سال 2025ایک آئینہ

ذرا سوچئے
سال 2025ایک آئینہ
امتیاز احمد شاد
سال 2025پاکستان کی قومی زندگی میں ایک ایسا سال ثابت ہوا جس نے ہمیں رک کر خود سے سوال کرنے پر مجبور کیا۔ یہ سال محض حکومتی ادوار، سیاسی بیانات یا خبروں کی سرخیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ریاست، معاشرے اور فرد، سب کو آزمائش میں ڈالا۔ کہیں نقصانات کا بوجھ تھا، کہیں کامیابیوں کی جھلک، اور کہیں مستقبل کے لیے واضح پیغامات۔ سیاسی سطح پر 2025ء عدم استحکام کی علامت بن کر سامنے آیا۔ اقتدار کی کشمکش، سیاسی تقسیم اور باہمی عدم برداشت نے جمہوری نظام کو کمزور کیا۔ پارلیمان کے اندر تنا اور باہر احتجاجی سیاست نے قومی اتفاقِ رائے کو متاثر کیا۔ اس سیاسی ماحول میں عوامی اعتماد مجروح ہوا اور عام شہری یہ سوال کرتا نظر آیا کہ اصل ترجیح عوامی مسائل ہیں یا سیاسی مفادات؟
تاہم، اس سیاسی ہلچل کا ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا۔ عوام میں سیاسی شعور بڑھا، آئین، قانون اور ریاستی اداروں پر بحث عام ہوئی۔ نوجوان نسل نے سوال کرنا سیکھا اور سماجی رابطوں کے ذرائع نے سیاسی آگاہی کو فروغ دیا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر سیاست نے استحکام کھویا تو قوم نے شعور پایا۔ سماجی محاذ پر 2025ء ایک کڑا امتحان تھا۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت اور تعلیم جیسے مسائل نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا۔ قدرتی آفات اور مختلف حادثات نے قیمتی جانیں لیں، جس سے معاشرہ غم اور اضطراب کا شکار رہا۔ کئی خاندان اجڑ گئے اور کئی گھرانے معاشی دبا کے بوجھ تلے دب گئے۔ لیکن انہی حالات میں پاکستانی معاشرے کی ایک روشن تصویر بھی ابھر کر سامنے آئی۔ مشکل گھڑی میں سماجی تنظیمیں، فلاحی ادارے اور نوجوان رضاکار آگے بڑھے۔ متاثرین کی مدد، عطیات، رضاکارانہ خدمات اور باہمی تعاون نے ثابت کیا کہ پاکستانی معاشرہ آج بھی زندہ دل اور ایک دوسرے کا سہارا بننے والا ہے۔
معاشی میدان میں 2025ء خاصا مشکل سال رہا۔ مہنگائی نے قوتِ خرید کو کمزور کیا، درآمدی اخراجات بڑھے اور عام شہری کے لیے بنیادی ضروریات مہنگی ہو گئیں۔ صنعت و تجارت دبا کا شکار رہی اور ریاستی وسائل پر بوجھ بڑھتا گیا۔ اس کے باوجود، اسی معاشی دبا نے نئے مواقع بھی پیدا کیے۔ نوجوانوں نے فری لانسنگ، آئی ٹی سیکٹر اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف قدم بڑھایا۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر، مقامی سطح پر چھوٹے کاروبار اور خود انحصاری کی سوچ نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کی معیشت میں صلاحیت اب بھی موجود ہی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے معاشی آسودگی تو کھوئی، مگر جدت اور خود انحصاری کی راہ پائی۔
عسکری اور دفاعی محاذ پر 2025ء پاکستان کے لیے ایک اہم سال ثابت ہوا۔ خطے میں کشیدگی اور خصوصاً بھارت کی جانب سے جارحانہ رویے کے تناظر میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت اور پیشہ ورانہ تیاری کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ لائن آف کنٹرول پر بروقت اور موثر ردِعمل نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ عسکری کامیابی صرف فوجی برتری تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے پوری قوم کے اعتماد کو مضبوط کیا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ دفاعی لحاظ سے ایک ذمہ دار، مگر مضبوط ریاست ہے، جو جارحیت کا جواب دینا جانتی ہے مگر امن کو بھی ترجیح دیتی ہے۔
سفارتی محاذ پر 2025ء پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ عالمی سیاست کے دبائو، علاقائی تنازعات اور بین الاقوامی چیلنجز کے باوجود پاکستان نے دانشمندانہ سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ عالمی فورمز پر پاکستان نے نہ صرف اپنے موقف کا دفاع کیا بلکہ علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کی بات کی۔ کامیاب سفارتکاری اور مضبوط دفاعی موقف کے نتیجے میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہوا۔ عالمی طاقتوں اور اداروں نے پاکستان کو ایک سنجیدہ اور موثر ریاست کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ بعض مبصرین کے مطابق، تاریخ میں پہلی بار پاکستان عالمی توجہ کا مرکز بنا، جہاں اس کی بات سنی گئی اور اس کے کردار کو تسلیم کیا گیا۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2025ء میں پاکستان نے بہت کچھ کھویا، سیاسی استحکام، معاشی سکون اور کئی قیمتی جانیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے بہت کچھ پایا بھی، قومی شعور، سماجی یکجہتی، عسکری وقار اور سفارتی پہچان۔ یہ سال ہمیں یہ سبق دے گیا کہ قومیں صرف کامیابیوں سے نہیں بنتیں بلکہ آزمائشوں سے گزر کر مضبوط ہوتی ہیں۔ 2025ء پاکستان کے لیے ایک آئینہ تھا جس میں ہماری کمزوریاں بھی نظر آئیں اور ہماری طاقت بھی۔ آنے والے برسوں میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا ہم نے 2025ء کے تجربات سے کچھ سیکھا؟ اگر سیکھ لیا تو یہی سال پاکستان کے لیے ایک نئے آغاز کی بنیاد بن سکتا ہے۔




