
ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پانچویں دن کے احتجاجی مظاہروں میں مزید جانوں کا نقصان ہونے کے اطلاعات ہیں۔
نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی اور انسانی حقوق کی تنظیم، ہنگاو، دونوں نے کہا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر لارڈیگن میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے۔
فارس نے رپورٹ کیا کہ ازنا میں مزید تین اور کوہدشت میں ایک اور شخص ہلاک ہوا، یہ سب ملک کے مغرب میں ہیں۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری جھڑپوں کے دوران گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔بہت سے مظاہرین نے ملک کے سپریم لیڈر کی حکمرانی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کچھ نے بادشاہت کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ملک بھر میں احتجاج کے پانچویں دن، کرنسی کے زوال سے شروع ہونے والی بدامنی کی مزید رپورٹس آئیں۔
برطانوی خبررساں ادارے کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں جمعرات کو مرکزی شہر لارڈیگن، دارالحکومت تہران اور جنوبی فارس صوبے کے مرودشت میں مظاہرے دکھائے گئے ہیں۔
برطانوی خبررساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ ایک اہلکارکے مطابق لارڈیگن میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے مظاہرین تھے یا سکیورٹی فورسز کے ارکان۔ اس نے پڑوسی صوبہ لرستان کے ازنا میں تین ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی تاہم ان کی بھی شناخت نہیں بتائی گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو نے کہا کہ لارڈیگن میں مارے گئے دو افراد مظاہرین تھے، اور ان کے نام احمد جلیل اور سجاد ولامنش کے طور پر بتائے گئے۔ بی بی سی فارسی آزادانہ طور پر اموات کی تصدیق نہیں کر سکا۔
ایک دوسرے واقعے میں سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایران کے پادارانِ انقلاب کا ایک رکن بدھ کی رات مغربی صوبہ لرستان کے شہر کوہدشت میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گیا۔
بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر سکا اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ مرنے والا شخص ان میں سے ایک تھا اور سکیورٹی فورسز نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مزید 13 پولیس افسران اور بسیج کے ارکان پتھر پھینکنے سے زخمی ہوئے۔ بدھ کے روز ملک بھر میں سکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند کر دیے گئے جب حکام نے بظاہر بدامنی کو دبانے کی کوشش میں بینک ہالیڈے کا اعلان کیا







