تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

کسی بھی حملے کی صورت میں ایرانی افواج جانتی ہیں کہ کہاں نشانہ بنانا ہے ، ایرانی سپریم لیڈر

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

 

اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران دشمن کےسامنےنہیں جھکےگا، ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

 

انہوں نے کہاکہ دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے۔

 

ان کا کہنا تھاکہ جب دکاندار اور تاجر ملک کی مالیاتی صورتحال، کرنسی کی قدر میں کمی، ملکی کرنسی اور غیر ملکی کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو دیکھتا ہے کہ جس کی وجہ سے کاروباری ماحول غیر مستحکم ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے، "میں کاروبار نہیں کر سکتا” وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔

 

آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ملک کے حکام اس کو قبول کرتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ صدر اور دیگر اعلیٰ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایک مشکل کام ہے اور اس میں دشمن بھی ملوث ہے، غیر ملکی کرنسی کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام فطری نہیں بلکہ اس میں دشمن ملوث ہے اور یقیناً اسے روکنا چاہیے۔

 

ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھاکہ احتجاج کرنا مناسب ہے لیکن احتجاج اور شرپسندی میں فرق ہوتا ہے، مظاہرین سے بات کر رہے ہیں اور حکام کو مظاہرین سے بات بھی کرنا چاہیے لیکن شرپسندوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور انہیں گھر کا راستہ دکھانا ضروری ہے۔

 

اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو علم ہونا چاہیے کہ عوامی املاک پر مجرمانہ حملوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا، امریکی صدر ٹرمپ کا پیغام غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے۔

 

ان کا کہنا تھاکہ ماضی کی طرح ایرانی عوام داخلی امور میں کسی بھی مداخلت کو مسترد کریں گے، ایران کی مسلح افواج الرٹ ہیں، مسلح افواج ایرانی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی پر جانتی ہیں کہ کہاں نشانہ بنانا ہے

جواب دیں

Back to top button