ColumnRoshan Lal

وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کے بعد۔۔۔۔۔۔

وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کے بعد۔۔۔۔۔۔
تحریر : روشن لعل
وینزویلا پر امریکی حملے کے جواز کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کچھ کہا اسے درست سمجھنا تو درکنار ، ایک لمحہ کے لیے قابل اعتنا بھی نہیں سمجھا جاسکتا۔ وینزویلا پر امریکی حملے اور اس کے صدر مادورو کی گرفتاری جیسے تہذیب کش اقدام کی جس حد تک بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ امریکہ کا یہ تازہ ترین حملہ بعض لوگوں کے لیے نئی بات ہے لیکن جو لوگ جانتے ہیں کہ دنیا میں معاشی ترقی کی استعداد رکھنے والے ملکوں کے وسائل پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے امریکی حکام کس طرح جال بنتے ہیں ان کے لیے وینزویلا پر حملہ کوئی انہونی امریکی کاروائی نہیں ہے۔ امریکہ نے خاص طور پر لاطینی امریکی ملکوں کے وسائل پر دھونس دھاندلی سے قبضہ کرنے کا جو سلسلہ 1832ء میں شروع کیا تھا وینزویلا پر حالیہ حملہ اس کی تازہ ترین کڑی ہے۔ امریکہ ،جب بھی کسی ملک کے خلاف وینزویلا پر حملے جیسے کارروائی کرتا ہے تو کچھ لوگ ایسی کارروائیوں کی شدید مذمت کرنے کے بعد کسی نئے امریکی حملے تک آرام فرمانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے حملوں کے بعد صرف امریکہ مذمت کرنے پر اکتفا کرنے والے، ان حکمرانوں کی کمزوریوں اور نالائقیوں کا ذکر کرنے سے شرما جاتے ہیں جو امریکہ کے اجارہ دار بننے کے واضح عزائم سے باخبر ہونے کے باوجود اپنی ناعاقب اندیشیوں کی وجہ سے خودکو امریکی حکام کے لیے تر نوالہ بنا دیتے ہیں ۔ وینزویلا پر امریکہ نے جو حالیہ حملہ کیا ، اس کی مذمت ضرور ہونی چاہیے لیکن ایسا کرتے ہوئے ،اس پس منظر پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ معزول کیا گیا وینزویلا کا صدر کیسے کیسے غیر جمہوری اقدامات کرتے ہوئے اپنے ملک پر امریکی حملے کی راہ ہموار کرتا رہا۔
امریکہ کے وینزویلا پر حملے کا پس منظر یہ ہے کہ سال 2002میں امریکی ایما پر وینزویلا کے کچھ فوجی جرنیلوں نے منتخب صدر ہوگو شاویز کو اس کے عہدہ سے سبکدوش کر دیا تھا۔ شاویز کی یہ سبکدوشی 72 گھنٹوں کے اندر اس لیے ختم ہو گئی کیونکہ اس کے حق میں دس لاکھ سے بھی زیادہ لوگ ملک کی سڑکوں پر نکل آئے۔ اس کے بعد یہ ہواکہ شاویز کو ہٹانے والے جرنیل نہ صرف اسے واپس لائے بلکہ اپنے عہدے چھوڑنے پر بھی مجبور ہوئے۔ امریکی جارحیت کے سامنے سرخرو ہونے کے بعد ہوگو شاویز پہلے جیسا نہ رہا۔ ہوگو شاویز نے 1999ء کا صدارتی انتخاب اس وعدے پر جیتا تھا کہ وہ ملکی معیشت کو معدنی تیل کی بجائے صنعتی و زرعی پیداوار پر انحصار کرنے کی طرف منتقل کرے گا ۔ صدر بننے اور خاص طور پر اپنے خلاف فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد شاویز نے سابقہ حکمرانوں کی طرح تیل کی پیداوار پر انحصار کی پالیسی کو ہی جاری رکھا اور اعلان کردہ انقلابی معاشی اصلاحات کے نفاذ کو پس پشت ڈال دیا۔ شاویز نے سوشلسٹ پالیسیوں کے نام پر جب پرائیویٹ شعبے میں موجود تمام اداروں کو نیشنلائز کیا تو صرف اندرونی ہی نہیں بلکہ بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں کو بھی نیشنلائزیشن کی زد میں لے آیا۔ اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے ایک طرف تو وہاں پہلے سے ہوچکی بیرونی سرمایہ کاری کا خاتمہ ہوا اور دوسری طرف نئی بیرونی سرمایہ کاری کا امکان بھی ختم ہو گیا۔ ایسا ہونے کے باوجود بھی وینزویلا میں فوری طور پر کوئی معاشی بحران پیدا نہ ہوا کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنا شروع ہوگئی تھیں۔ ہوگو شاویز کی کینسر کے سبب موت کے بعد وینزویلا کی معیشت تیزی سے نیچے گرنا شروع ہو گئی کیونکہ اس کی موت تک اگر پٹرول کی اوسط قیمت110.48ڈالر فی بیرل رہی تو بعد ازاں، 56.70ڈالر فی بیرل تک نیچے آگئی۔
ہوگو شاویز کے بعد اس کی یو نائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی کا امیدوار نکولس مادیور و صرف اس وجہ سے اپنے مد مقابل سے محض 1.6فیصد زیادہ ووٹ لے کر وینزویلاکا صدر منتخب ہوا کیونکہ شاویز کی موت پر اسے ہمدردی کا ووٹ ملاتھا۔ مادورو کے صدر منتخب ہونے کے بعدوینزویلا میں بدترین معاشی بحران رونما ہوا ۔ اس معاشی بحران کے سیاست پر یہ اثرات مرتب ہوئے کہ مادورو کی پارٹی اسمبلی انتخابات میں کل 167میں سے صرف55نشستیں حاصل کر سکی۔ اسمبلی میں اقلیتی پارٹی ہونے کے باوجود مادورو صرف اس وجہ سے آمرانہ طریقوں سے اپنے صدارتی اختیارات کا استعمال کرتا رہا کیونکہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد شاویز نے اس طرح کے اقدامات کیے تھے کہ اس کے اطاعت گزاروں کے علاوہ کوئی بھی فوج ، عدلیہ اور بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدوں تک نہ پہنچ پائے۔ اس طرح کے اقدامات کے باوجود مادیورو، وینزویلا کو معاشی اور سیاسی بحرانوں سے محفوظ نہ رکھ سکا ۔ وینزیلا میں 2014ء کی نسبت 2016ء میں افراط زر کی شرح میں 800فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اس معاشی بحران کی وجہ سے وینزویلا کے تقریباً30لاکھ لوگ پیدل سرحد پار کر کے ہمسایہ ملک کولمبیا کے راستے ایکواڈور، پیرو اور برازیل میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ معاشی بحران کے بعد وہاں سیاسی بحران اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی اپوزیشن نے اسمبلی کے سپیکر جوآن گوایڈو کو صدر بنانے کا اعلان کرتے ہوئے متوازی حکومت قائم کر لی۔ یہ حکومت کیونکہ امریکہ اور یورپی یونین کے ایما پر قائم ہوئی تھی اس لیے ان ملکوں نے اسے فوراً تسلیم کر لیا۔ سیاسی اور معاشی بحرانوں کے باوجود مادیورو کی حکومت اس وجہ سے ختم نہ ہو سکی کیو نکہ ایک طرف تو اسے روس اور چین کی حمایت حاصل تھی اور دوسری طرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے وینزویلا کی قومی آمدن میں کسی حد تک اضافہ ہوگیا تھا ۔
سال 2019سے2022تک وینزویلا میں مادورو اور گوویڈا کی متوازی حکومتیں قائم رہیں اور دونوں گروہوں کے درمیان کسی قسم کا مکالمہ ممکن نہ ہو سکا ۔ اس دوران یہ ہوا کہ مادورو نے بیرونی دنیا کے لیے شاویز کی سخت پالیسیاں جاری رکھنے کی بجائے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا شروع کردی کیونکہ یوکرین جنگ کے بعد امریکہ نے یورپی ملکوں کا روسی تیل پر انحصار ختم کرنے کے لیے وینزویلا کے تیل کی عالمی منڈی میں برآمد پر عائد پابندیاں نرم کر دی تھیں۔ اس نئی پیشرفت کے بعد متحدہ اپوزیشن نے وینزویلا میں بننے والی گویڈا کی متوازی حکومت کی حمایت واپس لیتے ہوئے اسے کے خاتمے کا اعلان کر دیا اور مادورو کی حکومت کو اس شرط پر تسلیم کیا کہ وہ 2024ء میں وہاں صاف و شفاف اور سب کے لیے قابل قبول انتخابات منعقد کرائے گا۔ مادورو نے 2024ء کے الیکشن میں خود کو کامیاب کروانے کے لیے جو بدترین دھاندلی کی اس کے حق میں اسی طرح کچھ نہیں کہا جاسکتا جس طرح وینزویلا پر امریکی حملے کا دفاع ناممکن ہے ۔ مادورو کی دھاندلی کرنے جیسی ناعاقبت اندیشیوں کو جواز بنا کر امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کیا ہے۔ امریکہ نے جو حملہ کیا اسے نہ کوئی روک سکتا تھا اور نہ کسی نے روکا، ہاں اگر مادورو اپنے اقتدار کو ناجائز طول دینے کے لیے حد سے نہ گزرا ہوتا تو کم از کم امریکہ اتنی آسانی سے وینزویلا کے وسائل پر قبضہ نہ کر پاتا جس طرح وہ اب قابض ہو گیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button