اسلام آباد میں بلدیاتی جمہوریت کی معطلی

اسلام آباد میں بلدیاتی جمہوریت کی معطلی
تحریر: رفیع صحرائی
’’ جمہوریت اوپر سے نہیں، نیچے سے مضبوط ہوتی ہے۔ جو حکومت نچلی سطح پر عوام کو بااختیار بنانے سے خوف زدہ ہو، وہ دراصل اپنی کمزوری کا اعتراف کرتی ہے‘‘
خبر یہ ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر موخر کر دئیے گئے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کی منظوری دے کر نہ صرف مقامی حکومت کے قیام کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے بلکہ جمہوری تسلسل پر بھی ایک سنجیدہ سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اجلاس میں پنجاب طرز کے بلدیاتی نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور اسے نافذ کرنے کے لیے نئی قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کا جاری کردہ انتخابی شیڈول غیر مثر ہو گیا ہے۔ یہ بالکل وہی طرزِ عمل ہے جو عمران خان نے اختیار کیا تھا جب انہوں نے پنجاب میں بہترین انداز میں چلتے ہوئے بلدیاتی اداروں پر کلہاڑا چلایا تھا اور پھر قانون سازی اور اصلاحات کے نام پر بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کرتے رہے تھے۔
بلدیاتی انتخابات کی مسلسل تاخیر کے باعث وفاقی دارالحکومت میں منتخب چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز کی عدم موجودگی برقرار ہے۔ نتیجتاً تمام انتظامی اور مالی اختیارات بدستور بیوروکریسی کے پاس ہیں۔ مقامی سطح پر عوام کی نمائندگی نہ ہونے سے ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں، عوامی شکایات کے ازالے کا کوئی موثر فورم موجود نہیں اور ترقیاتی فنڈز کے غیر شفاف اور مرکزی استعمال کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140۔Aواضح طور پر صوبوں اور وفاقی علاقوں میں بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کو لازم قرار دیتا ہے۔ بار بار انتخابات موخر کرنا آئین کی روح کے منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔ اگر ایسا ہوا تو حکومت کو نہ صرف قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ اس کی جمہوری ساکھ بھی متاثر ہو گی۔
حکومت کا موقف ہے کہ وہ پنجاب طرز کا بلدیاتی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ خود پنجاب میں کون سے بلدیاتی انتخابات کروا لیے گئے ہیں؟ وہاں بھی مقامی حکومتیں عملاً غیر فعال ہیں۔ مجوزہ نظام میں براہِ راست منتخب میئر کے اختیارات محدود، ضلعی سطح پر کنٹرول بڑھانے اور ایڈمنسٹریشن کے کردار کو مضبوط کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختیارات عوام کے بجائے افسر شاہی کے ہاتھ میں دینے کا ایک اور انتظام کیا جا رہا ہے۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی پنجاب حکومت مختلف حیلے بہانوں سے بلدیاتی انتخابات کو ٹالتی آ رہی ہے۔
اب اسلام آباد میں بھی ایک مثر تاخیری حربہ استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے نیا قانون بنے گا، پھر اس کی منظوری ہو گی، اس کے بعد الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرے گا اور یوں انتخابات کا عمل کئی ماہ بلکہ ممکنہ طور پر برسوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ یہ تمام مراحل اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ حکومت کی نیت بلدیاتی انتخابات کرانے کی نہیں بلکہ انہیں موخر رکھنے کی ہے۔
یہ طرزِ عمل نیا نہیں۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی پنجاب میں چلتے ہوئے بلدیاتی نظام کو ختم کر کے اصلاحات کے نام پر انتخابات میں تاخیر کی، حتیٰ کہ ان کی حکومت بھی ختم ہو گئی مگر بلدیاتی جمہوریت بحال نہ ہو سکی۔ آج موجودہ حکمران بھی اسی راستے پر گامزن دکھائی دیتے ہیں، جہاں اختیارات کا ارتکاز مرکز میں رکھا جا رہا ہے اور نچلی سطح پر منتقل کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسریاں ہوتے ہیں۔ گراس روٹ لیول سے ابھرنے والے سیاستدان ہی عوامی مسائل، محرومیوں اور زمینی حقائق کا حقیقی ادراک رکھتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے حکومت پیرا شوٹر سیاستدانوں کو مسلط کر کے تمام اختیارات کا محور بنانا چاہتی ہے جس کا نتیجہ عوام اور ریاست کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی صورت میں نکلتا ہے۔ بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی سے شہری منصوبہ بندی، صفائی، پانی، ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر فیصلے نہ ہونے سے شہری احساسِ بیگانگی کا شکار ہوتے ہیں اور جمہوریت محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی بار بار تاخیر دراصل جمہوری کمزوری، آئینی انحراف اور اختیارات کے ارتکاز کی عکاس ہے۔ اگر حکومت واقعی عوامی فلاح اور جمہوری استحکام چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کروا کر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے۔ بصورتِ دیگر یہ تاخیر نہ صرف سیاسی بے اعتمادی کو جنم دے گی بلکہ ریاستی نظم و نسق کو بھی کمزور کر دے گی۔
’’ جمہوریت اوپر سے نہیں، نیچے سے مضبوط ہوتی ہے۔ جو حکومت نچلی سطح پر عوام کو بااختیار بنانے سے خوف زدہ ہو، وہ دراصل اپنی کمزوری کا اعتراف کرتی ہے‘‘۔





