Column

حصول مقصد میں رویوں کا کردار

حصول مقصد میں رویوں کا کردار
پروفیسر ڈاکٹر انیس خورشید (1924۔2008)
جہد مسلسل کی ایک لازوال شخصیت
پروفیسر صفدر احمد خان
رویہ سوچ کا ایک مخصوص انداز ہوتا ہے جس کا محور کسی شخص کا کسی اہم مقصد کے حصول کے بارے میں انکی کاوشوں، طریقہ عمل، سوسائٹی میں اس کے منفعت بخش اثرات کا مجموعی تاثر یا نظریے کا احاطہ کرنا ہوتا ہے یوں سمجھ لیجئے کہ اگر کوئی کسی شخص کے بارے میں یہ کہے کہ وہ مثبت ذہنی سوچ رکھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا مثبت ذہنی رویہ (Positive Mental Attitude)ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ نامساعد حالات میں بھی بھلائی کے بارے میں نہ صرف سوچتا ہے بلکہ پُر مقصد عملی اقدام کرنے اور اس کے نتائج کے بارے میں پُر امید رہتا ہے۔ ذہنی رویوں(Mental Attitudes)کے سلسلے میں انتظامی سائنس مینجمنٹ ( Management Seience) کے ماہرین اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ مثبت رویے اپنے مقصد میں کامیابی کی اہم سیڑھی ہیں۔
دینی اور فطری تقاضہ بھی اس نقطہ نظر کی تائید کرتا ہے خود اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرعون کو رشد و ہدایت کے عظیم مقصد کی دعوت دیتے وقت یہ حکم دیا کہ، ترجمہ: ’’ تم اس کو نرم بات کہو شاید وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے ‘‘۔
اس ضمن میں ایک کیس اسٹڈی پروفیسر ڈاکٹر انیس خورشید پیش خدمت ہے جو ڈاکٹر صاحب کے،1) ذہنی مثبت رویے (Mental Positive Attitude)اور 2) ذاتی رویے (Personal Attitude)کا مختصراً احاطہ کرتی ہے۔
1۔ مثبت ذہنی رویہ(Positive Mental Attitude)وژن (Vission)
ڈاکٹر پروفیسر انیس خورشید کی تمام تر جد و جہد کا مقصد لائبریرین شپ کو جدید لائبریری سائنس اینڈ انفارمیشن کے مکمل نظام میں جدید علمی، معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ اپنے عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے وہ ہر زاویے سے کامیاب نظر آتے ہیں۔
خدمات کی پزیرائی
ڈاکٹر انیس خورشید کے مشن کی تکمیل اور ان کی گرانقدر علمی تحقیقی عملی اقدامات پر دنیا بھر سے اہل علم حلقے سے بھرپور پزیرائی ملی جن میں لائبریری انفارمیشن سائنس شعبے کی غیر ملکی اور ملکی قد آور شخصیات شامل ہیں۔ قدر گوہر شاہ داند یا داند جوہری
اعترافات
ڈاکٹر انیس خورشید کا بہت بڑا کارنامہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ بانی پاکستان پر ببلیوگرافی ہے جو دو جلدوں میں اردو اور انگریزی سن 1978میں چھپی۔
حکومت پاکستان نے ڈاکٹر صاحب کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی 1996ء سے نوازا۔ یہ اعزاز حاصل کر نے والے وہ واحد شخصیت ہیں۔
ڈاکٹر انیس خورشید کو جامعہ کراچی لائبریری سائنس و انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی گولڈن جوبلی تقریبات میں 2006ء میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
ہمدرد فائونڈیشن کی طرف سے ( وثیقہ خدمت)۔
کابینہ کمیٹی نے 1982ء میں لائبریریوں کی سہولیات اور دیگر تمام پہلوئوں پر ان کی ترقی و ترویج کے لئے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کی تشکیل دی اور ڈاکٹر انیس خورشید اس کے چیئر مین منتخب کئے گئے۔ اور اس گروپ میں لائبرین شپ نظام پر جامعہ رپورٹ پیش کی جو بیوروکریسی کی نظر ہو گئی۔
نئی نسل کے لئے پیغام
ڈاکٹر انیس خورشید نے اپنی گراں قدر خدمات کے ذریعے نئی نسل کو یہ سبق دیا کچھ بھی نا ممکن نہیں بشرطیکہ خلوص اور سنجیدگی سے محنت کی جائے۔
ذاتی رویہ (Personal Attitude)
جہاں تک ذاتی رویہ (Personal Attitude)کا تعلق ہے، اس سلسلے میں ان کے بڑے صاحبزادے مظہر جمیل سابق پروفیسر آف متھمیٹکس نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ یونیورسٹی لوزیانہ امریکہ اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں: ’’ ڈاکٹر انیس خورشید میرے والد گرامی ہیں۔ میں ان کے ساتھ قربت کے لحاظ سے ان کی مشاہدات کو صحیح طور پر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ ان کی تعلیم نامکمل تھی، انڈیا سے ہائی اسکول کر کے پاکستان آگئے تھے۔ وقت کی ضرورت کی وجہ سے نوکری کرنا بھی ضروری تھا۔ اس لیے پاکستان میں بھی جاب کے ساتھ ساتھ پڑھائی پر دھیان دیا۔ صبح جاب کرنا، اس کے بعد اسلامیہ کالج میں بی اے میں داخلہ لیا، پھر وہاں سے فارغ ہوتے ہی دانشوروں کی محفل جو جبیس ہوٹل میں سجتی تھی، باقاعدگی سے اس میں شمولیت رہتی، پھر گھر پہنچ کر فیملی کی بھی ذمہ داری تھی۔ گھر بمشکل گیارہ بجے سے پہلے نہیں پہنچ پاتے تھے۔ اکثر یونیورسٹی میں دیر تک کام کرنے کی وجہ سے پوائنٹ کی بس مس ہو جاتی تھی۔ تو ملیر کینٹ کی بس میں سفر کر کے گھر پہنچنے کے لیے آدھے گھنٹے سے زیادہ کا پیدل سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ صبح ہم سب بھائی بہن انکے اٹھنے سے قبل اسکول چلے جایا کرتے تھے۔ لیکن وہ ہماری پڑھائی سے غافل نہ تھے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں اچانک باہر سے گھر میں داخل ہوا تو والد صاحب کو ہماری کاپیوں کی جانچ پڑتال میں مصروف پایا۔ وہ باقاعدگی سے ٹیچرز کے کمنٹس پڑھا کرتے تھے اور اس کے مطابق بچوں سے سوال جواب طلب کرتے تھے ۔ چونکہ ان کو پڑھنے پڑھانے لکھنے لکھانے کا شوق تھا، اسی لیے وہ چاہتے تھے کہ بچے بھی اچھی تعلیم حاصل کریں۔ مجھے یاد ہے جب میں نے میٹرک کیا تو میری والدہ بھی خوش تھیں اور چاہتی تھیں کہ میں جاب کروں تا کہ گھر کا سہارا بنوں، لیکن والد صاحب نے کہا ہم اسے اعلیٰ تعلیم دلوائیں گے۔ چوں سے خصوصاً لڑکیوں سے بہت محبت کرتے تھے اور اچھے سے اچھا کھلانے پلانے کی کوشش کرتے تھے۔ والدہ کا بھی بہت خیال کرتے تھے۔ ہماری والدہ نے گھر کو بہت اچھی طرح سنبھالا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دو مرتبہ ہم لوگوں کو دو سے پانچ سال تک چھوڑ کر امریکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے چلے گئے تھے اور وہاں سے باقاعدگی سے گھر کے اخراجات کے لیے پیسے بھیجتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد جب تمام خطوط جمع ہوئے تو علم ہوا کہ انڈیا میں بھی دادا دادی کو پیسے بھیجتے تھے۔ اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ سب کا خیال کرتے تھے اور خاص طور سے پڑھائی کے معاملے میں سب کی ہمت افزائی کرتے تھے اور ان کی کامیابیوں سے خوش ہوا کرتے تھے‘‘۔
ملازمین /ماتحتوں سے رویہ (Relationships with employees)
ڈاکٹر انیس خورشید صاحب اصول کے سخت پابند تھے انہوں نے دیانت داری محنت اور لگن سی کام کر کے لوگوں کے دل جیتے خوشامد پسند قطعی نہ تھے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی میں کافی نقصان اٹھایا مگر اسی جستجو میں کام کرتے رہے اور وہ چاہتے تھے کہ تمام لوگ اصولوں کے پابند ہوں وعدہ خلافی قطعی ناپسند تھی وہ چاہتے تھے کہ اگر آپ کوئی کام کر سکتے ہیں تو ذمہ داری لیں اور وقت پر مکمل کریں چاہے اپنا نقصان کیوں نہ ہو لیکن تاخیر قطعی نا پسند تھی اسی وجہ سے کچھ لوگ ان کے خلاف ہوئے جبکہ غلط کام وہی لوگ کر رہے تھے دیانتداری اتنی تھی کہ اپنے مخالفین کے کاموں میں بھی تاخیر نہ کی ہمیشہ لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے ان کی حمایت کرتے تھے کچھ ملازمین ایسے تھے جنہوں نے ملازمت کا آغاز چپراسی سے کیا اور جاب کے ساتھ ساتھ ایم اے یا ایم ایس سی کر کے کالج میں پروفیسر ہو گئے کوئی تو چیف اکائونٹنٹ بھی بن گیا ایسی کئی مثالیں ہیں ان کا رویہ تمام لوگوں کے ساتھ بڑا مشفقانہ تھا جو لوگ اصول کے پابند تھے محنت سے کام کرتے تھے انہوں نے فائدہ اٹھایا اور ترقی کی، دوسرے لوگ سیاست کرتے رہے۔
طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ
ڈاکٹر انیس خورشید طلبہ کی نظر میں نہایت مقبول اور محترم شخصیت تھے۔ انہیں ایک باصلاحیت استاد ہی نہیں بلکہ شفیق سرپرست کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ ان کی علمی خدمات اور تصانیف آج بھی اہلِ علم اور طلبہ کے لیے استفادے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے لائبریری سائنس کے نصاب میں کمپیوٹر کورس شامل کر کے ایک انقلابی قدم اٹھایا، جس کے نتیجے میں لاکھوں طلبہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔ ان کی انہی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں جامعہ کراچی نے کمپیوٹر لیب کو ان کے نام سے منسوب کیا۔ ڈاکٹر انیس خورشید کو پاکستان میں جدید لائبریری سائنس کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک ممتاز محقق کے طور پر بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کے انتقال کو بیس برس ہونے والے ہیں، مگر آج بھی انہیں عزت، عظمت اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔شعبہ میں اپنے معاون کے ساتھ محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے ان کی بہتری کے لیے ہمیشہ باہر سے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے کوشاں رہتے تھے لیکن کبھی اصولوں پر سودا نہ کیا جس نے محنت اور لگن سے کام کیا اس کی ہمیشہ ہمت افزائی کی اور قدر کی یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی انہیں اچھے لفظوں سے یاد کرتے ہیں۔
ڈاکٹر انیس خورشید اور ان کی اہلیہ محترمہ رقیہ بیگم نے بے انتہا قربانیاں دے کر اپنے بچوں کی بے مثل تربیت کی۔ ان کے بیٹے شفیق اجمل ڈائریکٹر درسِ قرآن ڈاٹ کام ویب سائٹ کا اجرا کیا۔ انہوں نے علمائے کرام کا ایک شاندار گلدستہ ترتیب دیا۔ جید، نامور، مستند، عظیم شہرت کے حامل ان علمائے کرام نے اپنی خدمات سے دینِ اسلام کے فہم اور فروغ میں اپنا گراں قدر حصہ ملایا۔ آج درس قرآن ڈاٹ کام ویب سائٹ دنیا بھر میں ایک انتہائی قابل اعتماد منفرد مقام رکھتی ہے دو دہائی پر محیط درس قرآن ڈاٹ کام سے دنیا بھر کے کروڑوں افراد نے استفادہ کیا۔
مولانا انور غازی کہتے ہیں کہ انسان دنیا میں تین چیزیں چھوڑ کر جاتا ہے ۔
1۔ نیک اعمال
2۔ صدقہ جاریہ
3۔ نیک اولاد
ڈاکٹر انیس خورشید یہ تینوں کام کر گئے۔
خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را

جواب دیں

Back to top button