
جمہوریت کے نام پر عالمی دہشت گردی
تحریر : عابد ایوب اعوان
عالمی سیاست اب کسی اخلاقی پردے، سفارتی لفاظی یا خوش نما نعروں کی محتاج نہیں رہی۔ طاقت اب ننگی ہو چکی ہے اور پوری دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور عالمی قانون جیسے الفاظ آج کے عالمی نظام میں محض ہتھیار بن چکے ہیں، جنہیں طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اصول وہی معتبر سمجھے جاتے ہیں جو طاقت کے مراکز کے حق میں ہوں، باقی سب محض وقتی دعوے بن کر رہ جاتے ہیں۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی اقدامات نے اس حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے کہ امریکہ کے نزدیک کسی ملک کی خودمختاری، عوام کا ووٹ اور بین الاقوامی قانون کی کوئی مستقل حیثیت نہیں۔ اگر کوئی سربراہِ مملکت امریکی مفادات کے راستے میں رکاوٹ بن جائے تو اسے مجرم ثابت کرنا، اس پر معاشی پابندیاں عائد کرنا، اس کی حکومت کو غیر قانونی قرار دینا اور حتیٰ کہ اسے ’’ اٹھانے‘‘ کی بات کرنا بھی قابلِ جواز سمجھا جاتا ہے۔
یہ سوال اب کسی علمی یا فلسفیانہ بحث کا موضوع نہیں رہا بلکہ ایک کھلا چیلنج بن چکا ہے کہ اگر ایک منتخب صدر بھی محفوظ نہیں تو پھر دنیا میں کس ملک کی خودمختاری واقعی قابلِ احترام ہے؟ کیا عالمی قانون صرف کمزور ممالک کے لیے بنایا گیا ہے اور طاقتور ریاستیں خود کو ہر قانون سے بالاتر سمجھتی ہیں؟
امریکہ بارہا یہ ثابت کر چکا ہے کہ اس کا اصل مسئلہ جمہوریت نہیں بلکہ کنٹرول ہے۔ جو حکمران واشنگٹن کی پالیسیوں کے مطابق چلتا ہے وہ جمہوریت پسند قرار پاتا ہے، چاہے اس کے اپنے ملک میں جمہوری اقدار پامال ہی کیوں نہ ہو رہی ہوں۔ لیکن جو قیادت آزاد خارجہ پالیسی، قومی وقار اور اپنے وسائل پر حقِ ملکیت کی بات کرے، وہی لمحوں میں آمر، ڈکٹیٹر اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
وینزویلا دنیا کے تیل سے مالا مال ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، اور یہی اس کا سب سے بڑا ’’ جرم‘‘ ہے۔ مادورو حکومت نے امریکی دبائو کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، جس کے بعد معاشی پابندیاں عائد کی گئیں، مالیاتی نظام کو مفلوج کیا گیا اور عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ یہ دبا عوام کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ حکومت کو جھکانے اور سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
دنیا اس کہانی سے پہلی بار نہیں گزر رہی۔ عراق میں مہلک ہتھیاروں کے جھوٹے الزامات، لیبیا میں عوامی تحفظ کے نام پر ریاستی ڈھانچے کی تباہی، افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ، یہ سب جمہوریت کے نام پر کی گئی مداخلتوں کی مثالیں ہیں، جن کے نتائج آج بھی عالمی امن اور علاقائی استحکام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عالمی ادارے، خصوصاً اقوام متحدہ، ایسی صورتحال میں یا تو خاموش رہتے ہیں یا بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کمزور ممالک کے لیے ہے، طاقتور کے لیے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا تیزی سے ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں انصاف نہیں بلکہ طاقت کی بالادستی قائم ہوتی جا رہی ہے۔یہ معاملہ صرف وینزویلا تک محدود نہیں بلکہ ہر اس ریاست کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو خود مختاری، خود داری اور آزاد فیصلوں کی بات کرتی ہے۔ آج نشانے پر نکولس مادورو ہیں، کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ کیا کر سکتا ہے، سوال یہ ہے کہ دنیا کب تک اس طرزِ عمل کو خاموشی سے برداشت کرتی رہے گی؟
اگر جمہوریت واقعی عوام کی حکمرانی اور ریاستی خودمختاری کا نام ہے تو پھر اسے بندوق، پابندیوں اور سیاسی دبائو سے الگ کرنا ہو گا۔ بصورتِ دیگر تاریخ یہی لکھے گی کہ جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان اس کے خود ساختہ محافظوں نے پہنچایا۔







