حکومت کے چکر

حکومت کے چکر
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
ہمارے جیسے ملکوں میں بے خبری کو بھی نعمت سمجھا جاتا ہے۔ سوال کرنے کا رواج نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے دورِ حکومت میں آزادیِ صحافت میسر نہیں رہی۔ سینئر تجزیہ نگار و صحافی حامد میر اور دیگر کئی صحافیوں پر پابندیاں لگتی رہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، ان پر حملے بھی ہوئے، تھانوں میں مار پیٹ کی جاتی رہی۔ صحافیوں اور لکھاریوں کا کیا قصور؟ ان کا کام تو سوال کرنا تھا۔ بہرکیف، میں سمجھتا ہوں کہ سوال کا جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وہ جواب دے، مگر وہ اپنی کمزوری کو دبانے کے لیے اپنی مرضی کے فیصلے کرتی ہے اور آئین کو سامنے نہیں رکھتی۔ اپنی نا اہلی دوسروں پر ڈالتے ہیں ۔
میں آج کل سینئر صحافی رئوف کلاسرا صاحب کی کتاب ’’ آخر کیوں‘‘ پڑھ رہا ہوں۔ اس کتاب میں سرکاری خزانے کی لوٹ مار کے کئی واقعات بیان کیے گئے ہیں، جنہیں پڑھ کر حیران ہو گیا ۔ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے 25بڑے لوگوں کو علاج کے لیے بیرونِ ملک بھیجا۔ جناب طاہر ملک ( والد میجر حسین علی ملک) کے علاج کے لیے عوام کی جیب سے 2ارب روپے خرچ کیے گئے، اور سابق گورنر ( جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ سینٹ کی سیٹ خرید کر ممبر پارلیمنٹ بنے کے ماہر ہیں ) کے علاج پر9لاکھ ڈالر خرچ ہوئے۔ 2ارب روپے ایک فرد کے علاج پر خرچ کیے گئے۔ وہ فرد اس ملک و قوم کے لیے کتنا اہم تھا، یہ سوال بڑا اہم ہے۔ یہ خرچہ اس دور میں کافی زیرِ بحث رہا۔ اتنی بڑی رقم، جس سے کئی ہسپتال تعمیر ہو سکتے تھے، ہزاروں بچے اسکول جا سکتے تھے ۔ یہ رقم ایک کاروباری تاجر کے علاج پر خرچ کی گئی تھی۔
سابق صدر مشرف مرحوم کو دس دفعہ صدر منتخب کرانے کے لیے جو قانونی جنگیں لڑی گئیں، وہ سب کے سامنے ہیں، لیکن ان قانونی جنگوں کی بھاری فیس قومی خزانوں سے ادا کی گئی، وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ یہی تو دکھ کی باتیں ہیں۔ یہی قوم کو تباہی کا باعث ہیں۔ اپنے پروٹوکول اور اقتدار میں رہنے کے لیے غریب عوام کے پیسے کو پانی کی طرح اپنی تسکین کے لیے استعمال کیا گیا۔
آج بھی غریب بچے اسکولوں سے باہر ہیں، مزدوری کر رہے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں آج بھی بیمار کا علاج عزت کے ساتھ ممکن نہیں۔ تعلیمی اداروں کی حالتِ زار سب کے سامنے ہے۔ مشرف مرحوم نے تعلیم کو تقسیم کر دیا، معاشرہ تقسیم ہو گیا۔ یہ روش ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی ہے؟ ابھی بھی سیاسی مقدمات کی بھرمار ہے، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کرنے کے لیے میدان سجایا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے پاس غریبوں کے کیس کا وقت نہیں، کیونکہ حکومتی کیسز کی بھرمار ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور سیاسی اختلافات سے پیدا شدہ مسائل سے عدالتوں کو فرصت نہیں۔جنرل مشرف اور شوکت عزیز نے اپنے دوستوں کے ۶۰ ارب روپے کے کیسز کی فائلیں بند کیں۔ دیگر کئی سیاسی لیڈروں نے استثنیٰ حاصل کیا، لیکن سب کچھ معاف کرانے کے بعد بھی وہ اپنی لوٹ مار سے نہیں رکے، مسلسل لگے ہیں۔ سیاسی مقدمات بھی نہ روک سکے۔ زرعی بنک کے چیئرمین نے بیس ہزار روپے قرضہ نہ دینے کی پاداش میں جس کسان کی زمین نیلام کی ہو گی، وہ کیا سوچے گا جب اربوں روپے کے قرضے معاف کئے جائیں گے؟، یقیناً اس کے بعد کچھ بھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔ جب غریب ایسا سوچے گا، سب کچھ ابھی تک ماضی جیسا ہے، تو پھر کیسی تبدیلی، کیسے نعرے؟۔ سرکار خود کو بدلنا نہیں چاہتی اور عوام کو بدلنے کی کوشش میں ہے۔ اب ایسی خطرناک صورتحال بن چکی ہے کہ قوم کا ہر فرد شارٹ کٹ اور کسی بھی طرح سے جینا چاہتا ہے۔ بڑوں کے ڈکیتیوں نے معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ غریب کے پاس گھر بار چلانے کے لیے کوئی ذریعہ معاش نہیں بچا۔ کراچی میں مزدور ملازمین کے لیے فلیٹ تعمیر کیے گئے جو شہر سے میلوں دور تھے، لاکھوں کی زمین اربوں میں خریدی گی، خوب مال بنایا گیا جہاں نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ ادارے میں بیٹھے قبضہ مافیا نے انہیں ہتھیا لیا۔ غریب خوف کے مارے اپنے فلیٹ چھوڑ کر بھاگے ہیں۔ ایسی صورت میں ریاست کے سخت ایکشن کی ضرورت ہے، جو ابھی تک نظر نہیں آ رہی۔ ابھی بھی وقت ہے ، نیا سال نئی امیدوں لے کر آیا ہے۔





