میں صرف ایک رخ پیش کرتا دکھائی دیا۔
اگر واقعی اصول پسندی اور برداشت کا اتنا ہی دعویٰ تھا تو اس معاملے میں بھی دونوں طرف کو برابر سنا جانا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا، جس سے کردار اور عمل کے درمیان خلیج مزید واضح ہو گئی۔
یہ طرزِ فکر دراصل اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ مسئلہ عورت کے حقوق کا نہیں بلکہ اپنی سہولت، اپنی پسند اور اپنے طے شدہ بیانیے کا ہے۔ جہاں بیانیہ موافق ہو، وہاں اخلاقیات کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، اور جہاں معاملہ طاقتور حلقوں سے ٹکرا جائے، وہاں اصولوں کو خاموشی سے ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے۔
میڈیا کا اصل کام سوال اٹھانا، احتساب کرنا اور عوام کو مکمل تصویر دکھانا ہوتا ہے، نہ کہ خود منصف بن کر فیصلے صادر کرنا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں صحافت رفتہ رفتہ اس راستے پر چل پڑی ہے جہاں تحقیق، توازن اور احتیاط کی جگہ رائے، تاثر اور سنسنی نے لے لی ہے۔
خواتین کے حقوق کی آڑ میں سنسنی پھیلانا، جذبات بھڑکانا اور ریٹنگ حاصل کرنا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف صحافت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ خواتین بھی نقصان اٹھاتی ہیں جن کے مسائل واقعی ہمدردی اور سنجیدہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔
جب کسی عورت کی عزت صرف اس وقت محترم سمجھی جائے جب وہ کسی خاص بیانیے میں فٹ بیٹھتی ہو، اور باقی حالات میں اس کی نجی زندگی کو اچھال دیا جائے، تو یہ احترام نہیں بلکہ کھلا استحصال ہے۔ عزت کوئی وقتی سہولت نہیں بلکہ ایک مستقل اصول ہونی چاہیے۔
ڈراموں میں دکھایا جانے والا مثالی کردار ایک خیالی دنیا کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں فیصلے ہمیشہ درست اور نیتیں ہمیشہ صاف دکھائی جاتی ہیں۔ لیکن جب یہی کردار حقیقی دنیا میں اپنے عمل سے اس تصور کی نفی کرے تو سوال اٹھانا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے۔
ناظرین کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسکرین پر دکھائی جانے والی ہر بات حقیقت نہیں ہوتی۔ خوبصورت مکالمے، سنجیدہ چہرے اور باوقار لہجہ بعض اوقات سب سے بڑی تضاد اور منافقت کو چھپانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔صحافت اگر واقعی باوقار اور معتبر بننا چاہتی ہے تو اسے سب کے لیے یکساں معیار اپنانا ہوگا۔ مخصوص معاملات میں اخلاقیات کا شور اور مخصوص معاملات میں مکمل خاموشی، کسی بھی صورت ایک سنجیدہ صحافت کی علامت نہیں ہو سکتی۔
خواتین کے حقوق کی حقیقی وکالت وہی ہے جو ہر عورت کے لیے بلا امتیاز ہو۔ چاہے اس کا تعلق کسی کمزور طبقے سے ہو یا کسی طاقتور حلقے سے، اس کی عزت، اس کی نجی زندگی اور اس کے وقار کا تحفظ ہر حال میں یکساں ہونا چاہیے۔ جب تک یہ توازن قائم نہیں ہوتا، اس وقت تک ایسے ڈرامے محض نمائشی کاوشیں رہیں گے، جو وقتی جذبات تو ابھار سکتی ہیں مگر معاشرتی شعور اور انصاف کے نظام میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتیں۔
اصول، دیانت اور اخلاقیات اگر صرف سکرپٹ، کیمرے اور ڈرامے تک محدود ہوں تو وہ معاشرے کو بہتر نہیں بنا سکتیں۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سکرین بند ہو جائے، تالیاں ختم ہو جائیں اور انسان کو اپنے ضمیر کے سامنے جواب دینا پڑے، اور بدقسمتی سے یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری نام نہاد اصولی صحافت اکثر کمزور پڑ جاتی ہے۔







