Column

ابتدا کی ابتدا

ابتدا کی ابتدا
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
انسان جب کائنات کی وسعتوں میں نگاہ ڈالتا ہے، اس کا پہلا رشتہ ’ حیرت‘ سے قائم ہوتا ہے۔ یہ حیرت ابتدا میں خاموش اور مبہم محسوس ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی عقل کی چھلنی سے گزرتی ہے، سوال بن کر ظاہر ہوتی ہے۔ سوال جب سچائی کی تڑپ میں بدلتا ہے تو انسان کو عرفان کی منزلوں کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی لمحہ انسان کی فکری اور روحانی بیداری کا آغاز ہے۔
یہ کیفیت صرف فطری تجسس نہیں بلکہ شعور کی پہلی جھلک ہے، جو انسان کو محض دیکھنے والے سے سوچنے والے میں بدل دیتی ہے۔ ہر منظر، ہر حرکت، ہر وجود اسے یہ سبق دیتا ہے کہ یہ سب خود بخود نہیں ہوا، ہر اثر کے پیچھے کوئی سبب، ہر نظم کے پیچھے کوئی ناظم، اور ہر تخلیق کے پیچھے کوئی خالق موجود ہے
جب انسانی شعور پہلی بار آنکھ کھولتا ہے، تو محض دیکھنا کافی نہیں رہتا۔ آنکھ کھلنے سے پہلے ہی ذہن کا نہاں خانہ یہ محسوس کر لیتا ہے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہے، وہ اتفاق یا خود ارادیت کا نتیجہ نہیں۔ ہر جنبش، ہر ترتیب، ہر وجود کے پیچھے کوئی قوت پوشیدہ ہے۔
اسی لمحے ’ حیرت‘ سوال میں بدل جاتی ہے، اور سوال ہی فکر کی اصل ابتدا ہے۔ انسانی عقل اسی سوال سے پہلا فیصلہ صادر کرتی ہے: ’’ جو خود سے نہیں، وہ کسی نے بنایا ہے‘‘۔
یہ فیصلہ نہ مذہب کی تبلیغ ہے، نہ فلسفے کی ایجاد، نہ سائنس کا دعویٰ؛ یہ انسان کے اندر موجود وہ فطری شعور ہے جو اسے ہر مادی پردے کے پیچھے جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسان محض دیکھنے والا نہیں رہتا بلکہ ایک ’ مفکر‘ بن جاتا ہے، جو ہر چیز کے پیچھے مقصد اور علت تلاش کرتا ہے۔
روزمرہ زندگی اس حقیقت کی روشن گواہیوں سے بھری پڑی ہے
کرسی: جب ہم کرسی دیکھتے ہیں، تو ذہن فوراً اس ’ بڑھئی‘ کی طرف جاتا ہے جس نے اسے تراشا اور شکل دی۔ بے جان مادہ خود کو ترتیب دینے یا ارادہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
تصویر یا فن پارہ: رنگوں، شیڈز اور ترتیب کا ہر توازن مصور کی مہارت، علم اور ارادے کی نشانی ہے۔ رنگ اتفاقاً کینوس پر نہیں بکھرتے۔
چرخہ: ایک چھوٹا سا چرخا بھی خود بخود حرکت میں نہیں آ سکتا، ہر فنکشن کسی ارادے کی مرہونِ منت ہے۔ڈیجیٹل مشین: جدید دور کی مثال میں، ہر کوڈ، ہر فنکشن، ہر مصنوعی فیصلہ کسی انسان کے علم اور ارادے کا نتیجہ ہے۔
اب اسی اصول کو کائنات کی وسعتوں پر لگائیں: کہکشائوں کی گردش، زمین پر زندگی کے پیچیدہ نظام، حیاتیات کے قوانین، یہ سب محض مادے کی خود سری یا اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔ جہاں نظم ہے، وہاں ناظم لازمی ہے؛ جہاں ترتیب ہے، وہاں اس کو قائم رکھنے والا ہونا لازم ہے۔
انسان کے تین بڑے فکری راستے۔۔۔۔۔۔۔ سائنس، فلسفہ اور مذہب۔۔۔۔۔۔ یہاں ایک نقطہ پر آ ملتے ہیں
سائنس: ہر اثر کے پیچھے سبب موجود ہے۔ ہر طبیعیاتی تبدیلی کا ایک جواز ہے، ہر قانون کسی نہ کسی نظام کا مظہر ہے۔
فلسفہ: ہر وجود کسی علتِ اوّل کے بغیر ممکن نہیں، ہر نظام اور ہر حقیقت کسی برتر حقیقت کا محتاج ہے۔
مذہب: ہر تخلیق کے پیچھے ایک خالق موجود ہے، جو ہر شے کو علم و ارادے کے تحت وجود دیتا ہے۔
یہ تینوں مختلف اصطلاحات میں ایک ہی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں: اثر کے پیچھے سبب، ترتیب کے پیچھے ناظم، تخلیق کے پیچھے خالق لازمی ہے۔ انسانی عقل، دل اور شعور سب اس حقیقت پر ہم آہنگ ہیں۔
یہ بات ایک دیہاتی خاتون نے اپنے چرخے کے ذریعے یوں بیان کی: ’’ اگر یہ چھوٹا سا چرخا میرے ہاتھ کے بغیر نہیں چل سکتا، تو یہ پوری کائنات کسی چلانے والے کے بغیر کیسے رواں دواں ہو سکتی ہے؟‘‘۔
یہ استدلال نہ فلسفے کی بھاری اصطلاح ہے، نہ سائنس کا کوئی فارمولہ۔ یہ دل اور عقل دونوں پر اثر کرنے والی فطرت کی زبان ہے، جو ہر ذرّے سے انسان کو خالق کی طرف رہنمائی دیتی ہے۔ انسانی آنکھ اور ذہن ایک ساتھ محسوس کرتے ہیں کہ ہر اثر، ہر ترتیب اور ہر نظم کسی شعور کی پیداوار ہے۔
آج کے دور میں ہم ڈیجیٹل مشین یا مصنوعی ذہانت کی مثال لے سکتے ہیں۔
یہ مشین خود کو تخلیق نہیں کر سکتی، نہ کوڈ خود لکھتی ہے، نہ فنکشن خود سیکھتی ہے۔
اس کی ہر حرکت اور ہر فیصلہ کسی انسانی علم و ارادے کا نتیجہ ہے۔
اگر ایک محدود، مصنوعی اور بے جان مشین بغیر بنانے والے کے ممکن نہیں، تو یہ وسیع، ہمہ گیر اور شعور سے لبریز کائنات، جس کے قوانین اٹل اور پیچیدہ ہیں، بغیر خالق کے کیسے وجود میں آ سکتی ہے؟
جدید سائنس کے مطابق کائنات کا ایک آغاز ہوا، جسے ہم بگ بینگ کہتے ہیں۔
یہ اطلاع ہے کہ مادہ، وقت اور قوانین ہمیشہ سے نہیں تھے، بلکہ انہیں ’ عدم‘ سے ’ وجود‘ میں لایا گیا۔
یہ آغاز بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کے پیچھے ایک ایسا ’ مسبب الاسباب‘ موجود ہے جو وقت و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ بگ بینگ صرف دھماکہ نہیں تھا، بلکہ ایک عظیم منصوبے کی پہلی جھلک تھی، جس نے مادہ، توانائی، وقت اور قوانین کے ذریعے ایک منظم کائنات کو وجود دیا۔
انسانی شعور بھی یہی سبق دیتا ہے کہ ہر اثر کے پیچھے سبب، ہر ترتیب کے پیچھے ناظم، اور ہر تخلیق کے پیچھے خالق لازم ہے۔ دل اور عقل دونوں اس نکتے پر ہم آہنگ ہیں۔ ہر ذرّہ کائنات میں اپنے خالق کی موجودگی کی گواہی دیتا ہے۔سبب، وجود کی پہلی گواہی ہے: تخلیق، خالق کی۔
کرسی، تصویر، چرخہ۔۔۔ یا ایک ڈیجیٹل مشین، سب ایک ہی سبق سکھاتے ہیں: یہ سب خود سے نہیں، اور جو خود سے نہیں، وہ کسی نے بنایا ہے۔
اب چند فکری سوالات ملاحظہ فرمائیں
1۔ اگر مادہ بے شعور ہے، تو اس نے کائنات کے پیچیدہ قوانین کیسے وضع کیے جو زندگی اور تسلسل کے لیے ضروری ہیں؟
2۔ کیا ایک بے جان دھماکے سے خود بخود اتنی منظم کائنات پیدا ہو سکتی ہے جو ہر ذرّے میں قانون رکھتی ہو؟
3۔ انسانی دل میں انصاف، محبت اور سچائی کی فطرت کیا محض کیمیائی عمل ہے، یا یہ اس کے خالق کی عطا کردہ شعوری علامتیں ہیں؟
4۔ اگر ایک چھوٹی سی سوئی کے پیچھے بنانے والے کا ہاتھ تلاش کیا جا سکتا ہے، تو کائنات کی گردش کے پیچھے کسی ناظم کے ہونے کا انکار کیوں ممکن ہے؟
5۔ کیا ایک ارب حروف کو ہوا میں اچھالنے سے خود بخود کوئی منظم اور معنی خیز کتاب مرتب ہو سکتی ہے؟
یوں انسان کی فکری مسافت حیرت سے سوال، سوال سے استدلال، اور استدلال سے یقین تک جا پہنچتی ہے۔ یہ یقین کسی مخصوص عقیدے کی اندھی تقلید نہیں، بلکہ عقل، وجدان اور مشاہدے کی مشترکہ صدا ہے۔ کائنات کا ہر ذرّہ، ہر قانون، ہر ترتیب ایک خاموش مگر واضح گواہی ہے کہ یہ سب خود سے نہیں۔ سبب کے بغیر اثر، ناظم کے بغیر نظم، اور خالق کے بغیر تخلیق نہ ممکن ہے۔ انسان جب تعصب سے آزاد ہو کر کائنات کو پڑھتا ہے تو اسے کسی مناظرے کی نہیں، کسی جبر کی نہیں، بلکہ صرف ایک سادہ سچائی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔۔ کہ یہ وسیع، بامعنی اور باقصد کائنات ایک برتر شعور کی مرہونِ منت ہے۔ اور یہی شعور، یہی مسببُ الاسباب، یہی خالق۔۔۔۔۔ خداوندِ متعال ہے، جس کی پہچان دلیل سے شروع ہو کر یقین پر ختم ہوتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button