Column

مسلم دنیا پر ایک اور امتحان آن پڑا

مسلم دنیا پر ایک اور امتحان آن پڑا
محمد اعجاز الحق ( رکن قومی اسمبلی۔ صدر مسلم لیگ ( ضیاء الحق شہید)
اسرائیل نے صومالی لینڈ کی خود ساختہ حکومت کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی میڈیا نے اسے بہت زیادہ اہمیت دی اور اسے اجاگر بھی کر رہا ہے۔ اسرائیل اب صومالی لینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات کے علاوہ سفارتی تعلقات بڑھانا چاہتا ہے۔ تجارت اور معیشت کے شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ اعلان ابراہام معاہدوں کی روح کے مطابق ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام پر طے پائے تھے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ نیتن یاہو اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر اور صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمان محمد عبداللہی نے باہمی تسلیم کے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمان محمد عبداللہی کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ ابراہام معاہدوں میں شامل ہوگا، یہ ساری کی ساری صورت حال ایک نئے امتحان سے کم نہیں ہے اور یہ ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک جن میں ایران بھی شامل ہے، نے اسے مسترد کیا ہے۔ صومالیہ کی حکومت نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کو سختی سے مسترد کیا ہے اور اسے ایک غیر قانونی قدم اور اپنی خودمختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔ صومالیہ کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ صومالی لینڈ جمہوریہ صومالیہ کی خودمختار سرزمین کا ناقابل تقسیم اور ناقابل علیحدہ حصہ ہے، صومالیہ ایک خودمختار ریاست ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ صومالی لینڈ خلیج عدن میں ایک تزویراتی محل ِ وقوع کا حامل علاقہ ہے، اس کی آبادی لگ بھگ ساٹھ لاکھ ہے، یہ شمال مغربی صومالیہ میں واقع ہے جس نے 1991ء سے اپنی خود مختاری کا اعلان کر رکھا ہے، اس کا اپنا آئین، کرنسی، نظام، پارلیمنٹ اور پرچم ہے، تاہم ابھی تک اسے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ سال صومالی لینڈ اور ایتھوپیا کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایتھوپیا کو ساحل کی ایک پٹی بندرگاہ اور فوجی اڈے کے طور پر لیز پر دی گئی، جس پر صومالی کی حکومت نے اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیل کے اس فیصلے پر صومالیہ حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پر پاکستان سمیت اسلامی ممالک نے مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری کیا ہے، مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان شریک تھے، اس کے علاوہ ترکیہ، یمن، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا اور مالدیپ بھی مشترکہ اعلامیے کا حصہ تھے۔ تاہم اسرائیل کی مذمت کرنے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش شامل نہیں، متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش نے امریکی حکومت کے معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کر رکھے ہیں۔
پاکستان نے صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علاقی ’’ صومالی لینڈ‘‘ کی آزادی کو تسلیم کرنے کا اعلان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ایسے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف برادر ملک صومالیہ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان سے پورے خطے کے امن و سلامتی کو بھی نقصان ہو سکتا ہے اور عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات کو مسترد کرے اور خطے میں امن و استحکام کی جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے سے اسرائیل کو روکے۔
یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ اسرائیل ابراہام معاہدے کے تحت اپنے سفارتی تعلقات کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، خود بن یامین نیتن یاہو اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اہراہام معاہدے کی روح تھا۔ صومالیہ لینڈ اپنے جغرافیائی محل ِ وقوع کی وجہ سے اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے، بحیرہ احمر اور باب المندب کی وجہ سے یہ علاقہ عالمی تجارت کا اہم بحری راستہ ہے، جس میں اسرائیل اپنی سلامتی اور دفاع کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ اسرائیل کے اس اقدام سے نہ صرف یہ کہ خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا بلکہ اس سے دیگر شورش زدہ علاقوں اور ملکوں میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے، واضح رہے کہ صومالی لینڈ کی بندرگاہ بربرہ بابْ المندب کے قریب ترین تجارتی و عسکری پوائنٹس میں شمار ہوتی ہے اور یہ محض ایک آبنائے نہیں بلکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان عالمی سپلائی چین اور نہر ِ سویز کی براہِ راست اقتصادی شہ رگ ہے، جس پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا حامل ہونا خطے میں کسی بھی اسٹرٹیجک طاقت کو غیر معمولی سیاسی، عسکری اور معاشی برتری دلا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اسرائیل کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا بھی مظہر ہے۔ مسلم ممالک کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے، محض مذمتی بیان سے کام نہیں چل سکتا بلکہ یہ ایک نئے بحران کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button