
جگائے گا کون؟
ڈیجیٹل دہشت گردوں کو سزا اور قیامت
تحریر: سی ایم رضوان
غرور و گھمنڈ اور نخوت و ماورائی کے خبط میں مبتلا ہر شخص کی یہ نفسیات ہوتی ہے کہ وہ جب سزا اور عذاب سے دوچار ہونے لگتا ہے تو اس کو معذرت اور توبہ یاد آ جاتی ہے جیسا کہ اب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صوبائی معاملات پر بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ اب انہیں فیصل واڈا کی بیان کردہ قیامت کے حالات نظر آ رہے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید آفریدی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا بلکہ یہ ٹاسک محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے حوالے کیا ہے۔ البتہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صوبائی معاملات پر بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لئے تیار ہیں، آنے والے حالات سے خوف کھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو عوامی مفادات کے مطابق پالیسی بنانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملاقات کریں گے، سہیل آفریدی نے اعتراف کیا کہ لاہور کے دورے کے دوران ان کی جانب سے غلط زبان کا استعمال ہوا لیکن وہ عمل کا ردِ عمل تھا، انہوں نے اس غلط زبان کے استعمال پر معذرت بھی کر لی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو جنوری کو پی ٹی آئی کے عاشق سات صحافیوں اور سوشل میڈیا تبصرہ نگاروں کو ان کی غیر موجودگی میں 85،85سال کی سزائیں سنائی ہیں۔ عدالت نے صحافی صابر شاکر، معید پیر زادہ، شاہین صہبائی، وجاہت سعید خان یوٹیوبرز اور سابق فوجی افسران عادل راجہ، حیدر رضا مہدی اور سید اکبر حسین کو نو مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کے مقدمات میں دو، دو بار عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی اس عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ملزمان پر دوسری دفعات کے تحت مجموعی طور پر 15لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ تھانہ آبپارہ میں دائر مقدمے میں صابر شاکر، معید پیر زادہ اور سید اکبر حسین کو جبکہ تھانہ رمنا میں درج ایف آئی آر میں شاہین صہبائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزائیں سنائی گئیں۔ استغاثہ نے مجرموں پر نو مئی کے واقعات کے حوالے سے ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کا الزام عائد کیا۔ اس سے قبل پراسیکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 24گواہان پیش کیے گئے۔ پراسیکیوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ مجرم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اسے سات دن کے اندر اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔ متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی کہ مجرموں کو دستیاب ہوتے ہی گرفتار کر کے جیل بھیجا جائے۔
یاد رہے کہ جولائی 2023ء میں ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف نے فوج اور اس کی قیادت پر مبینہ فیک نیوز کے ذریعہ تنقید کرنے والوں کے لئے ’’ ڈیجیٹل دہشت گرد‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ انہوں نے انتہا پسندوں اور ’’ ڈیجیٹل دہشت گردوں‘‘ کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں کا ہدف پاک فوج ہے۔ یہ دہشت گرد فوج، فوج کی قیادت، فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور کرنے کے لئے فیک نیوز کی بنیاد پر حملی کر رہے ہیں۔
دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی شخص کی اظہار رائے اور تحریر و تقریر کی آزادی وہاں تک محدود تصور کی جاتی ہے۔ جہاں تک کسی دوسرے شخص کی آزادی، اس کی عزت و ناموس اور وقار پر حرف نہ آئے اور جب معاملہ کسی ریاست کی بقا، سلامتی اور قومی مفاد کا ہو تو اس آزادی کی حدود و قیود اور بھی زیادہ محدود ہو جاتی ہیں۔ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے، ایک طرف ریاست کو معیشت کی بحالی کا چیلنج درپیش ہے تو دوسری جانب دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے پوری قوم کو سخت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق کوشاں ہیں، دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے سکیورٹی فورسز جانوں کی پروا کیے بغیر برسر پیکار ہیں۔ ایسے میں قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام بہت ضروری ہے لیکن یہ بڑی تکلیف دہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایک منظم گروہ کافی عرصے سے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھرپور پروپیگنڈہ، طاقت اور وسائل کے ساتھ استعمال کر رہا ہے اور ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا پوری شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔ دنیا میں بھلا کون سی ایسی ریاست ہوگی جو کسی گروہ یا افراد کو اپنے ہی ملک کے ساتھ اس طرح کھلواڑ کرنے کی اجازت دے سکے جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں اور انہیں لگام ڈالنا بہت ضروری ہے۔ دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی حالیہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا کے استعمال اور اس کے صارفین کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال کے مثبت اور منفی دونوں قسم کے پہلوئوں سے انکار ممکن نہیں۔ مثبت پہلو تو یہ ہے کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے بے شمار لوگوں کو آن لائن روزی کمانے، اپنے ذوق کے مطابق مختلف اقسام کی سمعی اور بصری تفریحات سے لطف اندوز ہونے اور مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی معاملات پر کھل کر اظہار خیال کرنے کے مواقع میسر آ گئے ہیں لیکن اس پلیٹ فارم کا ان دنوں پاکستان میں جو سب سے خطرناک اور تشویش ناک پہلو ابھر کر یہ سامنے آیا ہے کہ کچھ ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو پاکستان کی سلامتی و بقا کو خطرے میں ڈالنے کے لئے بڑی بے رحمی سے استعمال کر رہے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان میں انتشار اور انارکی کی صورتحال پیدا کر دی جائے۔ اسی تناظر میں اگر ڈیجیٹل ٹیررازم کی اصطلاح استعمال کی گئی تو وہ کسی طرح بھی غلط نہیں۔ کیونکہ عصر حاضر میں قوموں اور ملکوں کے خلاف جنگوں کے روایتی طریقے اب متروک ہوتے جا رہے ہیں، اس وقت اگر کسی ملک کے خلاف جنگ میں کوئی موثر ترین ہتھیار ہو سکتا ہے تو وہ پروپیگنڈی کا ہتھیار ہے جو اس وقت پاکستان دشمن بھرپور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ قوم کو گمراہ کن خبروں، قیاس آرائیوں اور افواہوں کے ذریعے نہ صرف پاکستان کے مستقبل سے مایوس کر دیا جائے بلکہ اب ان کے حوصلے اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ کھلے عام یہ کوشش کر رہے ہیں کہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان ٹکرائو کی کوئی صورتحال پیدا کر دی جائے تاکہ ان کا مذموم ایجنڈا پورا ہو سکے۔
9مئی کو بظاہر ایک سیاسی ٹولہ نے ملک میں انتشار پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ یہاں تک کہ تب سے لے کر اب تک سوشل میڈیا پر اظہار خیال کی آزادی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے یہ عناصر ریاست اور ریاستی اداروں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ پاکستانی قوم کا شعور قابل تحسین ہے کہ وہ 9مئی کو بھی ان وطن فروشوں کے کسی بہکاوے میں نہ آئے تھے اور بعد ازاں بھی اب تک کی ان کی اسی نوعیت کی ہر سازش بری طرح ناکام ہو رہی ہے لیکن ریاستی اداروں اور عوام کی اس قدر متحمل مزاجی اور برداشت کے باوجود یہ عناصر اپنی حرکتوں سے باز آنے کو تیار نہ ہوئے اور اس وقت بھی شرانگیزی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس قسم کی شرانگیزی کو روکنے کے لئے ڈیجیٹل ٹیرر ازم کی اصطلاح اور اس کا سختی سے سدباب اب بہت ضروری ہو گیا تھا۔ اب جو یہ فیصلہ ہوا ہے وہ وقت کی اشد ضرورت تھا۔
پاکستان میں اخبار نکالنے کے لئے ڈیکلریشن اور ٹی وی چینل کے لئے لائسنس کی شرط ہے، اس حوالے سے ایک منظم طریقہ بھی رائج ہے تاکہ جو لوگ بھی ابلاغ کے ان ذرائع سے خبریں اور دوسری معلومات لوگوں تک پہنچائیں وہ مستند اور تصدیق شدہ ہوں اور ان سے ملک میں انتشار، افراتفری اور فساد نہ پھیلے لیکن سوشل میڈیا کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے، اس پر حکومت اور اس کے کسی ادارے کا کوئی کنٹرول نہیں۔ سوشل میڈیا کے لئے کوئی منظم طریقہ کار اور میکانزم نہ ہونے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ بہت سے لوگ بغیر کسی خوف اور ضابطے کے جو دل چاہتا ہے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں اور سوشل میڈیا کا یہ خطرناک ہتھیار ڈیجیٹل دہشت گردوں کے ہاتھ لگ چکا ہے جو اسے بڑی سفاکی اور چالاکی کے ساتھ پاکستان کی سالمیت اور اسے نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل دہشت گرد کبھی کسی کی پگڑی اچھالتے کبھی کسی کی ٹرولنگ کرتے ہیں حتیٰ کہ اداروں کے سربراہوں کو ننگی گالیاں دینا بھی ان لوگوں نے اپنا حق سمجھ لیا ہے۔ تبھی تو اس روش کو ڈیجیٹل دہشت گردی کا ٹائٹل دی کر اس کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ واضح رہے کہ ڈیجیٹل دہشت گردی کی اصطلاح نئی نہیں ہے بلکہ اس سے قبل اکتوبر 2022ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کے انڈیا میں ہونے والے دو روزہ اجلاس میں ایک دستاویز کی منظوری دی گئی تھی جس میں رکن ممالک نے عہد کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کی ڈیجیٹل صورتوں کی روک تھام اور ان کا مقابلہ کرنے کے اقدامات اٹھائیں گے۔ ڈیجیٹل دہشت گردی میں مقاصد کے حصول کے لئے ڈرون اور سوشل میڈیا کا استعمال اور دہشت گردوں کو آن لائن طریقوں سے مالی وسائل کی فراہمی خاص طور پر قابل ذکر رہی اور نئی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کا دہشت گردی کے لئے استعمال روکنے کے لئے ’’ دِلی اعلامیہ‘‘ نامی دستاویز کی منظوری رکن ممالک کے نمائندوں، اقوام متحدہ کے حکام، سول سوسائٹی کے اداروں، نجی شعبے اور محققین کے مابین گفت و شنید کے متعدد سلسلوں کے بعد انڈیا کے دارالحکومت میں دی گئی۔ اس اعلامیے کا مقصد ڈرون، سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم اور اجتماعی چندے کے غلط استعمال سے متعلق اہم نوعیت کے خدشات کا احاطہ کرنا اور ایسے رہنما اصول ترتیب دینا تھا جن سے اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے واضح کیا تھا کہ ڈیجیٹل کُرے میں ہر انسانی حق کے تحفظ کا عہد کرتے ہوئے ان کمزوریوں کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جو مطلوبہ نتائج کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق موثر کثیرفریقی کوششوں اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ایسے اقدامات کیے جانا چاہئیں جن کی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے میں بیان کردہ اقدار اور ذمہ داریوں پر ہو۔




