Column

پاکستان میں معاشی و سماجی ترقی

پاکستان میں معاشی و سماجی ترقی
پاکستان میں معاشی و سماجی ترقی کی رفتار کے حوالے سے حالیہ سروے کے اعداد و شمار نہ صرف خوش آئند ہیں بلکہ مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 2024-25نے ملک کے مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کے پہلوں کو اجاگر کیا ہے۔ اس سروے کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں 97فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ماہانہ اوسطاً 82ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف شہریوں کی مالی حالت میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ملک کی معاشی استحکام اور ترقی کے راستے میں ایک مثبت اشارہ بھی ہے۔ تاہم آمدن میں اضافے کے ساتھ گھریلو اخراجات بھی بڑھے ہیں۔ سروے کے مطابق 2019ء سے 2025ء کے دوران گھریلو اخراجات میں 113فیصد اضافہ ہوا ہے اور آج اوسطاً ماہانہ اخراجات79ہزار روپے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی، جدید زندگی کے تقاضے اور بڑھتے ہوئے معیار زندگی کی وجہ سے شہری اپنے روزمرہ کی ضروریات اور سہولتوں پر زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ خاص طور پر فرنشنگ، گھریلو آلات، ہیلتھ، فوڈز، گڈز اینڈ سروسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو شہریوں کی زندگی کے معیار میں بہتری کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ سروے میں شہریوں کی رہائش کے حوالے سے بھی اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ 2018-19ء میں 84فیصد لوگ اپنے گھروں کے مالک تھے جبکہ موجودہ سروے میں یہ شرح 82فیصد تک کمی کے ساتھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کی تعداد 10فیصد سے بڑھ کر 10.5فیصد ہو گئی ہے، جس کی ایک وجہ بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری علاقوں میں زمین کی قلت ہو سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار حکومت کے لیے ایک موقع ہیں کہ وہ شہری رہائش کے منصوبوں اور سستے ہاسنگ سکیموں پر خصوصی توجہ دے تاکہ شہریوں کے لیے اپنے گھر حاصل کرنا آسان ہو۔ توانائی کے استعمال میں بھی قابل ذکر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ پانچ سال کے دوران صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ 35فیصد سے بڑھ کر 38فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو سطح پر نیچرل گیس، ایل پی جی، بائیو گیس، اور سولر انرجی کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی جانب مثبت اشارہ ملتا ہے بلکہ یہ توانائی کے جدید اور ماحول دوست استعمال کی جانب بڑھنے کا عندیہ بھی دیتا ہے۔ پانی کے استعمال کے حوالے سے سروے میں بتایا گیا ہے کہ ہینڈ پمپ سے پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 24فیصد سے کم ہو کر 22فیصد رہ گئی ہے جبکہ نل کے پانی اور فلٹر شدہ پانی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جس سے شہری آبادی کی صحت اور معیار زندگی بہتر ہونے کے آثار ملتے ہیں۔ البتہ 7فیصد آبادی اب بھی بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے، جو حکومت اور سماجی اداروں کے لیے توجہ طلب مسئلہ ہے۔ڈیجیٹل انقلاب بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ سروے کے مطابق گھریلو سطح پر انٹرنیٹ رسائی 34فیصد سے بڑھ کر 70فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17فیصد سے بڑھ کر 57فیصد ہو گیا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آمدنی کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں ٹک ٹاک سب سے آگے ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے والے 88فیصد لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرنے والے افراد کی تعداد بھی 86فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، جو ملک میں ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ اور آن لائن مارکیٹ کے فروغ کی علامت ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی بہتری کے اشارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ حفاظتی ٹیکہ جات کی مکمل کوریج 68فیصد سے بڑھ کر 73فیصد ہو گئی ہے، جو بچوں اور عوام کی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ تعلیم کے شعبے میں بھی مثبت ترقی ہوئی ہے، جہاں قومی سطح پر شرح خواندگی 60فیصد سے بڑھ کر 63فیصد ہوگئی ہے اور اسکول سے باہر بچوں کی شرح 30فیصد سے کم ہو کر 28فیصد رہ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت کی تعلیمی پالیسیاں اور سماجی اقدامات بچوں کی تعلیم تک رسائی میں مثر ثابت ہو رہے ہیں۔HIESکی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ یہ نہ صرف موجودہ معاشی اور سماجی حالات کا جائزہ فراہم کرتا ہے بلکہ شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 1963ء سے یہ سروے قومی اور صوبائی سطح پر سماجی و معاشی اعشاریوں کی نگرانی کرتا رہا ہے اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs)کے حصول میں پیش رفت کی نگرانی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ 2024-25کا سروے پاکستان میں پہلی مرتبہ مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے منعقد کیا گیا، جس میں 32ہزار گھرانوں کا احاطہ کیا گیا اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے ایک مربوط انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ERP)نظام استعمال کیا گیا، جو سروے کی شفافیت اور درستی کو یقینی بناتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ سروے پاکستان میں معاشی و سماجی ترقی کے مختلف پہلوں کا روشن منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ آمدنی میں اضافہ، گھریلو اخراجات کا توازن، صاف ایندھن اور توانائی کے جدید ذرائع کا استعمال، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رسائی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ البتہ کچھ شعبوں میں بہتری کی ضرورت ابھی باقی ہے، جیسے کہ بیت الخلا جیسی بنیادی سہولتوں تک رسائی اور شہری رہائش کے مسائل، جن پر حکومت کو توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ یہ سروے واضح کرتا ہے کہ اگر پالیسی سازی شواہد اور ڈیٹا پر مبنی ہو تو ملک کے عوام کے معیار زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ HIES 2024-25کی رپورٹ نہ صرف موجودہ حالات کا آئینہ ہے بلکہ آئندہ حکومتی فیصلوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔ آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے پچھلے پانچ سال کے دوران سماجی و معاشی ترقی میں اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔ آمدنی میں اضافہ، تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری، ڈیجیٹل انقلاب، اور صاف توانائی کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ملک ترقی کی راہ پر مستحکم قدموں سے گامزن ہے۔ HIES 2024-25نہ صرف ان کامیابیوں کو دستاویزی شکل دیتا ہے بلکہ آئندہ کے لیے ترقیاتی حکمت عملی کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتا ہے
پاک آذربائیجان سرمایہ کاری معاہدے کے قریب
پاکستان اور آذربائیجان دو ارب ڈالر سرمایہ کاری معاہدہ کے قریب پہنچ گئے، یہ نہ صرف دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا بڑا قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ اس معاہدے کی اہمیت اس میں مضمر ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے نئے افق کھولے گا۔ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان معاشی روابط کی تاریخ میں یہ اہم موڑ ہے۔ آذربائیجان تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے اور اس کی معیشت میں توانائی، انفرا اسٹرکچر اور تیل و گیس کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ سرمایہ کاری اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ توانائی، زراعت اور صنعت میں بھی نئے مواقع فراہم کرے گی۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا آذربائیجان کے وزیر معیشت میکائل جباروف سے فون پر رابطہ اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان حکومت عالمی سطح پر اپنے معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے سرگرم ہے۔ اسحاق ڈار کی جانب سے آذربائیجان کے وزیر کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کی تکمیل کے لیے اقدامات تیز کیے جارہے ہیں، تاکہ اس سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت کو مزید استحکام مل سکے۔اس معاہدے کے تحت آذربائیجان کی طرف سے پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جو نہ صرف پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے اہم ثابت ہوگی بلکہ اس سے پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں کمی آئے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ، یہ معاہدہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا بھی وعدہ کرتا ہے، جو ملک کی معیشت کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کی تلاش میں ہے اور آذربائیجان کی طرف سے آنے والی سرمایہ کاری سے اس شعبے میں بھی بہتری کی توقع کی جارہی ہے۔ آذربائیجان کی طرف سے اس سرمایہ کاری کا قدم دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون کا یہ معاہدہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی سمت درست پکڑی ہے۔ پاکستان کا اقتصادی مستقبل بیرونی سرمایہ کاری، تجارتی تعلقات اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے ہی روشن ہوسکتا ہے اور اس معاہدے سے یہ راستہ مزید واضح ہو گا۔ یقیناً، پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اس معاہدے کا تعلق صرف اقتصادی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی اور سیاسی تعلقات کو بھی مضبوط کرے گا۔ اس کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خطے میں پائیدار ترقی کے لئے کام کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ ایک اہم سنگ میل ہے جو دونوں ممالک کے لیے معاشی ترقی کے نئے دروازے کھولے گا

جواب دیں

Back to top button