ایران دہکتے انگاروں پر تنی ہوئی ریاست اور بقا کی جدوجہد

ایران دہکتے انگاروں پر تنی ہوئی ریاست اور بقا کی جدوجہد
قادر خان یوسف زئی
تہران کے بازاروں میں پھیلی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ محسوس ہوتی ہے۔ دسمبر 2025ء کا سورج جب غروب ہواا تو ایران کی سرزمین پر معیشت کے سائے اتنے گہرے ہو چکے تھے کہ اب لفظوں کی جادوگری یا نعروں کی گونج عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ ایران اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف ریاست کی نظریاتی بقا کا سوال ہے اور دوسری طرف ان کروڑوں انسانوں کی سسکیاں، جو مہنگائی کی چکی میں پس کر اب سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ محض احتجاج نہیں، یہ اس عمر رسیدہ نظام کے خلاف ایک سماجی معاہدے کی شکست کا اعلان ہے جس نے دہائیوں تک ‘مزاحمت’ کو ‘معیشت’ پر ترجیح دی، مگر اب یہ توازن برقرار رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ تہران کے در و دیوار اس وقت اضطراب کی زد میں ہیں۔ جب ایرانی ریال ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کھو کر 1.4ملین کی شرمناک سطح پر جا گرا، تو یہ صرف کاغذ کے ایک ٹکڑے کی بے توقیری نہیں تھی بلکہ ایک عام ایرانی کی عزتِ نفس کا جنازہ تھا۔ جب ایک سال میں کرنسی 71فیصد گر جائے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں 72فیصد بڑھ جائیں، تو انقلاب کے استعارے اپنی کشش کھو دیتے ہیں۔
بازارِ تہران سے لے کر شیراز اور اصفہان تک، دکانداروں کا ہڑتال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اب وہ طبقہ بھی بیزار ہو چکا ہے جو روایتی طور پر اقتدار کا سہارا ہوا کرتا تھا۔ طلبہ کا اس معاشی احتجاج میں شامل ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایران کی نئی نسل اب ماضی کے ورثے کے بجائے مستقبل کی روٹی اور آزادی مانگ رہی ہے۔
ایران کی یہ داخلی صورتحال عالمی جیو پولیٹکس سے الگ تھلگ نہیں۔ ستمبر 2025میں اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے اسنیپ بیک(Snapback)نے ایران کی شہ رگ پر دبا مزید بڑھا دیا ہے۔ ایران نے اب تک اپنی علاقائی بالادستی اور محورِ مزاحمت (Axis of Resistance)کے ذریعے خود کو ایک ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پر پیش کیا، لیکن جون 2025 میں ایرانی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں نے اس دفاعی حصار میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ شام میں اسد رجیم کا خاتمہ اور حزب اللہ کی عسکری صلاحیت میں کمی نے تہران کو اسٹریٹجک تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران اپنے محدود وسائل کو ‘دفاعی بجٹ’ پر خرچ کرے یا ‘عوامی ریلیف’ پر؟ بجٹ میں دفاع کے لیے 12ارب ڈالر کی تخصیص اس امر کا ثبوت ہے کہ تہران اب بھی طاقت کے توازن کو عوامی خوشحالی پر مقدم سمجھتا ہے، اور یہی وہ تضاد ہے جو ایران کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر رہا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کی حکومت اس وقت ایک ایسی کشتی کی مانند ہے جو تندوتیز لہروں کے درمیان راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا مظاہرین کے مطالبات کو ‘جائز’ قرار دینا ایک سیاسی لچک تو ہو سکتا ہے، لیکن کیا نظام کے اندر موجود طاقتور حلقے انہیں حقیقی اصلاحات کی اجازت دیں گے؟ ایران کا سیاسی ڈھانچہ ایسا ہے جہاں پارلیمان، عدلیہ اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC)کے مفادات ایک دوسرے سے گرے ہوئے ہیں۔ جب تک آئی آر جی سی معیشت کے 50فیصد حصے پر قابض رہے گی اور جب تک بینکنگ سیکٹر میں اصلاحات کے بجائے اقربا پروری کا دور دورہ رہے گا، تب تک کاغذی منصوبے زمینی حقیقت نہیں بن سکتے۔ سرمایہ داروں کا ایران سے 20ارب ڈالر سے زائد رقم نکال لینا اس عدم اعتمادی کا واضح ثبوت ہے جسے ریاست کا کوئی بھی جبر چھپا نہیں سکتا۔
ایران کی ترجیحات اس وقت ایک مثلث میں گھری ہوئی ہیں۔ پہلی ترجیح معاشی استحکام ہے، جس کے لیے وہ ‘پوشیدہ سبسڈیز’ کو ختم کر کے براہِ راست کیش ٹرانسفر جیسے اقدامات کر رہا ہے۔ لیکن یہ تجربہ ماضی میں بھی کرپشن کی نذر ہو چکا ہے۔ دوسری ترجیح ایٹمی پروگرام ہے، جہاں ایران 60فیصد افزودگی کے ساتھ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ لیکن عالمی پابندیوں کی واپسی نے اس کے لیے تجارتی راستے مسدود کر دئیے ہیں۔ تیسری اور اہم ترین ترجیح نظام کی بقا ہے، جس کے لیے نگرانی کے جدید نظام اور کریک ڈائون کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب خوف کا بت ٹوٹ جاتا ہے، تو ریاست کی آہنی دیواریں بھی ریت کا ڈھیر ثابت ہوتی ہیں۔ ایرانی نوجوانوں کی آنکھوں میں اب وہ خوف نہیں رہا جو 2022ء کی تحریک کے وقت تھا، اور یہی وہ تبدیلی ہے جو تہران کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر رہی ہے۔
مستقبل کا منظر نامہ کیا ہے؟ کیا ایران اس دلدل سے نکل پائے گا؟ اس کا جواب تہران کے پاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے ممکنہ سودے بازی میں چھپا ہے۔ اگر ایران ایٹمی محاذ پر کوئی بڑی رعایت دے کر پابندیوں میں نرمی حاصل کر لیتا ہے، تو شاید اسے آکسیجن مل جائے، ورنہ چین کے ساتھ تیل کی تجارت اور گرے زون اکانومی اسے صرف ‘وینٹی لیٹر’ پر ہی رکھ سکتی ہے۔ ایران اس وقت ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جو نہ مکمل طور پر گر رہی ہے اور نہ ہی سنبھل پا رہی ہے۔ یہ ‘منظم زوال’ کی وہ صورتحال ہے جہاں عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے اور ریاست اپنی دفاعی انا کی تسکین میں مصروف ہے۔
ایران کا بحران اب محض معاشی نہیں رہا بلکہ یہ ایک ‘اعتبار کا بحران’ ہے۔ جب تک ریاست اپنے شہریوں کو یہ یقین نہیں دلاتی کہ ان کی زندگی کی قدر ایٹمی سینٹری فیوجز سے زیادہ ہے، تب تک سڑکوں پر لگی آگ ٹھنڈی نہیں ہوگی۔ ایران کو اپنے اندرونی تضادات کو حل کرنا ہوگا، ورنہ تاریخ کا پہیہ جب گھومتا ہے تو وہ کسی بھی جغرافیائی یا نظریاتی حد کو خاطر میں نہیں لاتا۔ تہران کے پاس وقت کم ہے اور چیلنجز کا پہاڑ سامنے ہے۔ اب فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ‘مزاحمت کا بیانیہ’ بچاتے ہیں یا ‘ایران کا مستقبل’۔
ایران کی داستان اس وقت ایک ایسے المیے میں بدل رہی ہے جہاں ہر گزرتا دن ایک نئی آزمائش بن کر نازل ہو رہا ہے۔ کیا تہران اپنی ترجیحات بدل کر عوام کو گلے لگائے گا یا پھر جبر کا وہی پرانا راستہ اختیار کرے گا جو اب اپنی افادیت کھو چکا ہے؟2026 ء کی یہ سرد ہوائیں ایران کے لیے ایک نئے امتحان کی نوید لے کر آئی ہیں۔





