لَا فَتَىٰ إِلَّا عَلِيٌّ، وَلَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَار
لَا فَتَىٰ إِلَّا عَلِيٌّ، وَلَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَار
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
اعلیٰ انسانی صفات وہ چراغ ہیں جن کی روشنی میں انسان کے مقام و منزل کا تعین کیا جاتا ہے۔ تاریخ میں عظمت نہ صرف فتوحات یا منصب سے پہچانی جاتی ہے، بلکہ کردار، فکر اور عمل کے معیار سے ناپی جاتی ہے جو کسی شخصیت کو زمانے سے بلند کر دے۔ علیؓ مولا کی شخصیت انہی معیاروں کی زندہ مثال ہے۔
اب ہم ان کی شخصیت کے آٹھ اعلیٰ انسانی اوصاف کو فرداً فرداً دیکھیں گے، تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ یہ صفات انہیں انسانِ کامل کی منزل تک لے گئی ہیں
علم: علم علیؓ مولا کی شخصیت کی بنیاد ہے۔ آپؓ صاحب منبر سلونی ہیں۔ آپؓ ہی کا فرمان ہے: ’’ علم وہ روشنی ہے جو انسان کے دل و دماغ کو اندھیروں سے نکالتی ہے‘‘۔ یہ علم محض کتابی نہیں، بلکہ عمل اور بصیرت میں ڈھلا ہوا علم ہے۔ رسولِ اکرمؐ کا فرمان: ’’ میں علم کا شہر اور علیؓ اس کا دروازہ ہوں‘‘۔ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ علم تک رسائی علیؓ کے فہم و بصیرت سے ہو کر گزرتی ہے۔ اسی علم نے انہیں یہ ہمت دی کہ حق کو حق کہیں، چاہے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
شجاعت: شجاعت علیؓ مولا کی شخصیت میں ضمیر کی مضبوطی ہے۔ آپؓ کا فرمان ہے: ’’ سچا بہادر وہ ہے جو خوف کے آگے نہیں، بلکہ حق کے لیے ڈٹ جائے‘‘۔ یہ شجاعت محض میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ ہر اُس موقع پر نظر آتی ہے جہاں حق تنہا اور باطل منظم ہو۔ فتح کے بعد بھی انتقام کو اختیار نہ کرنا، اور غصے کے باوجود انصاف قائم رکھنا ہی وہ شجاعت ہے جس نے علیؓ کو میزانِ حق بنایا۔
سخاوت: سخاوت علیؓ مولا کی شخصیت میں اخلاص اور قربانی کی علامت ہے۔ آپؓ کا فرمان ہے: ’’ سخاوت بنا سوال کئے دے دینے کا نام ہے‘‘۔ ضرورت مند کے دروازے پر دستک دینا اور اپنے حصے کا کھانا یتیم اور قیدی کو دے دینا علیؓ کا شیوہ تھا۔ آپؓ نے کبھی دولت کو طاقت نہیں بنایا، بلکہ طاقت کو خدمت اور عطا میں بدل دیا۔
عدل: عدل وہ میزان ہے جس پر علیؓ مولا کی پوری زندگی استوار ہے۔ آپؓ کا فرمان ہے: ’’ عدل یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا جائے‘‘۔ علیؓ کے نزدیک عدل صرف عدالتوں تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ ایک طرزِ زندگی تھا۔ حکومت کے معاملات ہوں یا بیت المال کی تقسیم، آپؓ نے کبھی اپنوں کو غیروں پر ترجیح نہیں دی۔ آپؓ کا عدل ایسا تھا کہ ایک عام شہری بھی خلیفہ وقت کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا تھا۔ یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے کہا گیا کہ ’’ علیؓ اپنی شدتِ عدل کی وجہ سے قتل کر دئیے گئے‘‘۔
انکسار: انکسار علیؓ مولا کی شخصیت کا وہ وصف ہے جو عظمت کے باوجود عاجزی سکھاتا ہے۔ آپؓ کا فرمان ہے: ’’ عظمت وہ نہیں جو لوگوں پر اثر ڈالے، بلکہ وہ جو انسان کو خود پر قابو رکھنا سکھائے‘‘۔ مٹی پر سونے کی وجہ سے رسولِ اکرمؐ نے آپؓ کو ’’ ابو تراب‘‘ کا لقب دیا۔ یہ انکسار ہی تھا کہ آپؓ طاقت کے عروج پر بھی ایک عام انسان کی طرح سادہ زندگی بسر کرتے رہے۔
تقویٰ: تقویٰ علیؓ مولا کی شخصیت کی وہ بنیاد ہے جو دیگر تمام صفات کو صحیح سمت اور توازن فراہم کرتی ہے۔ آپؓ کا فرمان ہے: ’’ تقویٰ وہ ڈھال ہی جو انسان کو ہر فتنہ اور خطا سے محفوظ رکھتی ہے‘‘۔ تقویٰ صرف عبادت کا لباس نہیں، بلکہ علم، شجاعت، سخاوت، انکسار اور اخلاق کی حقیقی طاقت اور اثر کا ضامن ہے۔ بغیر تقویٰ کے علم غرور پیدا کر سکتا ہے، شجاعت ظلم یا جبر میں بدل سکتی ہے، سخاوت ریاکاری بن سکتی ہے، انکسار کمزوری لگ سکتا ہے اور اخلاق صرف دکھاوا رہ سکتا ہے۔ تقویٰ ہی وہ روحانی اور عملی توازن ہے جو ہر صفت کو خالص اور خدا پسند بناتا ہے۔ علیؓ کے لباسِ تقویٰ نے انہیں امام المتقین کا لقب دیا، اور ان کی طاقت، علم، شجاعت اور سخاوت کو حق، عدل اور رحمت کے راستے پر قائم رکھا۔
اخلاق: اخلاق علیؓ مولا کی شخصیت کا وہ وصف ہے جو انسان کو خدا کے قریب کرتا ہے۔ آپؓ اتنے خوش مزاج تھے کہ مخالفین نے اسی شگفتہ مزاجی کو عیب کے طور پر پیش کیا، مگر علیؓ نے واضح کیا کہ ’’ مومن کا دل مغموم ہوتا ہے، مگر چہرہ مسکراتا ہے‘‘۔ یہی حسنِ اخلاق، طاقت اور شجاعت کے ساتھ جڑ کر انہیں روحانی اور انسانی بلندی عطا کرتا ہے۔
حکمت: حکمت علیؓ مولا کی شخصیت میں علم اور عمل کے درمیان پل ہے۔ یہ وہ بصیرت ہے جو جانتی ہے کہ کب بولنا ہے، کب خاموش رہنا ہے؛ کب تلوار اٹھانی ہے اور کب درگزر کو ترجیح دینی ہے۔ علیؓ کا ہر فیصلہ محض درست نہیں، موزوں بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ کا سکوت بھی پیغام بن جاتا ہے اور آپؓ کا اقدام بھی رہنمائی۔ حکمت ہی وہ صفت ہے جس نے علیؓ کے علم کو شدت سے، شجاعت کو حکمتِ عملی سے، اور عدل کو انسانی فہم سے جوڑ دیا۔ اسی لیے علیؓ صرف حق کے علم بردار نہیں، بلکہ حق کے دانش مند امام بھی ہیں۔
یہ آٹھ اوصاف، علم، شجاعت، سخاوت، انکسار، تقویٰ، اخلاق، عدل اور حکمت۔ علیؓ مولا کی شخصیت کے وہ ستون ہیں جن کی روشنی میں ہر پہلو سے آپ کو امام کی مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
علم آپ کے دل و دماغ کی روشنی ہے، شجاعت آپ کے ضمیر کی طاقت، سخاوت آپ کے دل کی کشادگی، انکسار آپ کی عاجزی، تقویٰ آپ کے اعمال و افعال کا توازن، اخلاق آپ کے رویے کی نزاکت، عدل آپ کی شخصیت کا وہ معیار ہے جو ہر فیصلے کو حق کے مطابق رہنے دیتا ہے۔
امام شافعیؒ کا قول: ’’ میں اس ہستی کے بارے میں کیا کہوں جن میں تین صفتیں ایسی جمع تھیں جو کسی بشر میں جمع نہیں ہوئیں: فقر کے ساتھ سخاوت، شجاعت کے ساتھ تدبر و رائے اور علم کے ساتھ عملی کار گزاریاں۔
علیؓ کی عظمت اس بات میں نہیں کہ آپؓ میں بہت سی صفات جمع تھیں، بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ جس صفت پر بھی نظر ڈالیں، وہی صفت امام بن کر سامنے آتی ہے۔ علیؓ کی شخصیت میں کوئی وصف الگ تھلگ یا تنہا نہیں؛ ہر صفت دوسری صفت کو سنبھالتی، نکھارتی اور مکمل کرتی ہے۔
اگر علم سے حلم نکال لیا جائے تو وہ محض معلومات کا انبار رہ جاتا ہے، ہدایت نہیں بنتا۔
علیؓ کا علم اس لیے امام ہے کہ وہ فیصلہ بھی دیتا ہے، سمت بھی دکھاتا ہے اور خود احتسابی بھی سکھاتا ہے۔
اگر عدل سے رحمت نکال دی جائے تو وہ سختی اور جبر بن جاتا ہے، انصاف نہیں رہتا۔
علیؓ کا عدل اس لیے میزانِ حق ہے کہ وہ انسان کو کچلتا نہیں، انسان بناتا ہے۔
اگر شجاعت سے تقویٰ نکال دیا جائے تو وہ طاقت کا نشہ بن جاتی ہے، حق کا دفاع نہیں۔
علیؓ کی شجاعت اس لیے پیشوا ہے کہ وہ تلوار سے پہلے ضمیر کو کھڑا کرتی ہے۔
اگر سخاوت سے اخلاص نکال لیا جائے تو وہ نمائش ہے، قربانی نہیں۔
علیؓ کی سخاوت اس لیے امام ہے کہ وہ سوال سے پہلے ضرورت کو پہچان لیتی ہے۔
اگر انکسار سے وقار نکال دیا جائے تو وہ کمزوری لگتا ہے، عظمت نہیں رہتی۔
علیؓ کا انکسار اس لیے نمونہ ہے کہ وہ اقتدار کے عروج پر بھی جھکنا سکھاتا ہے۔
اگر اخلاق سے سچائی نکال لی جائے تو وہ بناوٹ ہے، کردار نہیں۔
علیؓ کا اخلاق اس لیے کامل ہے کہ وہ نیت، عمل اور نتیجے کو ایک کر دیتا ہے۔
اور اگر تقویٰ نکال لیا جائے تو یہ سب صفات بکھر جاتی ہیں، مگر علیؓ کا تقویٰ ہر صفت کو حق، عدل اور رحمت کی سمت باندھے رکھتا ہے۔
اسی لیے علیؓ کو کسی ایک وصف کا امام کہنا کم ہے: وہ علم میں بھی امام ہیں، عدل میں بھی، شجاعت میں بھی، سخاوت میں بھی، انکسار میں بھی، اخلاق میں بھی، کہ جس صفت پر نظر ڈالیں، وہی صفت امامت کا اعلان کرتی ہے۔ جب تاریخ کے اوراق پلٹے جاتے ہیں تو کچھ نام وقت کی گرد میں مدھم ہو جاتے ہیں، مگر علیؓ کا نام ایسا ہے جو ہر دور کے ضمیر کو روشن کرتا ہے۔
وہ صرف ایک عہد کے انسان نہیں، ہر عہد کے لیے معیار ہیں۔
جہاں علم ہو مگر تقویٰ نہ ہو، وہاں علیؓ کی کمی محسوس ہوتی ہے: جہاں طاقت ہو مگر عدل نہ ہو، وہاں علیؓ کی یاد ستاتی ہے، اور جہاں عبادت ہو مگر اخلاق نہ ہو، وہاں علیؓ کی سیرت سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
علیؓ ہمیں یہ نہیں سکھاتے کہ صرف حق کا نعرہ لگائو، بلکہ یہ سکھاتے ہیں کہ خود حق بن جائو، کردار میں، فیصلے میں، رویّے میں اور خاموشی میں بھی۔
یہی وجہ ہے کہ لَا فَتَىٰ إِلَّا عَلِيٌّ، وَلَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَار محض نعرہ نہیں، بلکہ انسانی عظمت کا ابدی اعلان ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
جمع کیں قدرت نے تجھ میں وہ صفتیں اے ابوالحسن
خوف سے دشمن تھرائے، پیار سے سائل ہنسے







