عالمی معیشت

عالمی معیشت
تحریر: یاسر دانیال صابری
دنیا کی معیشت کو اگر ایک جسم سمجھا جائے تو اس وقت یہ جسم قرض کے بوجھ تلے ہانپ رہا ہے۔ امریکہ، جو خود کو دنیا کا سب سے طاقتور ملک کہلاتا ہے، 36ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے۔ چین 15ٹریلین، جاپان 10ٹریلین، جرمنی اور برطانیہ تین تین ٹریلین، اور فرانس ساڑھے تین ٹریلین ڈالر کے قرض تلے دبا ہوا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جنہیں ہم ترقی یافتہ، مضبوط اور خودمختار سمجھتے آئے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ زمین پر شاید ہی کوئی بڑی ریاست ایسی ہو جو قرض کے شکنجے میں نہ ہو۔
عالمی سطح پر مجموعی قرض 317ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ کوئی معمولی عدد نہیں۔ یہ رقم دنیا کی مجموعی سالانہ پیداوار، یعنی عالمی جی ڈی پی، کے تقریباً 330فیصد کے برابر ہے۔ سادہ الفاظ میں اگر پوری دنیا تین سال تک ایک پیسہ بھی خرچ نہ کرے، تب جا کر یہ قرض ادا ہو سکتا ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ قرض کتنا ہے، اصل سوال وہ ہے جو کبھی پوچھا ہی نہیں جاتا اگر سب مقروض ہیں تو قرض دینے والا کون ہے؟۔
یہ سوال پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ ہم برسوں سے یہی سنتے آ رہے ہیں کہ ’’ ملک پر قرض بہت زیادہ ہو گیا ہے‘‘، ’’ آئی ایم ایف کے بغیر گزارا نہیں‘‘ ، ’’ دوست ممالک سے قرض لینا ناگزیر ہے‘‘۔ مگر کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ قرض آخر جاتا کہاں ہے؟، اگر دنیا پر 317ٹریلین ڈالر کا قرض ہے تو پھر اتنی ہی مالیت کے اثاثے کسی نہ کسی کے پاس موجود ہیں۔ وہ کون ہے؟۔
یہ سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ جدید مالیاتی نظام وہ نہیں جو ہمیں اسکولوں اور عام بیانات میں سمجھایا جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض ایسے کام کرتا ہے جیسے ایک شخص دوسرے کو پیسے ادھار دے دے۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہے۔
جب آج کوئی حکومت قرض لیتی ہے تو اکثر صورتوں میں وہ پیسہ پہلے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔ قرض لینے کا عمل ہی پیسہ پیدا کرتا ہے۔ حکومت بانڈ جاری کرتی ہے، مرکزی یا کمرشل بینک وہ بانڈ خریدتے ہیں، اور کمپیوٹر میں محض چند اندراجات کے ذریعے اربوں اور کھربوں ڈالر ’’ وجود‘‘ میں آ جاتے ہیں۔ یہ پیسہ کسی فیکٹری میں نہیں بنا، کسی کان سے نہیں نکلا، یہ صرف اعداد ہیں، جو بیلنس شیٹس پر لکھ دئیے جاتے ہیں۔
مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اصل رقم تو پیدا ہو جاتی ہے، مگر اس پر جو سود واجب الادا ہوتا ہے، وہ پیدا نہیں کیا جاتا ۔ اگر ایک ٹریلین ڈالر 5فیصد سود پر لیے جائیں تو ہر سال 50ارب ڈالر اضافی ادا کرنے ہوں گے۔ یہ 50ارب کہاں سے آئیں گے؟ یا تو مزید قرض لے کر، یا عوام پر ٹیکس بڑھا کر۔ یوں ایک ایسا دائرہ بنتا ہے جس سے نکلنا ممکن نہیں رہتا۔
یہ کوئی حادثہ نہیں۔ یہ ایک دانستہ ڈیزائن ہے۔ ایسا نظام جہاں قرض کبھی مکمل ادا نہ ہو سکے، جہاں سود ہمیشہ باقی رہے، اور جہاں دولت آہستہ آہستہ اوپر کی طرف منتقل ہوتی رہے۔
اب اگر ہم اس سوال پر واپس آئیں کہ قرض کس کے پاس ہے، تو جواب ہمیں چار بڑی سطحوں پر ملتا ہے۔ پہلی سطح مرکزی بینکوں کی ہے۔ دنیا کے بڑے مرکزی بینک کھربوں ڈالر کے حکومتی بانڈز اپنے پاس رکھتے ہیں۔ فیڈرل ریزرو، بینک آف جاپان، یورپی مرکزی بینک، یہ سب حکومتوں کے بڑے قرض خواہ ہیں۔ مگر یہاں ایک اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔
فیڈرل ریزرو، جسے عام امریکی بھی سرکاری ادارہ سمجھتے ہیں، دراصل مکمل طور پر حکومت کی ملکیت نہیں۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں نجی کمرشل بینک حصہ دار ہیں۔ یہی بینک فیڈرل ریزرو کے حصص رکھتے ہیں اور اس پر منافع وصول کرتے ہیں۔ جب حکومت اپنے بانڈز پر سود ادا کرتی ہے تو وہ سود بالآخر انہی نجی مالیاتی اداروں تک پہنچتا ہے۔
یہی ماڈل دنیا کے کئی حصوں میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ بینک آف انگلینڈ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، تو پتا چلتا ہے کہ کس طرح ریاستی ضروریات کے نام پر نجی سرمایہ کاروں کو مستقل منافع کی ضمانت دی گئی۔ ریاستیں قرض لیتی رہیں، عوام ٹیکس دیتے رہے، اور مالیاتی طاقت چند اداروں کے ہاتھ میں مرتکز ہوتی چلی گئی۔
میرے ملک کی کہانی اس سے مختلف نہیں۔ ہم آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر اداروں سے قرض لیتے ہیں۔ ان قرضوں کے ساتھ شرائط آتی ہیں۔ بجلی مہنگی کرو، گیس مہنگی کرو، ٹیکس بڑھائو، سبسڈی ختم کرو۔ عوام کی زندگی مشکل ہوتی جاتی ہے، مگر قرض کم نہیں ہوتا۔ کیونکہ اصل مسئلہ قرض کی مقدار نہیں، بلکہ نظام کی نوعیت ہے۔
پاکستان میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ہم بدانتظامی کی وجہ سے مقروض ہیں۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے، مگر پوری حقیقت نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے عالمی مالیاتی نظام کا حصہ ہیں جو خود قرض پر کھڑا ہے۔ جہاں ترقی کا مطلب بھی قرض ہے، اور استحکام کا راستہ بھی قرض سے ہو کر جاتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری میرے قارئین محترم احباب گلگت بلتستان و پاکستانیوں کہ قرض دینے والے صرف ادارے نہیں، بلکہ انتہائی امیر افراد بھی ہیں۔ دنیا کے چند فیصد لوگ، جو سرمایہ رکھتے ہیں، وہی اصل قرض خواہ ہیں۔ پنشن فنڈز، ہیج فنڈز، انشورنس کمپنیاں یہ سب حکومتی قرض میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ حکومتیں محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس ٹیکس لگانے کی طاقت ہوتی ہے۔ یوں ریاست عوام سے پیسہ نکال کر سود کی شکل میں ان اداروں اور افراد تک پہنچاتی ہے۔
یہ دولت کا وہ بہائو ہے، جو نیچے سے اوپر کی طرف جاتا ہے۔ غریب، متوسط طبقہ، اور کمزور معیشتیں مسلسل قربانی دیتی ہیں، جبکہ مالیاتی اشرافیہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے میرا قارئین کہ کیا یہ نظام ہمیشہ چل سکتا ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ جب قرض اپنی حد سے بڑھ جاتا ہے، جب عوام کا بوجھ ناقابل برداشت ہو جاتا ہے، تو یا تو نظام بدلا جاتا ہے یا وہ خود ٹوٹ جاتا ہے۔ کبھی جنگوں کے ذریعے، کبھی مالیاتی بحرانوں کے ذریعے، اور کبھی سماجی بغاوتوں کے ذریعے۔
پاکستان کے لیے ہمارے لیے اس میں ایک سبق ہے۔ ہم صرف یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’ ہمارے حکمران خراب ہیں‘‘ یا ’’ ہماری بیوروکریسی ناکام ہے‘‘۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسے نظام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمیں مسلسل مقروض رکھتا ہے؟، کیا ہم متبادل راستوں پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں؟، مقامی پیداوار، علاقائی تجارت، سود سے پاک مالیاتی ماڈلز یہ سب خیالی باتیں نہیں، بلکہ زندہ حقیقتیں ہیں جن پر دنیا کے مختلف حصوں میں تجربات ہو رہے ہیں۔
میرے یہ سازشی الفاظ نہیں، بس ایک سادہ سوال اٹھانے کی کوشش ہے اگر سب مقروض ہیں تو قرض دینے والا کون ہے؟۔ جب تک ہم اس سوال کا سامنا نہیں کریں گے، ہم ہر بجٹ، ہر قرض پروگرام، اور ہر معاشی اصلاح کے بعد بھی وہیں کھڑے رہیں گے جہاں تھے قرض کی قطار میں۔
معیشت صرف اعداد کا کھیل نہیں، یہ طاقت کا کھیل ہے۔ اور طاقت ہمیشہ اس کے پاس ہوتی ہے جس کے پاس دعویٰ ہوتا ہے۔ آج دنیا پر 317ٹریلین ڈالر کے دعوے ہیں۔ جب تک ہم یہ نہیں جانیں گے کہ یہ دعوے کس کے ہاتھ میں ہیں، تب تک ہم خود کو آزاد معیشت کہلوانے کے حق دار نہیں۔
یہ سمجھنا اب معاشیات کا مضمون نہیں رہا، یہ بقا کا سوال بن چکا ہے۔
جہاں تصویر سے کوئی مقصد نہیں پڑھنے اور متواجہ دلانے کی کوشش ہے۔





