وعدے، قراردادیں اور کشمیری تقدیر

وعدے، قراردادیں اور کشمیری تقدیر
تحریر: محمد محسن اقبال
انسانوں کے درمیان تنازعات اتنے ہی قدیم ہیں جتنی خود تہذیب۔ عقیدے، سرزمین، طاقت اور طرزِ فکر کے اختلافات نے بارہا معاشروں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے تنازعات عموماً تین طریقوں سے نمٹائے گئے ہیں: جنگ اور طاقت کے استعمال کے ذریعے، فریقین کی باہمی رضامندی سے مفاہمت کے ذریعے، یا ثالثی اور قانونی فریم ورک کے تحت کسی منصفانہ حل کی تلاش کے ذریعے۔ جب ان میں سے کسی راستے پر بھی فیصلہ کن طور پر پیش رفت نہ ہو، تو تنازع جوں کا توں رہتا ہے، وقت کے ساتھ سخت ہوتا جاتا ہے اور ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے وسط سے دنیا نے تین طویل ترین غیر حل شدہ بین الاقوامی تنازعات دیکھے ہیں: 1947ء سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر کا تنازع، 1948ء سے عرب۔ اسرائیل تنازع، اور 1945ء سے کورین جزیرہ نما کی تقسیم۔ ان میں کشمیر کا مسئلہ سب سے زیادہ دیرپا اور اخلاقی طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک واضح اور تحریری بین الاقوامی وعدہ وابستہ ہے جو پچھتر برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پورا نہیں کیا جا سکا۔
5 جنوری1949ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان نے ایک قرارداد منظور کی جس میں ایک سادہ مگر طاقتور جمہوری اصول کی توثیق کی گئی: ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا، تاکہ کشمیری عوام خود طے کریں کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ۔ یہ قرارداد 13اگست 1948ء کی اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان قرارداد کی تکمیل تھی، جس میں کشمیر پر پہلی پاک۔ بھارت جنگ کے بعد جنگ بندی اور غیر عسکری اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا تھا۔ دونوں حکومتوں نے ان اصولوں کو تسلیم کیا، جس کے نتیجے میں یکم جنوری 1949ء سے جنگ بندی نافذ ہوئی۔ ان قرار دادوں میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے جامع حفاظتی اقدامات درج تھے، جن میں افواج کی واپسی اور تنظیمِ نو، بین الاقوامی وقار کے حامل رائے شماری منتظم کی تقرری، اظہارِ رائے، صحافت اور اجتماع کی آزادی، سیاسی قیدیوں کی رہائی، اقلیتوں کا تحفظ، بے گھر افراد کی واپسی، اور ہر قسم کے جبر و دبائو کے مکمل خاتمے جیسے نکات شامل تھے۔ یوں اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کی جمہوری خواہش کو تصفیے کا مرکز قرار دیا۔
لیکن یہ رائے شماری کبھی نہ ہو سکی۔ غیر عسکری اقدامات کی ترتیب اور عملدرآمد پر اختلافات، اور اس کے بعد مسلسل سیاسی مزاحمت نے اس عمل کو بتدریج منجمد کر دیا۔ دہائیاں گزرتی گئیں، زمینی حقائق بدلتے رہے، مگر بنیادی وعدہ آج بھی تشنہ تکمیل ہے۔ آج کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے، جو تسلیم شدہ مگر غیر حل شدہ بین الاقوامی مسئلے کی ایک نادر مثال ہے۔ ادھر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نسل در نسل لوگ شدید عسکری موجودگی، سیاسی اظہار پر پابندیوں، اور بالخصوص 2019ء میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے خدشات کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ہر سال 5جنوری کو لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری، بیرونِ ملک مقیم کشمیری برادری اور پاکستان میں ان کے حامی اس دن کو حقِ خودارادیت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ ریلیاں، سیمینار، پُرامن احتجاج اور سرکاری بیانات قوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی قرارداد کو یاد دلاتے ہیں اور عالمی برادری سے اس کے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پاکستان حکومتی پیغامات اور تقاریب کے ذریعے اس دن کی باضابطہ حمایت کرتا ہے، جبکہ حقِ خودارادیت کے حامی گروہ مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی اختیار سے مسلسل محرومی کو اجاگر کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ احتجاج کا ایک مہذب اور قانونی طریقہ ہے، مگر ایک ناگزیر سوال اپنی جگہ قائم ہے: کیا کسی قوم سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک ادھورے وعدے کی یاد دہانی نسل در نسل ہمیشہ کرتی رہے؟
تقریباً پچھتر برس سے یہ روایت جاری ہے، جبکہ زمینی حقیقت بتدریج مزید بگڑتی چلی گئی ہے۔ بھارت اس مقف پر قائم ہے کہ جموں و کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے، الحاق حتمی ہے اور یہ ایک دوطرفہ مسئلہ ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی اور کشمیری نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ تنازع اپنی نوعیت میں بین الاقوامی ہے، اقوام متحدہ کی پابند قراردادوں پر مبنی ہے، اور حقِ خودارادیت ایک ناقابلِ تنسیخ حق ہے جسے وقت کے گزرنے یا یکطرفہ اقدامات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
حالیہ مہینوں میں، بالخصوص 9مئی 2025ء کے واقعات کے بعد، پاکستان ایک گہری تبدیلی سی گزرا ہے۔ اس نازک مرحلے پر حالات ایسے تھے کہ پاکستان اپنی صوابدید کے مطابق کسی بھی نوعیت کا ردِعمل دے سکتا تھا، مگر اس نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ایک ذمہ دار ریاست سے متوقع اقدار کو برقرار رکھا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ تصدیق کی کہ بھارت نے جنگ بندی کے حوالے سے ان سے رابطہ کیا تھا۔ بعد ازاں چین کے وزیر خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ بھارت نے جنگ بندی میں کردار ادا کرنے کے لیے چین سے رجوع کیا۔ یہ اعترافات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، جو نہ صرف پاکستان کے متوازن طرزِ عمل کو نمایاں کرتے ہیں بلکہ خطے اور دنیا میں ذمہ داری اور ساکھ کے بارے میں بدلتے ہوئے تاثر کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
اندرونی دبائو کے ایک دور سے نکل کر آج پاکستان عالمی سطح پر زیادہ اعتماد اور وقار کے ساتھ بات کر رہا ہے۔ اس کی آواز کو نئی توجہ کے ساتھ سنا جا رہا ہے، اور یہ تبدیلی قیادت پر ایک اضافی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ محض علامتی یاد دہانیوں سے آگے بڑھ کر عالمی برادری کو دوٹوک انداز میں یہ پیغام دیا جائے کہ کشمیر میں دہائیوں سے جو کچھ ہوتا آ رہا ہے، اسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کو یاد دلانا ہوگا کہ سنجیدہ وعدے کیے گئے تھے، دونوں فریقین نے انہیں قبول کیا تھا، اور باوقار عالمی طاقتوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی کمیشن نے متفقہ طور پر ان کی توثیق کی تھی۔
کشمیر پر اب ایک فیصلہ کن، اصولی اور سفارتی موقف ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ واضح کرنا ہوگا کہ طریقہ کار کی تاخیر اور بیانیے کی تبدیلیاں تحریری قراردادوں کو مٹا نہیں سکتیں اور نہ ہی ایک پوری قوم کی جمہوری امنگوں کو خاموش کر سکتی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں امن اس وقت تک ناپائیدار رہے گا جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ پچھتر برس کی تاخیر محض انصاف سی انکار نہیں، بلکہ یہ عالمی نظام کی اخلاقی ساکھ کا مسلسل امتحان ہے۔



