Abdul Hanan Raja.Column

سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، پاکستانی پاسپورٹ اور سال نو

سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، پاکستانی پاسپورٹ اور سال نو
عبدالحنان راجہ
پنجاب محض پانچ دریائوں کی ہی سر زمین نہیں بلکہ یہ زندہ دلان کے طور پر معروف بالخصوص لاہور اور اس نے بشمول کشمیر و گلگت بلتستان چاروں صوبوں کی تہذیبوں کو اپنے اندر سمو رکھا ہے اور مینار پاکستان عظمت و وحدت کی علامت۔ پنجاب وہ شجر سایہ دار کہ جس کی ٹھنڈی چھائوں اور میٹھا پھل پاکستان کے ہر صوبے کے ہر باسی کے لیے دستیاب۔ اہل پنجاب اتنے وسیع القلب کہ باوجود لاشوں کے تحفوں کے اس نے کسی صوبے کے لیے عصبیت کا ماحول پیدا کیا اور نہ دل تنگ۔ چھوٹے صوبوں کی تند و تیز تنقید پر بھی کبھی اہل پنجاب کے ماتھے پر شکن نہ آئے اور بڑے بھائی کی حیثیت سے اس نے نہ صرف اپنا وقار برقرار رکھا بلکہ چھوٹوں کی تنقید و تشنین کا جواب ہمیشہ خندہ پیشانی سے ہی دیا۔ وجہ پنجاب کی ثقافت کو عظیم صوفیا بابا فرید گنج شکرؒ، بابا بلھے شاہؒ، میاں محمد بخشؒ، خواجہ غلام فریدؒ اور وارث شاہؒ و شعرا نے سینچا اور اپنی شاعری سے محبت کے پھول بکھیرے۔ معلوم تاریخ کے مطابق پنجاب 7ہزار سال سے علم، امن اور تہذیب و ثقافت کا مرکز رہا اور اس نے کئی قدیمی تہذیبوں کے اثرات اپنے اندر سمو رکھے ہیں۔ سادگی کشادہ دلی اور خندہ پیشانی یہاں کے لوگوں کا طرہ امتیاز اور مہمانوں کا اکرام و تکریم ان کی روایت۔
کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب میں مہمان کے طور پر لاہور پہنچے تو سیاسی مخالفت کو ایک طرف رکھ کر اور اپنے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں شایان شان تکریم دینا پنجاب حکومت پر لازم تھا کہ سہیل آفریدی اولا پاکستانی پھر منتخب وزیر اعلیٰ بالکل ایسے ہی جیسے وزیر اعلیٰ پنجاب، پھر وہ PTIکے راہنما۔ ماضی میں باوجود کشیدہ حالات کے، پنجاب نے اپنے دروازے کسی کے لیے بند نہ کئے تو سہیل آفریدی کے لیے سیکیورٹی کے نام پر دھکم پیل کس طرح مستحسن ہو سکتی ہے ؟۔ پنجاب کی صوبائی وزیر کے بیان نے بھی جلتی کا کام کر کے اہل مروت لوگوں کے دلوں پر بجلیاں گرائیں۔
پنجاب حکومت کے ترجمان اگر کے پی، کے مینا آفریدی ، شفیع جان و دیگر کے اخلاق باختہ بیانات اور،PTIکی جانب سے محترمہ مریم نواز بارے غلیظ مہم کو بطور توجیح پیش کریں تو بھی وضاحت ناقابل قبول کہ بدتہذیبی اور منفی مہم کا جواب کسی طور اسی انداز سے دینا پنجابی روایات کے برخلاف، اور اگر آپ اقدار کے اعلیٰ معیار پر متمکن ہونا چاہتے ہیں تو مخالفت بھی تہذیب و آداب کے دائرے میں اور گھر آئے مخالف مہمان کو زندہ دلان لاہور کی مروت کا احساس دلانا بھی لازم۔
یقین جانیے کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب کاسہ لیسوں اور مفاداتی ٹولے کی باتوں کے برعکس کشادہ دلی اور جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کرتیں تو گزشتہ دو سال میں ان کے صوبہ کے لیے اٹھائے اقدامات و اصلاحات نے ترقیاتی و سیاسی میدان میں ان کا جو مقام بنا دیا تھا یقینا وہ اور بلند ہوتا۔
پنجاب کے بڑے شہروں میں ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں پختونوں کی بڑی اکثریت اپنے پسینے سے پنجاب کی مٹی کو سینچ رہی پے اور اپنی محنت سے پنجاب کی دھرتی کو معاشی استحکام دے رہی ہے۔ بلکہ ہزاروں اب پنجابی خاندانوں کا حصہ۔ پنجاب حکومت اگر سہیل آفریدی کا بطور مہمان شایان شان استقبال کرتی تو نہ صرف پنجاب کی شان بڑھتی بلکہ محترمہ مریم نواز کے قد میں اضافہ بھی ہوتا اور ایسا اقدام موجودہ سیاسی صورتحال میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا تھا۔ یہ تو تھی ہماری خواہش مگر پنجاب حکومت اس پر کس طرح سوچتی ہے اور کس دبائو کا شکار۔ اس بارے وہی بہتر بتا سکتی ہیں کہ ترجمان تو شاید مروت اور معاملہ فہمی کے وصف سے۔۔۔۔۔۔۔!!!!
اہل پاکستان کے لیے اچھی خبر کہ پاکستانی پاسپورٹ نے گزشتہ دو ماہ کے دوران اپنی عالمی رینکنگ میں بڑی چھلانگ لگائی اور اب وہ 91ویں نمبر پر کہ 2020ء سے لیکر 2024ء تک یہ کمزور ترین پاسپورٹ میں شمار ہوتا رہا کہ جس کی ویزا فری یا آن آرائیول رسائی بہت محدود۔ مئی میں تاریخی کامیابی اور فیلڈ مارشل کی موثر سفارت کاری نے یقینا اس میں اہم کردار ادا کیا Arton Capital Passport Indexکی جاری کردہ نئی رینکنگ کے مطابق اب یہ 91ویں پوزیشن پر آن کھڑا ہوا ہے اور اس کے لیے ویزا فری و ان آرائیول ممالک کی تعداد بڑھ کر اب 44ہو گئی ہے۔ یہ بہتری نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ کو مضبوط بنا رہی ہے بلکہ علاقائی تعلقات اور معاشی استحکام کی جانب ایک قدم بھی اور پاکستانی قوم کی عزت و وقار کی بحالی بھی۔
پنجاب کے تیسرے بڑے شہر راولپنڈی میں بلا رکاوٹ سفر کا خواب حقیقت بننے لگا ہے۔ پنجاب حکومت 33ارب روپے کے طویل المدتی پیکیج سے شہر کو سگنل فری کوریڈور میں تبدیل کر رہی ہے۔ کمشنر راولپنڈی انجینئر عامر کھٹک کے مطابق ان پراجیکٹس میں کچہری چوک، جناح پارک، افتخار جنجوعہ روڈ، اینیکس روڈ پر فلائی اوورز اور انڈر پاسز شامل ہیں، نیز عمار چوک کی نئی شکل بھی بنائی جا رہی ہے۔ تین اہم انڈر پاسز پشاور روڈ پر ریس کورس گرائونڈ، آرمی گرائونڈ روڈ اور چیئرنگ کراس پر بنائے جائیں گے۔ جناح پارک کے غیر استعمال شدہ رقبے پر 1.6ارب روپے لاگت سے پارکنگ پلازہ جبکہ صدر اور کینٹ علاقوں میں پانچ اضافی پارکنگ مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ پشاور روڈ کو سگنل فری راستے میں تبدیل کرنے کے لیے تین بڑے انڈر پاسز 2025۔-26ء کے ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ریس کورس گرائونڈ انڈرپاس اور چئیرنگ کراس انڈر پاس بھی تعمیراتی منصوبہ کا حصہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے راولپنڈی رِنگ روڈ کے منصوبے پر بھی کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے تحت گزشتہ ہفتے ڈی جی آر ڈی اے نے مختلف مقامات کا دورہ بھی کیا۔ رنگ روڈ کے پانچ انٹر چینجز، متعدد پل تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ اگر تعمیراتی کام میں رکاوٹ نہ ڈالی گئی تو رنگ روڈ کا افتتاح مارچ میں متوقع ہے۔
2025ء کا سورج غروب ہو چکا اور نئے سال کا طلوع۔ قوم نے کٹھن ماحول میں اگر صبر کا سلیقہ سیکھا اور ناموافق ترین حالات کے تھپیڑوں سے خود کو کندن بنایا ہے تو اب رنجشوں کے ماحول سے نکل کر محبت کی شمع جلانی ہو گی۔ ناکامیوں، نفرتوں اور انتہا پسندانہ رویوں کو ہمالہ کی برف پوش کھائیوں میں دفن کرنا ہو گا کہ بہترین مستقبل آپ کا منتظر۔ بحیثیت قوم 2026ء میں نئے عزم، ولولہ اور یقین کے ساتھ داخل ہوں کہ نئی صبح روشن ہماری منتظر۔

جواب دیں

Back to top button