Column

. رواداری کا قحط اور مصلحتوں کا نوحہ: ہم کہاں کھڑے ہیں؟

. رواداری کا قحط اور مصلحتوں کا نوحہ: ہم کہاں کھڑے ہیں؟
تحریر : وقار اسلم

آج جب میں قلم اٹھاتا ہوں تو کاغذ کی سفیدی پر لفظوں کے نقوش ابھرنے سے پہلے ضمیر کی خلش آڑے آ جاتی ہے۔ ہم کس دوراہے پر کھڑے ہیں؟ وہ معاشرہ جہاں محبت و یگانگت کی خوشبو ہوائوں میں رچی ہوتی تھی، آج نفرتوں کے تعفن سے اٹا پڑا ہے۔ رواداری کی وہ اقلیم جہاں اختلافِ رائے کو مصلحت و مودت کے ریشمی دھاگوں سے پرویا جاتا تھا، اب ایک قصہ پارینہ معلوم ہوتی ہے۔
جون سے اکتوبر تک کا عرصہ مایوسی کی ان تاریک وادیوں کا مسکن رہا جہاں معاشی استحکام محض ایک سراب نظر آیا۔ لیکن نومبر 2025ء کے نتائج نے ایک نئی نوید سنائی ہے جہاں پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ سو ملین ڈالر سے زائد کے سرپلس کا آئینہ دار رہا۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ پالیسیوں کے تسلسل سے معیشت کا رخ تو بدلا جا سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم سیاسی خلفشار اور نفرت کے اس طوفان کا رخ بھی موڑ پائیں گے؟ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا محض ڈالروں کی ریل پیل سے عدم استحکام ختم ہو جائے گا؟ میرا وجدان کہتا ہے، ہرگز نہیں! جب تک ہم اس مٹی میں بوئے گئے نفرت کے بیجوں کو اپنی اخلاقی مودت سے تلف نہیں کریں گے، استحکام کی فصل نہیں اگے گی۔
آج کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ "طعنہ زنی” ہے۔ ہر سیاستدان دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈال کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تم "آمریت کی نرسری” کی پیداوار ہو۔ نواز شریف پر جنرل جیلانی اور ضیاء الحق کی سرپرستی کا لیبل لگایا جاتا ہے، تو دوسری جانب عمران خان کو جنرل شجاع پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام کی دریافت قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے خاندانی پس منظر کو بھی نہیں بخشا جاتا اور ان کے خالو جنرل برکی کا نام لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سیاست کی جڑیں کہیں نہ کہیں وردی کے سائے میں ہی پنپتی رہی ہیں۔ یہ طعنہ زنی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اصل سیاسی ایجنڈا پسِ پشت چلا گیا ہے اور صرف کردار کشی کا بازار گرم ہے۔
عمران خان اس وقت زنداں کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں، لیکن المیہ یہ نہیں کہ کوئی قید ہے، المیہ یہ ہے کہ "جین زی” (Gen Z) یعنی ہماری نئی نسل اس حصار میں مقید ہو چکی ہے جہاں صرف انتہا پسندی پروان چڑھ رہی ہے۔ یہ نسل محض متاثر نہیں، بلکہ اس بیانیے کے سحر میں ہے جہاں رواداری اور شائستگی کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ہم کہاں کھو بیٹھے وہ اخلاق جو کبھی ہمارا طرہ امتیاز تھا؟
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو جلال الدین اکبر کا عہدِ جہاں بانی یاد آتا ہے۔ وہ مغلوں کا سب سے رانا اور صاحبِ جاہ و جلال بادشاہ محض اپنی فتوحات کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنے ’’ نصاف‘‘ کی بدولت تاریخ کے ماتھے کا جھومر بنا۔ اکبر نے سمجھ لیا تھا کہ کثیر الجہتی معاشرے میں حکومت صرف تلوار سے نہیں بلکہ ’’ صلحِ کل‘‘ (Universal Peace)سے چلتی ہے۔ اس نے متضاد نظریات کو ایک دسترخوان پر بٹھایا۔ آج ہم بات کرتے ہیں کہ سیاست کا استعارہ کیا ہے؟ کیا یہ خلفشار، طعنہ زنی اور ظلم ہے؟ ہم جا کہاں رہے ہیں؟
فلسفے کی دنیا میں جھانکیں تو افلاطون (Plato)کا مکالمہ یاد آتا ہے۔ قدیم یونان میں جب سپارٹنز (Spartans) کی جنگجو فطرت نے انسانیت اور اخلاق کو پسِ پشت ڈال دیا تھا، تو افلاطون نے معاشرے کی اخلاقی تعمیرِ نو کی بات کی۔ اس نے ‘Zeus'( زوس) جیسے انسانی نقائص والے دیوتائوں کے بجائے "خدائے لم یزل” اور "خیرِ مطلق” (The Good)کی بات کی۔ افلاطون نے مادی دیوتاں کی جگہ ‘Metaphysical’وحدانیت کا تصور پیش کیا، تاکہ انسان اپنی مٹی کی جبلتوں سے نکل کر آفاقی سچائیوں کو پہچانے۔
قدیم سپارٹا (Sparta)کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں کا نظام صرف طاقت اور جنگ پر مبنی تھا۔ وہ بچوں کو بچپن سے ہی نفرت اور تشدد کی نرسریوں میں پالتے تھے، جس کا انجام یہ ہوا کہ وہ ایک عظیم فوجی قوت تو بنے لیکن کوئی تہذیب یا علم پیچھے نہ چھوڑ سکے۔ آج ہم بھی اپنے نوجوانوں کو سیاسی سپارٹنز بنا رہے ہیں جن کے پاس دلیل نہیں، صرف طعنہ ہے۔
اگر ہمیں اس ملک کو بچانا ہے تو مفاہمت کی نئی داغ بیل ڈالنی ہوگی۔ وہ مفاہمت جو اقتدار کی ہوس پر نہیں، بلکہ قومی یگانگت پر مبنی ہو۔ ہمیں اس حصار کو توڑنا ہوگا جو نفرتوں نے ہمارے گرد کھینچ دیا ہے۔ سیاست کو "آمریت کی نرسریوں” کے طعنوں سے نکال کر عوامی خدمت کے گلشن میں لانا ہوگا۔ یاد رکھیے، مصلحت و مودت کے بغیر کوئی ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔ سحر تب ہوگی جب قلم کی حرمت بحال ہوگی، جب ہم افلاطون کی طرح وحدانیت اور سچائی کو تلاش کریں گے اور جب ہمارے رویوں میں اکبر جیسا انصاف جھلکے گا۔
آئیں، اس سے پہلے کہ وقت کی گرد ہمیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے، ہم اپنی نسلوں کو نفرت کے حصار سے نکال کر رواداری کی روشنی میں لائیں۔ یہی پاکستان کی بقا ہے اور یہی صاحبِ قلم کا اصل فریضہ ہے۔
مجھے امیدِ واثق ہے کہ یہ نیا سال سیاسی بساط پر مودت اور مفاہمت کا پیغام لائے گا۔ جب وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف مسلسل مذاکرات اور میثاقِ معیشت کی دعوت دے رہے ہوں اور ان کی جماعت کے اہم رہنما رانا ثناء اللہ یہ اعتراف کر رہے ہوں کہ اب "بڑوں کو مل بیٹھنا ہوگا”، تو یہ اس بات کی نوید ہے کہ نفرت کی سیاست اب تھک چکی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عمران خان سے مذاکرات کا بند دروازہ کھولا جائے اور دوسری جانب عمران خان کو بھی اپنے سیاسی رویوں میں وہ لچک دکھانی چاہیے جو ایک مدبر ریاست کار کا خاصہ ہوتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button