Columnمحمد مبشر انوار

توسیع پسندی

توسیع پسندی
محمد مبشر انوار
ہوس اقتدار کی خو ہمیشہ سے حکمرانوں کے دل و دماغ میں رچی بسی رہتی ہے اور موقع کی تلاش ہمہ وقت انہیں اپنے اقتدار میں وسعت کے لئے اکساتی رہتی ہے تاہم بسا اوقات مواقع مثبت ثابت ہوتے ہیں اور بسا اوقات حکمران کسی سراب کا شکار ہو جاتے ہیں اور میسر اقتدار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حکمرانوں کے لئے یہ انتہائی نازک وقت ہوتا ہے کہ وہ ایسی کسی متوقع صورتحال میں حقائق کا کماحقہ ادراک کرتے ہوئے ،اپنے فیصلے سے رجوع کر لیں اور مناسب وقت کا انتظار کر لیں۔ گزشتہ صدی میں مشرق وسطی کی آزادی سے ہم بخوبی واقف ہیں اوراس حقیقت کا بھی ادراک ہے کہ ان مشرق وسطی کی ان ریاستوں نے کس طرح اور کیسے ترقی و خوشحالی کی منازل طے کی ہیں،اور اس ترقی سے قبل کتنے سخت حالات کا سامنا بھی کیا ہے۔ تاہم سب کو علم ہے کہ یہاں معدنیات کے ذخائر کی وسیع مقدار نے ،اس خطے کے حالات کو بدلنے میں جہاں اپنا کردار ادا کیا ہے،وہیں یہاں کے حکمرانوں کی نیت نیتی و خلوص نے ،اپنے شہریوں کے لئے انتہائی سے زیادہ سہولیات مہیا کی ہیں ۔ جس طرح اس خطے کی قسمت معدنی ذخائر نے بدلی ہے،اسی طرح عالمی دنیا کی نظریں سمجھیں یا بدنظریں،وہ بھی اس خطے پر ہی جمی ہیں اور حیلے بہانے سے اس خطے کے امن و امان کو صورتحال کو ایک طرف اسرائیلی خنجر کی صورت خراب کرنے کی کوششیں رہی ہیں تو دوسری طرف درون خانہ ذاتی چپقلش و پرخاش کے بیج بھی حکمرانوں کے درمیان بونے کی کوششیں ہمہ وقت جاری رہی ہیں اور مسلم ممالک کو ایک دوسرے کی سامنے کھڑا کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں ہوا،الگ بات کہ ان ریاستوں کے حکمرانوں نے عقلمندی کا ثبوت دیا اور اپنی ریاستوں تک محدود رہے۔ اگر کوئی پرخاش بہت زیادہ منظر عام پر رہی بھی تو مسلکی حد تک اس کی جڑیں بہت گہری رہی ہیں لیکن الحمد للہ آج اس مسلکی خلیج کو بھی بہت حد تک عبور کر لیا گیا ہے اور دو بڑی مسلم ریاستیں بڑی حد تک ایک دوسرے کے قریب آ چکی ہیں۔سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں،ایران کے خلاف ممکنہ اسرائیلی جارحیت پر اپنا موقف انتہائی واضح طور پر عالمی دنیا کے سامنے رکھ دیا ہی اور کسی بھی قسم کی اسرائیلی جارحیت،جس کے پر اسرائیل تول رہا ہے،قبل ازوقت ہی اس کے پشت پناہوں کو اس امر سے آگاہ کردیا ہے کہ اس مرتبہ سعودی حمایت ایران کے ساتھ ہو گی۔سعودی عرب کے اس اعلان کے بعد،اسرائیلی ممکنہ جارحیت کے غبارے سے کسی حد تک ہوا نکل چکی ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا خطرہ تاحال ٹلا نہیں ہے اور کسی بھی وقت اسرائیل کوئی بھی مہم جوئی کرسکتا ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی اپنے پر پھیلانے کی کوششیں ،کسی اورسمت پیش قدمی کرتی دکھائی دے رہی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے عرب امارات انجانے میں ہی کسی اور کا کھیل ،کھیل رہی ہیں۔ عرب امارات کی جانب سے خطے میں اور خطے سے باہر ایک مخصوص دائرہ کار میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنا اور ان کارروائیوں کو مختلف رنگ دے کر،مقاصد حاصل کرنے کی تگ ودو،خطے میں نہ صرف شدید غلط فہمیاں پیدا کر رہی تھی بلکہ سعودی عرب کی بقاء کے لئے بھی خطرہ بن رہی تھی۔
یہاں اس امر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بہرطور سعودی عرب ایک اہم ریاست ہے اور بالعموم سعودی عرب کی بات بیشتر معاملات میں حتمی سمجھی جاتی رہی ہے ،مشرق وسطیٰ کی ریاستیں ،سعودی عرب کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہیں اور بالعموم ان کی مشترکہ رائے بہرحال سعودی رائے کے ساتھ سمجھی جاتی رہی ہے۔ تاہم چند سال قبل کچھ ریاستوں نے ،اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ،ان ریاستوں کی طرف سے بہت سے معاملات میں،سعودی عرب کی عزت و تکریم بعینہ پہلے جیسی دیکھنے میں نہیں آتی، اور ان ریاستوں کی مختلف امور پر رائے اب مختلف دکھائی دیتی ہے۔ مختلف رائے رکھنے میں قطعا کوئی قباحت نہیں کہ ہر ریاست کے سامنے،اپنی ریاست کے مفادات یقینی طور پر اولین ترجیح رکھتے ہیں اور بطورحکمران،اپنے ریاستی مفادات کو مقدم رکھنا زیادہ اہم ہے اور اسی طرح کسی دوسری ریاست کے لئے بھی اپنے مفادات کا تحفظ کرنا اولین ترجیح ہی ہونا چاہئے لیکن اپنے ریاستی مفادات کے تحفظ میں کسی دوسری پڑوسی ریاست کے مفادات کے ساتھ ساتھ ، اس کے دفاع کو نشانے پر لے آنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں ہونی چاہئے۔ بصد افسوس کہ عرب امارات کی جانب سے اپنے ریاستی مفادات کی بجائے بالواسطہ کسی اور کے مفادات کا تحفظ کرنے کی بو محسوس ہونے پر،سعودی عرب کے واضح انتباہ کے باوجود،متحدہ عرب امارات کی جانب سے،ایک ایسے کھیل میں ملوث ہونا،کسی بھی طور مناسب دکھائی نہیں دیتا۔ بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہ کی اہمیت سے سب بخوبی واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ اس پر کسی بھی ریاست کا کنٹرول ،اسے کس قدر فائدہ پہنچا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود،سعودی عرب،یمن کی اندرونی صورتحال سے کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ،اور یہی چاہتا ہے کہ کوئی اور ریاست بھی یمن کی سرزمین پر کسی بھی حیثیت یا طریقے سے نہ اثرانداز اور نہ ہی سعودی عرب کے لئے کسی قسم کا خطرہ بنے لیکن بدقسمتی سے عرب امارات کی جانب سے ،اس پر کان نہیں دھرا گیا۔ عرب امارات کے بحری جہاز ،جو مبینہ طور پر اسلحہ کی سپلائی، ایسے گروپ کے لئے، لے جارہے تھے، جو واضح طور پر سعودی عرب کے مخالف ہیں،ایسی صورتحال میں سعودی عرب کے لئے خاموش رہنا ،ممکن نہیں تھا لہذا چند دن پہلے،سعودی عرب کی جانب سے ان بحری جہازوں پر فضائی حملہ کرکے ،اس سازو سامان کو سمندر برد کر دیا گیا۔ گو کہ اس فضائی حملہ نے فوری طور پر خطے میں خطرے کے مہیب سائرن بجا دئیے اور یوں محسوس ہونے لگا،جیسے کسی بھی وقت یہاں جنگ چھڑ سکتی ہے۔
خدانخواستہ اگر کسی بھی وجہ سے ان دو برادر اسلامی ممالک میں جنگ چھڑجاتی تو پاکستان کہاں کھڑا ہوتا؟ کہ پاکستان کے ان دونوں ممالک کے ساتھ انتہائی گہرے ،برادرانہ و دوستانہ تعلقات موجود ہیں، ان دونوں ممالک میں سے پاکستان کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑ سکتاکہ ریاست پاکستان کے مفادات کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ برسوں پرورش کرتا ہے زمانہ۔۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا کے مصداق، یہاں بھی تقریبا یہی صورتحال موجود تھی اور تینوں ممالک کو اس کا بخوبی احساس تھا کہ اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں،سعودی عرب کی جانب سے بھی قبل ازوقت پاکستان کو اعتماد میں لینے کے لئے اقدامات ہو چکے تھے جبکہ عرب امارات کے صدر انہی دنوں بالخصوص پاکستان میں موجود تھے اور فیصلہ سازوں سے ان کی ملاقات بھی ہو چکی تھی۔ پاکستان کے لئے یہ قطعا ممکن نہ تھا کہ اس تنازعہ میں کسی ایک ریاست کے ساتھ کھڑا ہوتا بلکہ حالات پاکستان سے کسی اور کردار کا تقاضہ کر رہے تھے ،جو پاکستان نے بخوبی نبھایا بھی اور ایسے ادا کیا کہ تمام معاملہ انتہائی خوش اسلوبی سے نپٹ چکا ہے اور عرب امارات نے بجائے اپنے اقدامات پر جواز پیش کرنے کے،حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ،ایسی کارروائیوں سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور فی الفور اپنے فوجی دستوں کو ان علاقوں سے واپس بلانے کا اعلان کرکے،انتہائی وسعت قلبی و دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔ یوں دو برادر ممالک کے درمیان ،کسی مہم جوئی کے بغیر معاملات احسن طریقے سے طے پاگئے ہیں،اور اس کا سہرا بہرطور پاکستان کے سر ہے جس نے انتہائی دانشمندی سے معاملات کو نہ صرف سنبھالا ہے بلکہ خود کو بھی کسی ناپسندیدہ صورتحال کا شکار ہونے سے بچایا ہے۔ پاکستانی قیادت کا کردار جہاں ایک طرف عالمی سطح پر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اس قدر مثبت ہے تو وہیں دوسری طرف غزہ میں اس کا کردار زیر بحث ہے تو تیسری طرف اندرون ملک ایسے کسی کردار کی عدم موجودگی،سمجھ سے بالا ہے۔ بہرحال جو بھی ہے،اس تنازعہ میں عرب امارات کی جانب سے ،توسیع پسندی کی خاطر جو اقدامات اٹھائے گئے، وہ دریں حالات کسی بھی صورت قابل ستائے ہرگز نہیں کہ ایک طرف غزہ میں اسرائیل غزہ کے شہریوں کی نسل کشی کر رہا ہے تو دوسری طرف عرب امارات حالات سے فائدہ اٹھانے کے لئے، ایسی چالوں میں الجھا ہے کہ کسی طرح اس کی سلطنت میں توسیع ہو سکے، ایسی توسیع پسندی ،برادار اسلامی ملک کے حقوق پر نقب لگا کر یا اس کی بقاء کو کمزور کرکے، صرف اغیار کے لئے فائدہ مند ہے ۔

جواب دیں

Back to top button