جنوبی ایشیا کی سرد ہوائوں میں روشن ایک شمع

جنوبی ایشیا کی سرد ہوائوں میں روشن ایک شمع
تحریر: محمد محسن اقبال
جنوبی ایشیا ایک ایسا خطہ ہے جہاں روایات صرف ورثے میں نہیں ملتیں بلکہ شعوری طور پر محفوظ، محفوظ تر اور زندہ اخلاقی اقدار کے طور پر برتی جاتی ہیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے معاشروں میں رسوم و رواج اجتماعی شعور میں گہرائی تک پیوست ہیں اور سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود سماجی رویّوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتی رہتی ہیں۔ یہ روایات اکثر نظریاتی تقسیم اور ریاستی پالیسیوں سے بالاتر ہو کر اقوام کو ان کی مشترکہ تہذیبی جڑوں کی یاد دلاتی ہیں۔ خوشی کے لمحات میں پرانی رنجشیں ماند پڑ جاتی ہیں اور برسوں کے بچھڑے لوگ ایک دوسرے کی مسرت میں شریک ہونے کے لیے تلخیاں بھلا دیتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات اختلافات اس قدر گہرے ہوتے ہیں کہ تقریبات بھی فاصلے کم نہیں کر پاتیں۔ مگر غم کی کیفیت ایک مختلف کہانی سناتی ہی۔ خاص طور پر موت کے سامنے جنوبی ایشیائی روایت عاجزی، موجودگی اور ہمدردی کا تقاضا کرتی ہے، چاہے ماضی کی رنجشیں کتنی ہی شدید کیوں نہ رہی ہوں۔
یہ طاقتور ثقافتی جبلّت حال ہی میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوئی۔ ان کی وفات محض ایک داخلی سانحہ نہیں تھی بلکہ پورے خطے میں گونج پیدا کرنے والا لمحہ تھی۔ جنوبی ایشیا میں کسی قومی رہنما کی وفات سیاسی وابستگیوں سے بلند ہو کر اجتماعی احترام کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے ۔ پاکستان نے اپنی دیرینہ روایت کے مطابق ہمیشہ برادر اور ہمسایہ ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومت کی آخری رسومات میں شرکت کی ہے اور متعدد مواقع پر اندرونِ ملک سرکاری سطح پر سوگ بھی منایا ہے۔ ایسے اقدامات اس فہم کی علامت رہے ہیں کہ مشترکہ غم کی اخلاقی حیثیت سیاسی اختلافات سے کہیں زیادہ وزن رکھتی ہے۔
بنگلہ دیش، جو ایک برادر اسلامی ملک ہے اور جس کے ساتھ پاکستان تاریخ، عقیدے اور گہرے انسانی رشتوں میں بندھا ہوا ہے، حالیہ برسوں میں کشیدہ تعلقات کا سامنا کرتا رہا ہے۔ یہ تنا حل طلب تاریخی بیانیوں اور سیاسی پیش رفتوں میں جڑا ہوا تھا جس نے دونوں ریاستوں کے درمیان فاصلے اور بداعتمادی کو جنم دیا۔ تاہم حالیہ عرصے میں ان اختلافات پر نظرِ ثانی کا تدریجی عمل شروع ہوا ہے۔ دونوں جانب ماضی کی غلط فہمیوں کے اعتراف اور نعرہ بازی کے بجائے حقیقت پسندی پر مبنی روابط کی ضرورت کو تسلیم کیا جانے لگا ہے۔ ایسے پس منظر میں بنگلہ دیش کے قومی غم پر پاکستان کے ردِعمل نے خاص سفارتی اور جذباتی اہمیت اختیار کر لی۔
انتظامی حکومت کے کسی رکن کو بھیجنے کے بجائے پاکستان نے اپنی نمائندگی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ذریعے کی۔ یہ فیصلہ نہ تو اتفاقی تھا اور نہ محض رسمی۔ جمہوری روایات میں پارلیمان عوام کی اجتماعی آواز کی نمائندہ ہوتی ہے اور پارلیمانی سفارت کاری اکثر اس گہرائی کی حامل ہوتی ہے جو رسمی حکومتی نمائندگی میں کم نظر آتی ہے۔ پاکستان کی پارلیمان کے سربراہ کی موجودگی نے ریاستی سطح کی رسمی کارروائی کے بجائے عوام سے عوام کی یکجہتی کا پیغام دیا۔ اس نے واضح کیا کہ پاکستان کی تعزیت مشترکہ اقدار، ثقافتی احترام اور جمہوری وابستگی سے پھوٹی ہے۔
سردار ایاز صادق نے اپنے پارلیمانی کیریئر کے دوران وقار، رسائی اور اعتدال کی شہرت قائم کی ہے۔ بطور اسپیکر انہوں نے پارلیمانی فورمز، مکالموں اور تبادلوں کے ذریعے پاکستان کو عالمی برادری سے موثر انداز میں جوڑا ہے۔ ان کی سیاست کا انداز قیادت کے انسانی پہلو کی عکاسی کرتا ہے، جو ان کے حلقے میں خوشی اور غم کے مواقع پر ان کی مسلسل موجودگی سے نمایاں ہے۔ شاذ و نادر ہی ایسا ہوا ہے کہ ان کے حلقے میں کسی غم یا مسرت کا موقع ہو اور وہ شریک نہ ہوں۔ یہی ذاتی کردار ان کے عوامی منصب کو صداقت بخشتا اور سرحدوں سے ماورا ان کی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے۔
ڈھاکہ میں تدفین کی تقریبات کے دوران ایک نہایت معنی خیز لمحہ وہ تھا جب سردار ایاز صادق اور بھارتی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر سبرامنیم جے شنکر کے درمیان مختصر ملاقات ہوئی، جو بھارت کی نمائندگی کے لیے موجود تھے۔ پاکستانی اسپیکر کو دیکھ کر بھارتی وزیرِ خارجہ خود آگے بڑھے اور چند نرم الفاظ کا تبادلہ کیا۔ ایک ایسے خطے میں جہاں سفارتی میل جول اکثر احتیاط اور فاصلے سے عبارت ہوتا ہے، یہ اشارہ خاموش مگر گہری علامت کا حامل تھا۔ اس سے سردار ایاز صادق کی مفاہمتی شبیہ کا اعتراف بھی جھلکتا تھا اور یہ تسلیم بھی کہ جمہوری منصب کا احترام دو طرفہ کشیدگی سے بالاتر ہو سکتا ہے۔
اس مختصر تبادلے میں وہ کچھ ہو گیا جسے رسمی سفارت کاری برسوں سے حاصل نہ کر سکی۔ فضا میں جمی ہوئی کشیدگی لمحہ بھر کو ڈھیلی پڑ گئی اور دیرینہ مخاصمت کا بوجھ جیسے کچھ دیر کے لیے ہلکا ہو گیا۔ یوں محسوس ہوا گویا جنوبی ایشیائی سیاست کی منجمد زمین پر پگھلائو کی پہلی نشانیاں ظاہر ہو رہی ہوں۔ ایسے لمحات اگرچہ غیر رسمی اور عارضی ہوتے ہیں، مگر اکثر تبدیلی کے ابتدائی اشارے یہی بنتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ علاقائی امن شاذ ہی عظیم اعلانات سے جنم لیتا ہے؛ اس کی ابتدا انسانی اشاروں، باہمی احترام اور ہمدردی کے مشترکہ دائروں سے ہوتی ہے۔
اس ملاقات کو علاقائی روابط کی تجدید کا ممکنہ پیش خیمہ سمجھنا غیر حقیقت پسندانہ نہیں۔ سارک جیسے ادارے، جو سیاسی تنازعات کے باعث طویل عرصے سے مفلوج ہیں، غربت، ماحولیاتی تبدیلی، تجارت اور سلامتی جیسے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اب بھی ناگزیر ہیں۔ جنوبی ایشیا، جہاں دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی بستی ہے، مستقل بیگانگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اجتماعی غم کے لمحے میں روشن کی گئی خیر سگالی کی ایک چھوٹی سی شمع بھی مکالمے اور تعاون کی راہ روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یوں اس سوگوار موقع پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے اسپیکر سردار ایاز صادق کو بھیجنے کا فیصلہ دانائی، دور اندیشی اور ثقافتی حساسیت کا مظہر تھا۔ اس نے جنوبی ایشیائی روایت کی پاسداری کی، جمہوری اقدار کی تجدید کی، بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو تقویت دی اور خطے میں مفاہمت کے لیے نہایت لطیف انداز میں گنجائش پیدا کی۔ سخت بیانیے اور جامد مقف کے اس دور میں ایسے اقدامات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ غم میں وقار، طرزِعمل میں انکسار اور سیاست میں انسانیت آج بھی امن کے طاقتور ترین اوزاروں میں شمار ہوتے ہیں۔




