2025ء: جلتا فلسطین اور سویا ہوا عالمی ضمیر

2025ء: جلتا فلسطین اور سویا ہوا عالمی ضمیر
تحریر : امجد آفتاب
رات کی خاموشی میں موبائل اسکرین پر جلتی ہوئی ایک تصویر ملبے کے نیچے دبے کھلونوں کے درمیان ایک بچے کا ہاتھ اور دل میں اُترتی وہ ٹھنڈی سی چبھن جو نیند کو جرم بنا دیتی ہے۔ 2025ئ کا سال میرے لیے بھی، پاکستان کے ہر عام آدمی کی طرح، مہنگائی اور روزمرہ کی تگ و دو میں گزرا مگر اگر کسی ایک دکھ نے سب پر سبقت لی تو وہ فلسطین کا دکھ تھا۔ یہ محض خبریں نہیں تھیں، یہ انسانیت کے ضمیر پر لگنے والی دستک تھیں ۔بار بار، بے رحم اور بے امان۔
اسرائیل نے اس برس بھی طاقت کو قانون پر، توپ کو دلیل پر اور محاصرے کو حکمت پر ترجیح دی۔ مہینوں جاری رہنے والا محاصرہ، تباہ حال ہسپتال، ادویات سے محروم مریض، اور وہ اسکول جو پناہ گاہیں بنے پھر بھی محفوظ نہ رہے۔ یہ سب اجتماعی سزا کی واضح مثالیں تھیں۔ یہ محض جنگی کارروائیاں نہیں تھیں یہ انسانی جانوں کو توڑ دینے کا منصوبہ تھیں۔ صحافی گولیوں کے سائے میں سچ لکھتے رہے، مائیں لاشیں اٹھاتی رہیں، اور دنیا نے اکثر وقت فائلیں ترتیب دی۔
فلسطینی عوام صرف مظلوم نہیں۔ وہ استقامت کی زندہ علامت ہیں۔ ملبے پر کھڑا نوجوان، آنسو ضبط کرتی ماں، اور قلم تھامے صحافی یہ سب اعلان کرتے ہیں کہ آزادی کی خواہش بموں سے نہیں ماری جا سکتی۔ فلسطینی مزاحمت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ طاقت وقتی ہوتی ہے، حق دیرپا ہوتا ہے، اور انسانی روح تسلیم نہیں کرتی۔
اے انسانی حقوق کے علمبردارو!
اے ویٹو پاور کے مالک ممالک!
آپ کے منشور، آپ کی قراردادیں، آپ کی تقریریں سب اس وقت کہاں تھیں جب ہسپتال جل رہے تھے؟ جب امداد کے قافلے رُکے تھے؟ جب بچوں کے نام فہرستوں میں بدل رہے تھے؟ یہ سوال کسی ایک ریاست سے نہیں، بلکہ اُس عالمی نظام سے ہے جو طاقتور کے لیے قانون نرم اور کمزور کی لیے بے معنی بناتا ہے۔
مسلم امہ کے حوالے سے خود احتسابی ناگزیر ہے۔ تعداد میں اربوں، مگر ترجیحات میں بٹے ہوئے، مفادات کے جال میں الجھے ہوئے، اور اکثر رسمی مذمت تک محدود۔ مسئلہ صرف کمزوری نہیں، نیت اور ترجیح کا بھی ہے۔ جب معیشتیں اور سفارت کاری انصاف پر فوقیت پا لیں تو ظلم بے خوف ہو جاتا ہے۔ پاکستان نے اس صورتحال میں ہمیشہ واضح اور مستقل موقف اختیار کیا ہے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت، اسرائیل کی جارحیت کی مذمت، اور عالمی سطح پر مظلوم کی آواز بلند کرنا پاکستان کی پالیسی اور اخلاقی ذمہ داری کا حصہ رہا ہے۔
پاکستان کی ریاست نے 2025ء میں بھی اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر فلسطین کے حق میں آواز بلند کی، جس سے عالمی سطح پر یہ واضح پیغام گیا کہ پاکستان صرف کلمات کا نہیں بلکہ عمل کا بھی حامی ہے۔ عوامی سطح پر احتجاج، میڈیا کی کوریج، پارلیمان کی قراردادیں اور سفارتی سطح پر دوٹوک موقف یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے، چاہے یہ موقف کسی عالمی دبا یا خطرے کا سامنا کرے۔
بالآخر، جب ظلم کی شدت ناقابل برداشت ہوئی، جب عالمی رائے عامہ جاگی، تب عالمی طاقتیں حرکت میں آئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی، عالمی دبا اور مسلم دنیا کی اجتماعی مجبوری کے نتیجے میں اسرائیل کو ایک امن معاہدے پر آمادہ ہونا پڑا۔ جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، محاصرے میں نرمی اور بین الاقوامی نگرانی یہ سب مثبت اشارے ہیں، مگر کافی نہیں۔ امن کو کاغذ پر محدود نہ ہونے دینا اب عالمی طاقتوں کی اخلاقی اور عملی ذمہ داری ہے۔
یہاں اصل سوال ’’ اگر‘‘ اور ’’ مگر‘‘ کا ہے۔
اگر نگرانی مستقل نہ ہوئی تو؟
اگر خلاف ورزیوں پر فوری اور سخت نتائج نہ نکلے تو؟
اگر محاصرہ دوبارہ سخت ہوا تو؟
تاریخ بتاتی ہے کہ اسرائیل بالخصوص نیتن یاہو معاہدوں کا پابند نہیں رہا۔ اوسلو سے آج تک، وعدے طاقت کے نشے میں روندے گئے۔ اس لیے اس امن کا واحد ضامن مسلسل دبائو، شفاف نگرانی اور واضح سزا ہے نہ کہ اندھا اعتماد۔
اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی رائے اور موقف واضح اور اصولی ہے: اسرائیل کی موجودہ حکومت کی جارحانہ پالیسیوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کی قربانی ہرگز ناقابل قبول ہے۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ فلسطین کی خودمختاری، انسانی حقوق کی پاسداری اور 1967ء کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک امن کا حقیقی تصور نامکمل رہتا ہی۔ یہ موقف نہ صرف اخلاقی بلکہ بین الاقوامی قانون اور انصاف کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔
یہ محض زمین کا تنازع نہیں۔ یہ انصاف، ضمیر اور انسانیت کا سوال ہے۔ اگر یہ امن کاغذی ثابت ہوا تو آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ جب بچوں پر بم برس رہے تھے، تب ہم نے کیا کیا؟ 2025ء سے اگر نہ سیکھا گیا تو یہ سال کیلنڈر کا ہندسہ نہیں رہے گا یہ تاریخ کا مستقل الزام بن جائے گا۔
خاموشی سب سے آسان مگر سب سے بڑا جرم ہے۔ فلسطین آج بھی ہم سب سے حساب مانگ رہا ہے، اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔ قاتلوں کے ساتھ ساتھ خاموش رہنے والے بھی مجرم ٹھہریں گے۔ پاکستان کی ریاست، عوام اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ یہ آواز مسلسل بلند رکھیں، تاکہ ظلم کبھی معمول نہ بنے اور فلسطینیوں کے حقوق عالمی ضمیر کی ترجیح بنیں۔







